اہم خبرِیں

مگر کون کرے گا

عید کے عین قریب پی آئی اے کے طیارے کے دلخراش حادثے نے بہت غمگین کر دیا۔ یہ دنیا بہت چھوٹی ہے ہر انسان کا کوئی نزدیکی یا دور پار جاننے والا ہوتا ہے اور یہ سوچ کر کہ آپ زمین سے سینکڑوں فٹ اوپر صرف اللہ کے حوالے ہوتے ہیں۔ جب یہ حادثہ ہوا تو جو لوگ اس میں سفر کر رہے تھے ذرا سوچئیے کیونکہ ہم صرف خبر سنتے ہیں اور پڑھ لیتے ہیں اور چائے کا گھونٹ لے کر اپنے مسائل میں الجھ جاتے ہیں۔ جہاز میں اللہ نے دو انسانوں کو زندگی دے کر یہ بتا دیا کہ اگر وہ چاہے تو زندگی دے سکتا ہے معجزے ہو سکتے ہیں۔ مجھے اپنی زندگی میں جہاز میں اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سفر کرنے کے بیشتر مواقع نصیب ہوئے۔ ایک دفعہ جہاز لاہور سے اسلام آباد جاتے ہوئے ائیر پاکٹ ہو گیا اور میرے ساتھ بیٹھے ہوئے مسافر نے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا اورجہاز میں چونکہ زیادہ تر بیورو کریٹ بیٹھے تھے اور حج کی فلائیٹ تھی۔ لہٰذا انہوں نے ایک خاموشی طاری رکھی اورجہاز سے باہر نکلتے ہوئے صرف یہ الفاظ کہے کہ آج اللہ نے بچا لیا۔ اسی طرح ایک دفعہ مدینہ شریف سے جدہ فلائیٹ پر آنے جہاز بادلوں کے گلیشئر سے ٹکرایا جیسے ہم کسی بڑی بلڈنگ سے ٹکرا گئے اورجہاز نے روز روز سے ہچکولے کھانے شروع کر دئیے۔ ہمارے جہاز میں زیادہ تر خواتین عربی تھیں اور معمر خواتین کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی اور احرام پہن کر سب بیٹھے تھے۔ یقین جانئے عمر کا خیال رکھے بغیر جہاز میں نوحہ خوانی شروع ہو گئی۔ چیخ و پکار اور بوڑھی خواتین زیادہ خوف سے چیخ و پکار کر رہی تھی۔ گویا جان سب کو پیاری ہوتی ہے اور وہ کیفیت ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ بیان ہوتی ہے۔ ان دو اہم واقعات کے بعد جب امریکہ جانے کا موقع ملا تو دوبئی سے امریکہ تک جہاز لرزتا رہا اور ہم پر خوف طاری رہا۔ یعنی ائیر پاکٹ کے واقعہ کے بعد مجھے فوری ماتھوں میں پیسنے میں آنا شروع ہو جاتے جب جہاز ذرا بھی ہلتا تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عمرے کے کئی مواقع دئیے اس ذات کا شکر ہے اورہمیشہ دوبئی، شارجہ، عمان، قطر، بحرین ان ریاستوں پر سے جب جہاز گزرتا ہے تو زور زور سے ہلتا تھا کیونکہ نیچے ائیرپاکٹ ہوتی ہیں۔ کیا خبر تھی ان لوگوں کو جولاہور سے کراچی روانہ ہو رہے تھے کہ یہ ان کا آخری سفر ہو گا۔ کسی کی بیٹی اپنے باپ سے ملنے جا رہی تھی کہ عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکے۔ اسی طرح جنید فیملی بیرونِ ملک سے لاہور آ کر کراچی جا رہی تھیں جس میں بچے بھی اور جوان خواتین تھیں۔ دو ساتویں جماعت میں پڑھنے والی بچیاں یعنی انہوں نے تو ابھی دنیا صحیح طور پر دیکھی بھی نہیں تھی اللہ ان سب کے درجات بلند کرے اورخالد شیر دل جوان سال خوبصورت انسان بھی تاحال خبروں میں انتقال فرما چکے ہیں۔ ان کی والدہ بیوی اور بھائی یقینا بہت صدمے میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو صبر دے اور اگر وہ زندہ ہیں تو اللہ معجزہ دکھائے۔ حادثے سے بہت سے سبق حاصل ہوئے کراچی ائیرپورٹ کے قریب اونچی عمارتیں تعمیر ہونا کس کی ذمہ داری ہے کون اس کا ذمہ دار ہے۔ یہ کبھی فرد جرم عائد نہیں ہو سکے گی۔ پرندوں کی بھرمار جہازوں کے لئے اور اس میں بیٹھنے والوں کے لئے بہت بڑا خطرہ مگر کوئی انتظامات نہیں ہوئے اور ذمہ داری بیچارے پائلٹ پر ڈال دی جاتی ہے۔ جس طرح ہمارے پاکستان میں بڑے بڑے سانحے ہو جاتے ہیں اور لوگ بھول جاتے ہیں۔ پوری دنیا کورونا وائر س سے پریشان اورہم بھی اسی دنیا کا حصہ ہیں۔ حفاظتی تدابیر کے لئے حکومتی کوششیں بے سود عوام جوق در جوق عید کی خوشیوں میں مشغول۔ اب تو پوری دنیا کو احساس ہو گیا ہے کہ ہمیں اس موذی وباء کے ساتھ ہی زندہ رہنا ہے اور اس کا فی الحال کوئی علاج یا ویکسین دریافت نہیں ہوئی۔ البتہ کچھ ادویات سے اس مرض کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کی لاک ڈائون میں نرمی سمجھ میں آتی ہے کیونکہ پاکستان کی آبادی شدید غربت کا شکار ہے اور دیہاڑی دار، ریڑھی والا، غبارے والا، سموسے والا سمیت ایسے غریب لوگ موجود ہیں جن کو کم از کم کھانے دو وقت کی روٹی مل جائے گی۔ ٹیلی ویژن پر کورونا پر مباحثے سن کر اپنے میڈیا کی زبوں حالی اورناگفتہ بہ حالت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کورونا پر گفتگو ڈاکٹر یا وبائی امراض کے ماہر کی بجائے سیاستدان گفتگو فرما رہے ہوتے ہیں اور اس کنفیوز قوم کو مزید گمراہ کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر انہیں اپنے پروگرام کے پیٹ بھرنے کے لئے آخر کوئی کوئی تو بولنے والا چاہئے۔ سیاست اور کورونا میں فرق ہونا چاہئے ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو یہ کہتا ہے کہ غریب کہاں ہے اور کون سا غریب مر گیا ہے۔ ایک دن عظمیٰ بخاری جو ن لیگ کی پنجاب سے نمائندگی کرتی ہیں فرما رہی تھیں کہ یہ سب جھوٹ ہے کوئی غریب نہیں مر رہا یہ سب پراپیگنڈہ ہے۔ یقین جانئے اگر آپ دماغی طور پر مفلسی کا شکار ہو چکے ہیں تو پھر یقینا آپ کو غریب نظر بھی نہیں آئے گا اورنہ غربت کا پتہ ہے۔ غریب وہ لوگ ہیں جو بیس روپے کے دو چائنیز لیموں خریدتے ہیں اور روزہ پوری فیملی افطار کرتی ہے۔ کاش ہم لوگ غریبوں کا درد سمجھ سکیں۔ عید مبارک کے پیغامات کا سلسلہ شروع ہو چکا۔ واٹس ایپ پر لوگوں کو تلقین کی جارہی ہے کہ کورونا وائرس کے شکار لوگوں کے احترام میں اور اس بیماری کی شدت کی وجہ سے عید گھر پڑھی جائے اور بزرگ، بچے عید گاہ میں شریک مت ہوں۔ عید کی نماز ماڈل ٹائون میں پارک میں ادا کی جائے گی جس میں شرط عائد کی گئی ہے کہ پچاس سال سے زائد عمر کے لوگ شرکت نہیں کرسکتے۔ تو کیا ان کے پیدائش کے سرٹیفکیٹ ماڈل ٹائون اسلامک ٹرسٹ یا ماڈل ٹائون سوسائٹی کے اہلکار چیک کریں گے۔ کچھ لوگ بدن چور عمرکے حاصل ہوتے ہیں وہ دیکھنے میں جوان لگتے ہیں مگر ساٹھے باٹھے ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ سوال کہ پچاس سال سے زائد لوگ شرکت نہیں کر سکتے عجیب و غریب ہے۔ نماز میں پچاس سال سے زائد عمر کے لوگوں سے بڑھ کر معاملہ نماز کے بعد مختلف گیٹوں سے واپسی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ جہاں سینکڑوں لوگ ایک گیٹ سے دھکم دھیل کے ذریعے باہر جا رہے ہوتے ہیں خیر یہ تو وقت بتائے گا۔ آج کل ماڈل ٹائون کے دن مکمل طور پر لاک ڈائون سے تمام داخلی خارجی راستے بند کر دئیے گئے ہیں۔ اکثر لوگ راتوں کو چکر لگا کر واپس چلے جاتے ہیں۔ یقین جانئے ایک وقت ہمیں خود معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کونسے بلاک میں ہیں کیونکہ ہر بلاک ایک ہی طرح کا ہوتا ہے۔ ماڈل ٹائون انتظامیہ کو چاہئے کہ لوگوںکو گیٹوں کے ذریعے لاک ڈائون نہ کریں بلکہ کچھ سہولتیں دیں تاکہ ان کے لئے آنے جانے میں آسانی ہو سکے۔ سوشل میڈیا میں لوگ باتیں بہت کرتے ہیں اور عمل صفر ہوتا ہے جو پوسٹ آتی ہیں اسے آگے بڑھا رہے ہیں۔ غیر اخلاقی مواد موجود ہو تو حضرات پوسٹ کو بغیر پڑھے یا ویڈیوز کو دیکھے بغیر آگے فاروڈ نہیں کرنا چاہئے۔ سوشل میڈیا کی طرف ہماری قوم بھیڑ چال کی طرح راغب ہو جاتی ہے۔ برادی نے یوٹیوب چینل کھول لیا ہے اوردرخواست کی جاتی ہے کہ اسے سبکریو کریں یعنی لائک کریں۔ آج ہماری نئی نسل کے پاس اپنے بزرگوں والدین کے لئے وقت نہیں ہوتا وہ تن تنہا گھنٹوں اپنے کمروں میں قید رہتے ہیں۔ جسمانی ورزش سے کوسوں دور یا تو ویڈیوز گیمز کھیلتے ہیں یا پوسٹیں پڑھتے ہیں۔ کسی زمانے میں عید کارڈز چھپتے تھے اور لوگ ان عید کارڈز کو اپنی میزوں پر سجاتے تھے۔ جب عید کے بعد دفتر کھلتا تو ہم اپنے دوستوں اور عزیزوں کی طرف سے بھیجے گئے کارڈوں کو دفتر کی میز پر سجاتے تھے۔ خیر اکیسیویں صدی کے نئے تقاضے اور نئے کرشمے ہیں۔ اب ہمیں واٹس ایپ فیس بک پیغامات اور میسنجر کے ذریعے ایک دوسرے کو عید کی مبارک دینی پڑتی ہے۔ یہ آدمی کا اپنا انداز ہے کوئی میسنجر کے ذریعے پیغامات دیتا ہے۔ حالانکہ واٹس ایپ بھی فری ہوتا ہے اکثر اوقات مجھے ان پیغامات کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ عید پر لوگ ایک دوسرے کوخوبصورت پیغامات واٹس ایپ کے ذریعے بھیجتے ہیں اور بعض اوقات ایسے دوستوں کے پیغامات ملتے ہیں جس نے بات کئے ہوئے سالوں بیت جاتے ہیں۔ عید کی نمازکے لئے بہت لوگ تیاریاں کر رہے ہیں۔ مولوی حضرات کی عیدی بھی دینی ہوتی ہے جس کے لئے وہ بہت اہتمام کرتے ہیں ۔ ہمارے ملک میںشائد بہت زیادہ لوگ اسلامی ذہن کے مالک ہیں۔ لہٰذا وہ نہ تو جمعہ کی نماز ترک کرتے ہیں نہ تراویح چھوڑتے ہیںاور اکثر یہ کہتے سنے گئے کہ عمران خان نے دنیا سے چندہ لے لیا ہے۔ لہٰذا لاک ڈائون کھل گیا ہے کورونا شرونا کوئی بیماری نہیں ہے وہ نہ تو سعودی عرب میں کورونا سے بچنے کی تدابیر کو سمجھتے ہیں نہ کویت، نہ قطر، نہ دوبئی، نہ انