اہم خبرِیں
تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنیؓ کا یوم شہادت آج منایا جا رہا ہے میجر محمد طفیل شہید نشان حیدر کی 62 ویں برسی منائی گئی اسپیس ایکس کے فالکن راکٹ نے 57 سیٹلائٹ خلا میں پہنچا دیے بیروت دھماکہ، حکومت مخالف مظاہرے مانچسٹر ٹیسٹ، انگلینڈ نے پاکستان کو 3 وکٹوں‌ سے شکست دے دی کوئی شرم کوئی حیا ہوتی ہے، بلال سعید اور صبا قمر کی مسجد میں گ... غازی فیصل خالد اسلام کا ہیرو ہے ،آل پارٹیز سٹوڈنٹس یوتھ کانفرن... تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ اور ریاست مدینہ عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد! مال اور اعمال آخر مسئلہ کشمیر کیسے حل ہوگا؟ کشمیر پر بھارت اب معاہدہ شملہ کے پیچھے نہیں چھپ سکتا زیب النسا محترمہ زیب النساء زیبی ، نام ہے ایک عہد کا! خیبرپختونخواہ حکومت کو درپیش چیلنجز ہمارے اپنے خود کش بمبار مانچسٹر ٹیسٹ، پاکستان نے انگلینڈ کو 277 رنز کا ٹارگٹ دے دیا مریم نواز کی نیب طلبی بیروت دھماکا میزائل حملہ ہوسکتا ہے، لبنانی صدر عالمی بینک کے پاکستان میں 11 بلین ڈالر کے منصوبے زیر تکمیل ہیں... ایف آئی اے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے افسران کے خلاف کاروائی...

ماہ رمضان کی فضیلت

اللہ تعالی کے فضل و کرم سے رمضان المبارک کا رحمتوں اور برکتوں بھرا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ صدر مملکت اور علمائے کرام کے درمیان طے پائے گئے معاہدے کے مطابق 20 نکات پر عمل ہو رہا ہے۔روزے آہستہ آہستہ سردیوں کے موسم کی طرف آرہے ہیں۔عام طور پر یہ سرکل تقریباً بتیس سال بعد پورا ہوتا ہے اور روزے شدید گرمی سے سردی کے موسم میں آتے ہیں۔ موسموں کے الٹ پھیر کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے۔اس طرح ایک چالیس سال کے مسلمان کو تقریباً تمام قسم کے موسموں میں روزہ رکھنے کا شرف حاصل ہوتاہے۔اس سال کورونا وائرس کی وبا کے باعث رمضان المبارک کو روائیتی اہتمام کی بجائے احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلے کے اصولوں کے مطابق گزارا جا رہاہے۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے رمضان المبارک کے دوران اجتماعی عبادات نہ ہونے پر افسوس ہے۔ رمضان المبارک کی آمد پر جاری بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ ان حالات نے ہمیں اجتماعی عبادات، نمازوں، تراویح اور خدا کے گھر میں قیام اللیل سے روک دیا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے رمضان المبارک میں عبادات میں پیش آنیوالی مشکلات پر بھی افسوس ہے۔عالم اسلام پوری دنیا کے ساتھ ایک امتحان کے دور سے گزر رہا ہے۔ ”صوم” یا ”صیام” کے الفاظ عربی زبان کے ہیں۔ عرب خود تو روزہ نہیں رکھتے تھے، البتہ اپنے گھوڑوں کو رکھواتے تھے۔ ا س طرح وہ گھوڑوں کو بھوک پیاس جھیلنے کا عادی بناتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مہم کے دوران گھوڑا بھوک پیاس برداشت نہ کرسکے اور جی ہار دے۔ روزے پہلی امتوں پر بھی فرض تھے اور اور روزے کا عقیدہ دنیا کے دوسرے مذاہب میں بھی پایا جاتاہے۔روزہ ارکان اسلام کا اہم رکن ہے۔روزہ رکھنے سے انسان اپنے نفس کے گھوڑے پر قابو پاتا ہے۔رمضان،زکوة، صدقات اور خیرات کے ذریعے مساوات کا درس دیتاہے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا اجرو ثواب جنت ہے۔جدید دور کے مشہور نفسیات دان فرائیڈ کے مطابق شہوانی خواہشات بہت سخت ہوتی ہیں۔خواہش جتنی مضبوط ہو گی اس پر قابو پانا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔انسان کو عافیت اور عیش وآرام درکار ہے دولت چاہتا ہے شہرت (آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا پر فالوورز میں اضافہ) چاہتا ہے اور یہ حب مال،حب جاہ،حب دنیا،علائق دنیوی اور سازوسامان دنیاکی محبت ہی تو بندہ مومن کے راستے کی اصل رکاوٹ ہے۔روزہ رکھنے سے نفس امارہ کے تقاضے، جسم کی حیوانی ضروریات، داعیات،خودی اور انائے کبیر پر ضبط ملتا ہے۔رمضان میں مومن کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ رمضان کے آغاز سے ہی بازاروں میں طرح طرح کے پھل اور خاص کر ہر قسم کی کھجوریں وافر مقدار میں مہیا ہوتی ہیں۔ اور لوگوں کے لئے رمضان بازار کا اہتمام بھی کیا جا تا ہے۔لوگ اپنی اپنی بساط کے مطابق دوسروں کو افطا ر کراتے ہیں اور مستحقین کو ضروری امداد مہیا کرتے ہیں، تاکہ وہ بھی رمضان المبارک کی برکات سے دامن بھریں۔اس ماہ میں روزہ داروں کے لئے ایک خاص قسم کا سکون ہوتا ہے۔سحرو افطار کے مواقع پر دعاؤں کا خصوصی اہتمام ہوتا ہے۔ٹی وی چینلز پر سحر و افطار کے خصوصی پروگرام نشر ہوتے ہیں۔جس سے لوگوں میں اسلام اور قرآن سے خصوصی وابستگی پیدا ہوتی ہے۔ اخبارات میں بھی نماز تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا ترجمہ اور مختصر تفسیر روزانہ کی بنیاد پر لکھی جاتی ہے۔رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت،دوسرا مغفرت اور تیسرا آتش دوزخ سے نجات کا عشرہ ہے۔رمضان کی صحیح برکات سے مستفید ہونے کے لئے ہمیں
غیبت،جھوٹ،فحش باتوں اور بد زبانی سے پرہیز کرناچاہیے۔کوشش کریں کہ رمضان کے مہینے میں قرآن پاک کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کریں اور اپنے خاندان کے لوگوں کو بھی قرآن پاک کی تلاوت اور سیرت النبیۖ کے مطالعے کی عادت ڈالیں۔فتح مکہ رمضان المبارک میں ہوا۔مملکت خدادا اسلامی جمہوریہ پاکستان رمضان کے بابرکت مہینے میں معرض وجود میں آیا۔رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات میں قرآن پاک نازل ہوا تھا۔ اس رات کو ایک ہزار مہینے سے افضل قرار دیا گیا ہے۔اس رات کو عبادت کی خصوصی اہمیت ہے، رمضان کے آخری عشرے میں اہل ایمان اعتکاف پر بیٹھ کر ہمہ وقت عبادت میں مصروف رہتے ہیں اور اللہ تعالی کا قرب حاصل کرتے ہیں۔رمضان المبارک کا آخری جمعہ جمعة الوداع کہلاتا ہے اور اس میں عبادت کی خصوصی اہمیت ہے۔اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لئے سفر کے دوران اور بیماری کی وجہ سے دوسرے دنوں میں تعداد پوری کرنے کا حکم ہے۔اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہے اس کا اجر دوں گا۔ اللہ تعالی نے روزہ دار کے لئے دو خوشیاں رکھی ہیں، ایک خوشی وہ جو افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے،اور دوسری خوشی اس وقت حاصل ہوگی جب وہ قیامت کے روز اپنے پرور دگار سے جاکر ملاقات کرے گا،اصل خوشی تو وہی ہے جو آخرت میں اللہ تعالی سے ملاقات کے وقت نصیب ہوگی۔دنیاوی لحاظ سے روزہ رکھنے کے بیشمار جسمانی، روحانی اور معاشرتی فوائد ہیں۔ روزے سے انسان کے نظامِ انہضام اور مرکزی دماغی یا اعصابی نظام کو مکمل آرام ملتا ہے اور غذا کے ہضم کرنے کا عمل نارمل حالت میں آجاتا ہے۔۔ اہل ایمان کے لئے ماہ رمضان ایک طرح سے ایمان کی تازگی کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسی لئے رمضان کے اختتام پر سچے روزہ داروں کو اداسی محسوس ہوتی ہے اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ شائد وہ دوبارہ رمضان المبارک کی فضیلتوں سے مستفید ہو سکیں گے کہ نہیں۔اللہ تعالی ہمیں رمضان کی سعادتیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور اس موذی وبا کورونا وائرس سے پوری دنیا کو نجات دے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.