Daily Taqat

میرے مشہور مقدمے

میرے مشہور مقدمے

پاکستان میں قانون کے شعبہ میں ایس ایم ظفر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔انہوں نے تقریباً 60 سال تک عملی وکالت میں حصہ لیا اور لاہور کے سول کورٹ سے لیکر عالمی عدالت انصاف تک مقدمات میں پیش ہوئے۔

 ایس ایم ظفر ایک ملنسار انسان ہیں۔ لاہور میں کئی دفعہ ان کی صحبت اور علمی گفتگو سے فیض حاصل کیاـلاہور کی ادبی اورسماجی تقریبات میں اکثر شرکت فرماتے ہیں۔ اولڈ راوین ہونے کی وجہ سے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی تقریبات میں بڑی مسرت محسوس کرتے ہیں۔ قانون کے طالبعلم ہونے کے ناطے میں نے یہ کتاب ایل ایل بی کے دوران پڑھی، جب کہ ایس ایم ظفر اور اس کتاب کے نام سے واقفیت کافی عرصہ سے تھی۔نارووال کی سرزمیں کے ناطے سے ایس ایم ظفر سے رابطہ فطری عمل تھا۔یہ ایک ضخیم کتاب ہے اور تقریباً 800 صفحات پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں ایس ایم ظفر کے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مشہور مقدمات کا ذکر ملتا ہے۔ان میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیس،اداکارہ شبنم چوری کیس، میڈم نور جہاں کیس،اگرتلا سازش کیس،جنرل یحیی خان کیس،سابق گورنر پنجاب غلام مصطفے کھر کیس،جنرل فضل حق کیس،کشمیر کا مقدمہ، سکھ نوجوان ہائی جیکنگ کیس اور سخی دلیر خان کیس بھی شامل ہیں۔کتا ب میں جابجا تصاویر اور اہم دستاویزات کی کاپیاں موجود ہیں، جن کی بدولت ایک قاری کی کتاب میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔کتاب کا انتساب ہندوستان کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے نام ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ایس ایم ظفر کی پیدائش رنگون(برما) میں ہوئی تھی۔ جہاں 1858 میں بہادر شاہ ظفر کو جلا وطنی کی سزا دی گئی تھی اور وہیں 1862 میں ان کا انتقال ہوا تھا۔ ایس ایم ظفر بچپن میں بہادر شاہ ظفر کے مزار پر اکثر جاتے تھے۔ کتاب کی ضخامت کے باوجود مختلف کیسوں کی دلچسپی ایک قاری کو اپنے حصار میں جکڑ لیتی ہے۔اور ہر کیس کے بعد کتاب میں دلچسپی بڑھتی جاتی ہے۔ ایس ایم ظفر،جسٹس سردار محمد اقبال مرحوم (جو جرح کی آرٹ کو بخوبی جانتے تھے) کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ اور انہیں ایک استاد کا درجہ دیتے ہیں۔انہوں نے پہلا مقدمہ 1954 میں لیا اور 1965 میں وہ وفاقی وزیر قانون بن گئے۔ مختصر وقت میں اس منصب تک رسائی کسی شخص کے لئے بہت بڑی کامیابی خیال کی جاتی ہے۔ اس طرح انہوں نے قانون کے مسائل کو کئی زاویوں سے دیکھا۔مصنف کے مطابق مقدمات میں عوام کی دلچسپی کی چار وجوہات ہوتی ہیں۔مقدمہ کے کردار،مقدمہ میں اٹھائے گئے نقاط،وکلاء کی بحث اور عدالت کا فیصلہ۔ ایس ایم ظفر کا جانشینی کا پہلا مقدمہ نامور شاعر فیض احمد فیض کے بڑے بھائی سول جج طفیل احمد کی عدالت میں پیش ہوا۔وہ لکھتے ہیں کہ وکالت کتنا اچھا اور اعلی پیشہ ہے جس میں روپیہ پیسا کوئی اور لگاتا ہے لیکن علم اور مہارت وکیل حاصل کرتا ہے۔ وکیل قانون کے ذریعے انصا ف دلا سکتا ہے وہ عدالت میں قانون کی بالا دستی کا مدد گار ہوتا ہے۔اس لئے اس کی ذمہ داری ہے کہ دوران عدالتی کاروائی وہ خود بھی قانون کی پابندی کرے۔