اہم خبرِیں
امریکی شہر کیلی فورنیا میں کورونا نے تباہی مچا دی پاکستان نیوی کے بحری بیڑے میں نئے اور جدید بحری جنگی جہازپی ای... معاشرے میں بگاڑ کے اسباب ”کشمیریوں کی زندگی کی بھی اہمیت ہے“ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے پاکستان ترقی کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب، اقوام متحدہ کی رپورٹ... امریکی بحری جنگی جہاز میں دھماکا، 21 افراد زخمی سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پرمیزائلوں سے حملہ دنیا بھر میں آج یومِ شہدائے کشمیر منایا جائے گا پاکستان فرانسیسی شعبہ زراعت اور شعبہ حیوانات کی مہارت سے استفا... میر شکیل الرحمان کی ہمشیرہ کے انتقال پر سی پی این ای کا تعزیت ... شمالی وزیرستان، پاک فوج کا آپریشن، چاردہشت گرد جہنم وصل گھوٹکی ٹرین حادثے کو پندرہ سال بیت گئے پاکستان میں کورونا کے 2 ہزار 521 نئے کیسز،74 اموات انگلستان کی پاکستان میں ڈھائی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری آیاصوفیہ مسجد کی کہانی ” آپ ایسا کریں کہ آپ کل آ جائیں“ اسٹیٹ بینک کےقوانین کی خلاف ورزی پر 15 کمرشل بینکوں کو بھاری ... ایرانی سیبوں کی درآمد، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر 22 درا... شاہد آفریدی کا کورونا میں مبتلا بچن خاندان کے لیے نیک خواہشات ...

ملک ریاض تو علامت ہے، وحشی تو یہ نظام ہے

ملک ریاض محض ایک انسان کا نام نہیں۔ ملک ریاض ہماری زوال پذیر اشرافیہ کی علامت ہے۔ اپنی دولت کے بل بوتے پر اس نے اس ملک کی سیاست، عدالت اور فوج کو مٹھی میں لے رکھا ہے۔
یاد ہے وہ اسکینڈل کہ ملک ریاض نے سپریم کورٹ سے مرضی کے فیصلے لینے کے لئے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے کو رشوت دی تھی؟ یہ بھی یاد ہو گا کہ ملک ریاض نے پی پی پی کی قیادت کو لاہور میں بلاول ہاو¿س کا تحفہ دیا تھا تا کہ کراچی میں جب زمینوں پر ناجائز قبضے کر کے بحریہ ٹاو¿ن بنایا جائے تو سندھ میں پی پی پی حکومت خاموش رہے۔
یہ بھی معلوم ہو گا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملک ریاض کے تعلقات کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار ریٹائرڈ جرنیلوں کے لئے ایک سنہری موقع بن گیا ہے۔
ان سب کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے خیرات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ایک طرف بحریہ کے لنگر تو دوسری طرف بڑی بڑی مساجد کی تعمیر۔ خیرات کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کے حق تو غصب کر لیں لیکن ان پر رحم و کرم کرتے رہے ہیں۔ حقوق کا مطلب ہوتا ہے برابری۔ خیرات کا مطلب ہے کہ امیر (جو غریبوں کو لوٹ کر امیر ہوا ہے) اپنی لوٹ مار سے غریبوں کو کچھ حصہ دے کر اپنے لئے نیک نامی بھی کمائے اور لوٹ مار کا نظام بھی چلتا رہے۔
ملک ریاض اس ملک کی اشرافیہ میں پائی جانے والی ہر بیماری کی علامت ہے: اندھا دھند کرپشن، عام لوگوں کے مفاد کو پاو¿ں تلے کچلنا اور جھوٹی انا کی تسکین کے لئے جاگیردار سٹائل میں بدلے لینا۔
ایسے میں حیرت کیسی اگر ملک ریاض کے پالتو غنڈے ایک خاندانی معاملے کو نپٹانے کے لئے دروازے توڑ کر کسی کے گھر میں گھس گئے۔ ملک ریاض کے بدمعاشوں نے کراچی کے مضافات میں ان محنت کشوں پر اس سے کہیں بڑے ظلم ڈھائے ہیں جن کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا اور صدیوں سے اپنی زمینوں پر آباد لوگ بے گھر ہو گئے۔
ملک ریاض کی خوبی یہ ہے کہ وہ سول ملٹری تقسیم سے بھی بالا تر ہے اور مذہبی و لبرل تقسیم سے بھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں زمین، دولت اور تشدد ہی ہر چیز کا ماخذ ہیں۔ یہ تینوں چیزیں آپ کے پاس ہیں تو آپ کسی بھی شہری کو بے عزت کریں، اس کی ٹانگیں توڑ دیں، جان سے مار دیں…کوئی پوچھنے والا نہیں۔
عام شہریوں اور پاکستانی براہمنوں کے مابین دولت کی ذات ہی تو حائل ہے۔
اگر ملک ریاض اس ملک کی اشرافیہ کے گٹھ جوڑ کی علامت ہے تو ایسے افراد کے خلاف جدوجہد کا مطلب ہے اس طاقت کے نظام کے خلاف جدوجہد جو ایسے قابلِ نفرت کرداروں کو جنم دیتا ہے۔
کرونا بحران کے دوران جب ہم نے ’لیبر ریلیف کمپئین‘ شروع کی تو ہم نے دیکھا کہ کیسے مل مالکوں نے دھڑا دھڑ مزدوروں کو برطرف کیا ہے اور تنخواہیں تک ادا نہیں کیں۔ جب مزدور احتجاج کرتے ہیں تو ان پر پولیس کے ذریعے تشدد کرایا جاتا ہے۔ گویا اشرافیہ کو اچھے سے علم ہے کہ قانون کو عوام کے خلاف کیسے استعمال کرنا ہے۔
طاقت کے اس نظام سے لڑنے کے لئے ضروری ہے کہ عام لوگوں کی سیاست کو پروان چڑھایا جائے۔ ایک ایسی سیاست جو عام انسان کے مفاد کو ترجیح دے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہماری اشرافیہ اس معاشرے میں بچی کھچی تہذیب کو بھی تباہ کر دے گی۔

عمار علی خان


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.