اہم خبرِیں
تحفظ اسلام بل کیخلاف پنجاب اسمبلی میں شدید احتجاج امریکا میں ٹک ٹاک اور وی چیٹ پرپابندی نیب نے وائٹ کالر کرائم کی تفتیش کے لئےسیل قائم کردیا پولیس، پٹوار کلچر میں کرپشن ہورہی ہے، عمران خان پنجاب حکومت 50 کروڑ ڈالرقرض لے گی پارک لین ریفرنس، آصف زرداری کی درخواست مسترد لڑکی کی لڑکی سے شادی کیس، دلہا کا نام ای سی ایل میں شامل بھارت میں سیکڑوں مساجد مندروں میں تبدیل نوازشریف کو سزا دینے والے جج برطرف ایم ایل ون منصوبہ میری زندگی کا مشن تھا، شیخ رشید پاکستان کا نیا نقشہ گوگل سمیت تمام سرچ انجنز کو بھجوانے کا فیص... حکومت کا ہوٹل، پارکس، سیاحتی مقامات کھولنے کا اعلان ملک میں کوروناکیسزمیں کمی، 21 اموات رپورٹ آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی صورتحال کلبھوشن یادیو کے معاملے پر پاکستان کا بھارت سے پھررابطہ احساس پروگرام کے تحت 169 ارب روپے تقسیم پاکستان نے سعوی عرب کا قرضہ واپس کر دیا پاکستان کو 40 کروڑ ڈالر قرضوں کی منظوری برطانوی خلائی کمپنی "سپر سانک" کمرشل طیارہ بھی بنائے گی اولڈٹریفورڈ ٹیسٹ، پاکستان 139 رنز سے اننگز آگے بڑھائے گا

معاشرے میں بگاڑ کے اسباب

معاشرتی الجھاو اور اجتماعی رویوں میں کھچاو کے قصے دو چار برس کی بات نہیں بلکہ صدیوں پر محیط انسانی سفر کی باقیات ہیں۔کسی بھی قوم کی بنیادی اکائی فردواحد ہے۔فردواحد کی تعمیر میں بنیادی عنصرماں کی گود ہے جہاں سے عادات کی پختگی کا سبق ملتا ہے۔ماں باپ کے رویوںمیں تضاد اور اجتماعی سوچ کا فقدان بچوں کی شخصیت پر انفرادیت اور خود غرضی کے آثار پیدا کرتا ہے۔جس گھر کے افراد خود غرضی اور لالچ کو شعور دیں۔اخلاق اور کردار میں جھوٹ اور مکر و فریب کا بیج بوئیں وہ نسل انسانی میں معاشرتی برائی کو جنم دیتے ہیں۔یہ خود غرض اکائی جہاں بھی ہوگی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔گھریلو ماحول سے باہر بچوں کی تربیت میں دوسرے رشتے بھی انسانی سوچ او شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔گھر میں نا انصافی کے رویے ، رواداری اور برداشت کا فقدان ، لالچی ذہنیت بھی شخصیت کے اصل روپ کو متاثر کرتے ہیں۔بچپن کی عادات اس قدر مستقل اور پختہ ہو جاتی ہیں کہ پھر ساری زندگی اسی سفر میںگزر جاتی ہے۔جب آنکھوں کی روشنی کارخانہ ¿ قدرت میں پھیلاو¿ مانگتی ہے، جب محبت اورخلوص کے دائرے بڑھتے ہیں، چاہت کے جذبے وسیع ہوتے ہیں، پسند اور نا پسند کی تمیز جنم لیتی ہے تو سوچ کے دائروں میں خلل پیدا ہوتا ہے۔معاشرتی رویوں کے نشیب و فراز کبھی تو محبت اور خلوص سے انسانیت کے خوبصورت جذبات کو اخوت اور بھائی چارے کی لڑی میں پروتی چلی جاتی ہے اور کبھی نفرتوں اورخودغرضیوں کے جذبے اسی انسانی رشتوں کی چاشنی سے دور لے جاتے ہیں۔