کتاب میں چونکہ مقدمات تفصیل سے درج ہیں میں اس مختصر مضمون میں اہم اقتباسات پر ہی اکتفا کروںگا۔ جناب اے کے بروہی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ1935میں آرٹیکل 223 کا اضافہ کر کے پاکستانی عدلیہ کو آئینی رٹ جاری کرنے کے اختیارات دلائے۔محض کسی قانون کا اسمبلی سے منظور ہو جانا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ سوسائٹی کو قانون کے مضمرات سے آگاہ ہونے اور پھر اس سے استفادہ کرنے کے طریقے بھی معلوم ہونے چاہئیں۔کتاب میں جابجا پی ایل ڈی(پاکستان قانونی فیصلہ جات) کے حوالے بھی دئے گئے ہیں۔صوفیا ء کرام کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے صوفیاء کرام انسانی حقوق کے تحفظ کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔اور یہ ان کی انسان دوستی ہی کا نتیجہ تھا کہ وہ جہاں کہیں بھی گئے لو گوں کے دل ونگاہ ان کے لئے فرش راہ ہوگئے۔اور ان کے اچھے اخلاق اور نیک اعمال سے اسلام پھیلتا گیا۔ ایک دوسری جگہ وہ لکھتے ہیں کہ عدالتیں اور جج صاحبان مقدمات کی سماعت کے دوران اپنی ابتدائی رائے کا اظہار وکیل سے اس کا رد عمل معلوم کرنے کیلئے کرتے ہیں۔اسے لاؤڈ تھنکنگ کہتے ہیں۔ اکثر وکلاء صاحبان اس عمل سے گھبراتے ہیں اور اسے جج موصوف کی حتمی رائے سمجھ لیتے ہیں،مگر دراصل یہ بحث و تمحیص کا ایک عمدہ اصول ہے۔مملکت کے تین ستون ہیں،عدلیہ،مقننہ اور انتظامیہ،لیکن ایک نیا انداز فکر یہ بھی ہے کہ مملکت ایک انسان کے مشابہ ہے اور یہ کہ جیسے انسان کی جبلت ہوتی ہے ایسے ہی مملکت کی، اوران میں ایک قدرمشترک عدل اورایک اپنے جسم کے اعضاء کو محفوظ رکھنے کی، جسے ڈاکٹر صاحبان مدافعانہ قوت کہتے ہیں، آئین اور سوشیالوجی کی زبان میں یہ پولیس کی قوت کہلاتی ہےـ وکلاء صاحبان قومی معاملات میں اپنی فیس کو کبھی اہمیت نہیں دیتے وکیل ہر قوم کا ایک با شعور طبقہ شمار ہوتاہے اگرچہ بعض حضرات جو تحقیق کرنے کے عادی نہیں ہوتے وہ خود ہی ایک مفروضہ قائم کر لیتے ہیں۔وکلاء جب کسی اہم قانونی تشریح پر خود مطمئن نہیں ہوتے تو اسے اپنے ساتھیوں میں زیر بحث لا کر اس کی منطقی اور تاویلی حیثیت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ ہمارے ملک کے مشہور وکیل منظور قادرکی آواز ا تنی دلنشین اور مسحور کن تھی اور وہ الفاظ کو اس طرح تراش تراش کر ادا کرتے تھے کہ سننے والے چاہتے تھے کی ان کی بات سنتے جائیںـمصنف ایک جگہ خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے ملک کے سوشل سائنس سے تعلق رکھنے والے دانشوروں میں سے کوئی دانشور کسی دن متروکہ جائیداد اور اس کے حوالے سے ہمارے کلچر اور مزاج میں تبدیلی پر تحقیق کرے تو بڑے دلچسپ واقعات اور انکشافات منظر عام پر آئیں گے اور ہمارے ملک کے عدالتی فیصلوں میں انہیں بہت مواد ملے گا۔میرے مشہو رمقدمے پاکستان کے ہر شعبے کے قاری کے لئے عمومی اور وکلاء برادری کے لئے خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔یہ کتاب آن لائن بھی دستیاب ہے اور انٹرنیٹ پر اردو کی ویب سائیٹ ریختہ پر بھی پڑھی جا سکتی ہے۔یہ کتاب پاکستان کی عدالتی تاریخ کا مختصر احاطہ کرتی ہے۔اور ہمارے معاشرتی مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 تبصرہ
  1. Amjad کہتے ہیں

    SM Zafar is Great Asset of Pakistan

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »