Daily Taqat

جنابِ والا! کچھ نیا کیجیے۔۔۔

پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی دو ایسی جاعتیں تھیں جنہوں نے پاکستان کے پارلیمانی نظام کو دو سیاستی جماعتوں کا نظام بنا دیا تھا، اس میں نہ تو کسی کو شک ہو سکتا ہے نہ ہی یہ کوئی پوشیدہ راز ہے ۔ باقی تمام سیاسی پارٹیاں ان دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو حکومت و اپوزیشن کرنے میں مددگار ہی رہیں ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ درمیان میں ایک مدت ق لیگ نے مکمل کی لیکن وہ بھی ن لیگ کا ہی ایک ٹوٹا ہوا تارا تھا جو تھپکی سے چمک اُٹھا اور آج وفاق اور صوبہ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کے اتحادی کی صورت میں لشکارے مار رہا ہے۔لہذا جب پاکستان تحریک انصاف نے نعرہ تبدیلی کا لگایا تو عوام کا جم غفیر اس پارٹی کی جانب ٹوٹ پڑا۔ پہلے اس پارٹی کی بھی ناکامی کی وجوہات یہی رہیں کہ یہ دونوں بڑی پارٹیوں کے ساتھ ہی منسلک رہی اور اپنا وجود واضح نہیں کرنا چاہا لیکن اب جب انہوں نے چاہا تو عوام نے بھی کھڑکی توڑ ردعمل دیا اور آج پاکستان تحریک انصاف کی وفاق ، پنجاب ،خیبر پختونخواہ میں مکمل حکومت، بلوچستان میں ملا جلا رجحان اور صوبہ سندھ میں دوسری بڑی جماعت ہے۔ اور تبدیلی کا نعرہ پوری آب و تاب سے گونج رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کو چاہیے تو یہ تھا کہ جس قدر شدت ان کے نعروں میں تھی اتنی ہی شدت ان کے عمل میں نظر آتی لیکن ایک موقع مانگتے مانگتے وہ کسی بھی طرح کی حکمت عملی شاید بنانے کی طرف توجہ نہیں پائے یا انہیں امید ہی نہیں تھی کہ موقع مل جائے گا۔ کرسی ءاقتدار شومئی قسمت کے کنٹینر سے یکسر مختلف ہے ورنہ شاید یہاں بھی صرف نعروں سے کام چل جاتا ۔ لیکن جب اقتدار کا طوق گلے میں ڈال لیا تو معلوم ہوا کہ خزانہ خالی ہو تو اسے بھرا کیسے جائے گا، کچھ معلوم نہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہو رہی ہو تو ان میں اضافہ کیسے ممکن ہو گا، کوئی پالیسی نہیں بنائی تھی۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بطور اپوزیشن جو گرجنا تھا، حکومت میں آکے توازن قائم کیسے رکھ پائیں گے، کوئی جانتا ہی نہیں۔ قرض لینے کے جو طعنے اپوزیشن سے دیے جاتے تھے، خود اقتدار میں آکے اُن سے کیسے بچنا ہے، کسی نے سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ لاکھوں گھروں کا وعدہ انتخابی مہم میں تو کر لیا لیکن عملی طور پر اس منصوبے کے خدوخال کیسے ہوں گے، ابھی تک چوںچوں کا مربہ ہے۔ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، بہت اچھا وعدہ تھا، کر بھی لیا آپ نے لیکن اس وعدے کی تکمیل کیسے ممکن ہو گی کہ جب پہلے ہی ادارے نقصان میں ہیں، کسی نے اس مسلے کو درد سر بنایا ہی نہیں۔ تعلیمی نظام جسے ہماری غلط پالیسیاں دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں، اُسے ہر پاکستانی کو مفت دینے کا آپ کا جذبہ یقینا قابل دید لیکن یہ ہو گا کیسے ، کسی کو نہیں معلوم۔ مواصلات کا نظام اصلاحات کا طالب ہے، بالکل درست، لیکن اس میں اصلاحات آ کیسے سکتی ہیں، اپوزیشن میں رہتے ہوئے اس پہ کبھی غور ہی نہیں کیا۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور کسان طبقہ ہی پس رہا ہے، اکثر اپوزیشن کے دنوں میں آپ کے نعروں کی گونج میں سنا، لیکن آپ اقتدار میں آکے کسانوں کو کیسے مراعات دیں گے اس بارے میں فی الحال اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ دیکھیں جی ڈالر کی قیمت دن بدن بڑھ رہی ہے یہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے، آپ اپوزیشن کے دنوں میں یہ بات دوہراتے تھے، لیکن آپ اقتدار میں آکے ڈالر کو لگام کس طرح ڈالیں گے ، کسی انتخابی جلسے میں نہ بتایا نہ ہی اس وقت آپ کے پاس ایسی کوئی پالیسی نظر آ رہی ہے۔
مقصد تنقید نہ تھا، نہ ہے اور نہ کبھی ہو گا۔ لیکن حکومت وقت سے اتنی سی گذارش تو کی جاسکتی ہے کہ ہر روز پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، سونے کی فی تولہ بلند ہوئی قیمت، خزانے کے ذخائر میںبتدریج ہوتی کمی، سعودی عرب سے ملنے والی امداد کی نہ نظر آنے والی شرائط، چین کا بظاہر کامیاب دورے مگر مشترکہ اعلامیے سے چھ ارب ڈالر کا ذکر گول مول ہو جانا، ملک میں بڑھتی روزگاری، سیاسی ابتری ، وغیرہ جیسے معاملات چلیے درست نہ ہوں لیکن اس معاملے میں پالیسی تو واضح کیجیے کہ کیا ہے آپ کی ۔ سوائے وزیر داخلہ کے تجاوزات کے خلاف آپریشن کے پوری حکومتی مشینری کہاں ہے۔ اور ابھی موسم سرما کامکمل آغاز بھی ہوا اور وفاقی وزیر پٹرولیم کا کہنا کہ صاحبو لوڈ شیڈنگ تو ہو گی۔ کیا یہ دوغلا معیار نہیں کہ آپ نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے کچھ اور کہا اور حکومت ملتے ہی آپ کا لہجہ بھی بدل گیا اور عمل بھی؟ سمجھے گئے ہم ، کہ مشکلات بھی یقینا ہیں لیکن کیا مشکلات سے نکلنے کی تدابیر کے بجائے صرف ملبہ دوسروں پہ ہی پانچ سال آپ بھی گراتے رہیں گے؟ اگر ایسا ہی ہے تو یہ کون سی تبدیلی ہے ؟© پہلے بھی تو یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔
قومیں گھاس کھانے کے نعرے پہ اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہیں کہ انہیں معلوم ہوتا ہے نعرے میں سچائی ہے۔ لیکن آپ نے یہ کیسا تبدیلی کا نعرہ لگایا ہے کہ عوام کو فرق ہی محسوس نہیں ہو رہا پہلوں میں اور آپ میں۔ عوام سے توقع کرتے ہیں کہ وہ آپ کے ساتھ تعاون رضاکارانہ کریں اور ساتھ آپ ان کی جیبوں پہ بوجھ بھی بڑھاتے جائیں۔ یہی تبدیلی کا معیار ہے؟ جناب والا! کچھ نیا کیجیے۔ عوام مشکلات میں آپ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں وہ آپ سے توقع کر رہے ہیں کہ آپ ان کی مشکلات کا ازالہ کریں گے آپ نے اُلٹا اپنی مشکلات انہیں گنوانا شروع کر دی ہیں۔ حکومت جو بھی کر کے جاتا ہے اسے پھولوں کی سیج نہیں بنا کے جاتا، لیکن آپ کچھ نیا کر دیجیے کہ کل آپ اقتدار میں نہ بھی رہیں تو نئے آنے والے آپ کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکتیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »