اہم خبرِیں

مسعُود جھنڈیر رِیسرچ لائبریری

قرآن پاک کے تقریباً اٹھتر ہزار الفاظ میں سب سے پہلا لفظ جو پروردگار عالم نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل فرمایا وہ ”اِقرَائ”ہے، یعنی پڑھیئے، اور قرآن پاک کی چھ ہزار سے زائدآیتوں میں سب سے پہلے جو پانچ آیتیں نازل فرمائی گئیں ان سے بھی قلم کی اہمیت اور علم کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔مسلمانوں کی تاریخ کا سنہرا دور وہ تھا جب علم وتحقیق اور سائنس و فلسفہ عروج پر تھا۔بغداد اس دور زریں کا مرکز تھا اور عباسی خاندان کی حکومت تھی۔ اس دور میں خلیفہ ہارون الرشید نے علم وتحقیق کے ایک مرکز کی بنیاد رکھی جسے دنیا ” بیت الحکمت ”کے نام سے جانتی ہے۔ ہارون الرشید کے بعد اُن کے بیٹے مامون الرشید نے اس بیت الحکمت کو مزید ترقی دی اور اُس وقت وہ دنیا کا سب سے بڑا تعلیم و تحقیق کا مرکز تھا جہاں تمام اہم علوم کے ماہرین اپنے اپنے شعبہ میں گراں قدر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ طب، زراعت، فلکیات، کیمیا، طبیعات، فلسفہ، ادب، آرٹ،انجینئرنگ اور دیگر تمام علوم و فنون کے ماہرین دن رات تعلیم و تحقیق میں مصروف رہتے تھے اور علم کی روشنی آگے پھیلاتے تھے۔سقوط بغداد کے مسلمان تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ گئے۔ نوابوں کا شہر بہاولپور جنوبی پنجاب کا ایک خوبصورت شہر ہے۔ جس کے بارے میں مشہور ہے کہ جو بہاولپور میں آتا ہے وہ یہیں کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ نور محل، دربار محل، گلزار محل کے علاوہ یہاں صادق پبلک سکول،پبلک لائبریری اور وکٹوریہ ہسپتال عباسی خاندان کے سنہری دور کی یاد دلاتے ہیں۔ 2016 میں ایل ایل بی کی ڈگری کے دوران ہمارے کالج بہاولپور لاء کالج کی انتظامیہ کی جانب سے سردار پور میلسی کے قریب واقع مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری کی سیر کا پروگرام طے پایا۔ 1890ء میں سردار پور جھنڈیر کے ایک زمیندار ملک غلام محمد کی کتابوں سے اس کا آغاز ہوا۔1936ء تک انہوں نے ہزاروں کتابیں جمع کر لیں۔ ملک غلام محمد کی وفات کے بعد کتابیں وراثت میں اُنکے نواسے میاں مسعود احمد جھنڈیر کو ملی ملک غلام محمد کے نواسوں مسعود احمد اور ان کے بھائی میاں محمود احمد نے ملک غلام محمد سے محبت کا حق یوں ادا کیا کہ اس کتب خانے کو مسعود احمد ریسرچ سینٹر کا نام دے دیا اور پاکستان کی سب سے بڑی پرائیویٹ لائبریری بنا دیا۔ زمینداری کے شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی کتاب دوستی کی یہ ایک عظیم مثال ہے۔دوسرے ہمارے ملک میں عام طور پر وراثت میں زمین، فیکٹری، محل، گاڑیوں اور بینک بیلنس کا تصور پایا جاتا ہے۔اسی لئے علامہ اقبال نے فرمایا تھا۔
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
لائبریری پانچ ایکڑ کے خوبصورت پارک میں گھری ہوئی ہے۔ جس میں خوبصورت آبشاریں، فوارے، خوبصورت آرائشی اور زیبائشی پودے یہاں آنے والوں کو ایک انتہائی دلکش ماحول مہیا کرتے ہیں۔ لائبریری کا نیا کمپلیکس سال 2007ء میں مکمل ہوا جو 21 ہزار مربع فٹ ایریا پر محیط ہے۔ لائبریری میں آٹھ کشادہ ہال، آڈیٹوریم، ملٹی میڈیا ورک سٹیشن، کمیٹی روم اور ہاسٹل شامل ہیں۔ یہ 3 اپریل کی ایک خوبصورت صبح تھی اور ہم طالبعلم، اساتذہ اور کالج کے سٹاف کے ساتھ تقریباً نو بجے میلسی کی طرف روانہ ہوئے۔ ہم نے موسم کی