دنیاوی رویوں میں یہ چاشنی کبھی انسان کو پیار اور محبت کی بلندیوں کا نظارہ کراتی ہے اور کبھی دوری کے اثرات سے متاثر ہو کر انسان نفرتوں کی دلدل اور حقارتوں کے جذبے میں اس قدر غرق ہو جاتا ہے کہ رشتوں کے تناظر ٹوٹتے چلے جاتے ہیں۔یہاں والدین اور رشتوں کی محبت اور شفقت کبھی نفرتوں کے فاصلے گھٹانے کے لئے حقیقت کے روپ بدلنے کی کوشش میں، کبھی پیوندکاری کا عمل دہرانے میں غلط بیانی سے کام لیتی ہیں اور کبھی محبتوں کے بیجوں کی بکھیر سے معاشرتی اچھائیوں کو بڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔بعض اوقات رشتوں کی محرومیاں منافقوں کی سوچ کے دائروں میں اس قدر شخصیت کو مسخ کرنے کا سبب ہوتی ہے کہ انسان اکیلا رہنا پسند کرتا ہے۔بدکردار لوگ شخصی زندگی کو اکیلا کرنے میں مزے لیتے ہیں۔اسے اپنی سیاسی چالیں اور مکاریوںکی کامیابی سمجھتے ہیں۔لیکن باہمت اور جرا¿تمند لوگ ایسے لوگوں کو گندے کیڑے سمجھتے ہوئے اپنی منزل کا رخ الجھاو¿ سے بچا تے ہوئے حقیقتوںکی طرف لے جاتے ہیں۔نہ انہیں معاشرتی علیحدگی کا کبھی احساس ہوتا ہے نہ وہ کبھی منفی رویوں کا اثر لیتے ہیں، نہ وہ کسی کے سہارے زندگی کا کٹھن سفر شروع کرتے ہیںاور نہ انہیں کسی سہارے کی امید ہوتی ہے۔وہ صرف اپنی منزل پر نظر رکھتے ہیں اور قدرت کی دی ہوئی زندگی کے انعام کو اس کے بتائے ہوئے راستوںمیں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔نہ انہیں رویوں کے تھپیڑوں کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ انہیں معاشرے کے بدکردار لوگوں کی چاپلوسی اور منافقانہ روشوں میں الجھاو¿ پسند آتا ہے۔مکار اپنی جگہ سمجھتا ہے کہ اس نے زبردست چال چلی۔مسافر اپنے سفر میں مست گندگی سے دامن بچاتا اپنی منزل کی طرف رواں رہتا ہے۔باعمل انسان منافقت کے ہر جھٹکے کو کردار کی ہر برائی کو نفرت اور حقارت سے جھٹکتا ہوا آگے بڑھتا جاتا ہے۔اور اس کے دل و دماغ کے دائرے حقیقتوں کی گہرائی ڈھونڈنے میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں۔یہاں زندگی کی عجیب روشنی پھوٹتی ہے جو انسانی حقیقتوں کوآشکار کرتی جاتی ہے۔کبھی اللہ تعالیٰ کی عنایت پر نظر پھیرتا ہے۔کبھی میری اور تیری انا کی بھٹی میں پگھلتا ہے۔دوسری درسگاہ جو انسانی نشوونما میں اپنے نقوش چھوڑتی ہے وہ تعلیمی ادارے ہیں جہاں بچے صرف اپنے ہم سفروں سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ اساتذہ کی عادات ، سوچ کے نکھار ، عمل کے نمونے اور کردار کی گہرائی کے علاوہ فرائض بجا آوری میں لگن، وقت کی پابندی کا احساس اور سچائی کی عظمت کو پہچانتے ہیں۔منفی پہلو جس میں سوچ کا فقدان ، شخصیت کے تعمیراتی نقائص ، یہی شخصیت بنانے میں اثر انداز ہوتے بلکہ اساتذہ اگر سفارشی ماحول بکھیرنے کی کوشش کریں، لاقانونیت کا مظاہرہ کریں، اخلاقی گراوٹ کو شعار بنائیں ، جھوٹ بولنے ، وقت کی پابندی نہ کرنے ، کا نمونہ دیں تو وہ نقش زندگی بھر شاگردوں کے ذہن سے خارج نہیں ہوتے ۔ وہ طلباءجب عملی زندگی کا آغاز کریں تو یہ نقائص ان کے فرائض کی ادائیگی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔کام چوری ان کی فطرت کا حصہ ہوتی ہے۔جو معاشرتی ذمہ داریاں پوری کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔بعض اوقات بچوں کے گھریلو ماحول ، جو اچھے اخلاقی تربیت گاہ ہوتے ہیں سے بچہ بغاوت کر کے اساتذہ کے نقش قدم پر چلنے میں آسانی محسوس کر کے فسادی معاشرہ کو اپنا کر بد ترین اکائی ثابت ہوتا ہے۔اگلی تربیت گاہ کھیل کا میدان ہے جہاں بچے اپنے رویے پختہ کرتے ہیں ۔ زندگی کا رخ اپناتے ہیں۔کبھی انہیں پتنگ بازی کی دوڑ میں ساتھیوں کے اثرات قبول کرنے میں راحت ہوتی ہے اور کبھی گراو¿نڈ میںمقابلے کے منفی رویے غیر صحتمندانہ سوچ، ناانصافی ، چالبازی ، دھوکہ فریب اور جھوٹ سیکھنے کا موجب بنتا ہے۔یہ لو گ معاشرہ کے جس حصے میں بھی ہوں گے برائی کا رس گھولتے رہیں گے۔آج کل میڈیااور خاص کر سوشل میڈیا کا دور ہے ہر نوجوان کے پاس ایک نہیں تین تین موبائیل ہیں اور کمپیوٹر ز ہیں ۔وہ انہی میں الجھا رہتا ہے۔لیکن یہ یاد رکھیں کہ مہنگے موبائیلز اور کمپویٹرز دنیا بھر کی معلومات تو فراہم کرتے ہیں لیکن ادب و احترام نہیں سکھا سکتے۔ادب و احترام کا درس والدین اور اساتذہ ہی سکھاتے ہیں ۔ بدقسمتی سے استاد بھی ادب و احترام سکھانے پر توجہ نہیں دے رہے اور نہ ہی آج کل کے بچے اپنی کتاب کے سلیبس کے علاوہ کچھ سننا چاہتے ہیںکیونکہ ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے۔کھیل کے میدان بھی ویران ہو گئے ہیں اور تعلیمی نظام میں بہت خرابیاں آگئی ہیں ۔ہمارے دور میں استاد کا جتنا احترام ہوتا تھا کہ میری 70سالہ زندگی میں شاید ہی کوئی ایسا وزیراعظم ، وزیر اعلیٰ ، گورنر یا کسی پارٹی کا سربراہ گیا ہو جس کی موجودگی میں سٹیج پر ان کے ساتھ نہ بیٹھا ہوں یا تقریر نہ کی ہو کبھی جھجھک محسوس نہیں ہوتی تھی چند سال پہلے ایک تقریب میں میرے ساتھ تین وفاقی وزراء، ایک وزیر اعلیٰ اور کچھ اپوزیشن پارٹیوں کے سربراہ بیٹھے ہوئے تھے تو تقریب کی نظامت میرے ذمے تھی۔میں اپنی گرجدار آواز سے یہ سارے فرائض بخوبی سرانجام دے رہا تھا کہ اچانک میری نظر گورنمنٹ ہائی سکول چکوال کے اپنے میٹرک کے استاد چوہدری محمد اسلم پر پڑی تو ساری تقریب میں میری ٹانگیں کانپتی رہیں۔ یہ وہی قابلِ عزت استاد تھے جنہوں نے ہمیںعلم و ادب اور احترام سکھایا اور ان کا ادب و احترام آج بھی ہماری نسل کے لوگوں کی نس نس میں بھرا ہواہے۔ہمیں چند دہائیاں پیچھے کی وضع داری ، رکھ رکھاو¿ ، بزرگوں اور اساتذہ کا احترام نئی نسل کو اس محبت اور شفقت سے سکھانا چاہیئے تاکہ یہ چیزیں ان کے دل و دماغ اور خون کی شریانوں میں دوڑنا شروع ہو جائیں ورنہ ادب و احترام کے لحاظ سے ہماری نئی نسل تباہی کے راستے پر چل پڑی ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تبصرے بند ہیں.