مناسبت سے کھانے پینے کا سامان ساتھ رکھا ہوا تھا۔تقریباً دو گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم ایک وسیع و عریض لائبریری میں پہنچے۔ میں نے اس سے پہلے اتنی بڑی پرائیویٹ لائبریری نہیں دیکھی تھی۔ ہمارا بہت اچھی طرح استقبال کیا گیا اور مکمل بریفنگ اور پوری لائبریری کی سیر کرائی گئی۔ہم نے خوب تصویریں بھی بنائیں۔ لائبریری کے اندر بانی شخصیات کی تصوریں آویزاں ہیں۔ قرآن پاک کے قلمی نسخے بھی موجود ہیں اور بریفنگ دینے والا قرآن پاک کے رنگین نسخے بڑے شوق سے دکھا رہا تھا۔ وہا ں پر دیکھی ہوئی ایک کتاب ”ہادی عالم” کا نام ابھی تک یاد ہے۔ وہاں قرآن پاک کے مختلف زبانوں میں تراجم بھی موجود ہیں اور ان میں منظوم تراجم بھی شامل ہیں۔لائبریری میں لاکھوں کتابیں، قرآن پاک کے نادر نسخے اور پرانے زمانے میں زیر استعمال نوادرات بھی موجود ہیں، عمارت کے سنٹر میں ایک خوبصورت فانوس اس کے حسن کو دوبالا کر دیتا ہے۔یہاں سے ہر سال سینکڑوں محققین تحقیقی مواد حاصل کرتے ہیں۔ کتابوں کی ترتیب کے لئے یہاں ڈی ڈی سی(ڈیوی ڈیسیمل کلاسیفیکیشن) سسٹم استعمال ہوتا ہے۔ ہر سال سینکڑوں ملکی و غیر ملکی دانشور، سکول، کالجز اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طلبہ ادبی و دیگر نامور شخصیات اس لائبریری کا دورہ کرتی رہتی ہیں۔یہاں دوسرے شہروں سے آنے والے طالب علموں کے لئے ہاسٹل کی سہولت بھی موجود ہے۔اسی علاقے میں تقریباً ایک سو کلو میٹر کی مسافت پر بوریوالا کے نزدیک نشان حیدر حاصل کرنے والے میجر محمد طفیل شہید کا مزار بھی ہے۔ 14 اگست 2014ء کے موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے لائبریری کے منتظم میاں غلام احمد جھنڈیر کو قومی ورثہ کی حامل تاریخی، دینی، ثقافتی اور ادبی کتابوں کو جمع اور محفوظ کرنے پر سول صدارتی تمغہ امتیاز کے اعزاز سے نوازا۔ اس لائبریری پر بے شمار قومی اور بین القوامی مقالہ جات لکھے جا چکے ہیں۔2017 میں پاکستان کے مشہور قانون دان ایس ایم ظفر نے اپنی ذاتی لائبریری سے کئی ایک کتب اس کتب خانے کے لئے بطور تحفہ دیں۔ ایک شاعر رشید عثمانی نے اس لائبریری کے نام ایک خوبصورت نظم لکھی ہے جس کا پہلا شعر یہ ہے۔
اِک علم کا ہے بہتا دریا مسعود جھنڈیر مطالعہ گاہ
جتنی بھی ہو دیتی ہے پیاس بجھا مسعود جھنڈیر مطالعہ گاہ
لائبریری کے ساتھ ایک خوبصورت پارک بھی موجود ہے ہم نے گرمی کے باعث لائبریری کی کینٹین سے کولڈ ڈرنکس بھی لیں۔ اس کے بعد ہمارا یہ قافلہ براستہ میلسی سائفن لال سہانرا پارک کی طر ف روانہ ہو گیا۔ سائفن پر ہم نے مزیدار مچھلی کھائی اور لال سہانرا پارک کے لان میں ہم تازہ لنچ سے لطف اندوز ہوئے۔آج تقریباً پانچ سال گزرنے کے باوجود لائبریری کی کتابوں کی مہک یادوں کے دریچے میں تازہ ہے۔اور یہ سوچ جنم لے رہی ہے کہ آیا دوبارہ اتنی دور جا کر کوئی پرائیوٹ لائبریری دیکھنی پڑے گی یا اور علم دوست صاحب استطاعت اس کار خیر کو ملک کے دوسرے حصوں میں بھی شروع کرتے ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.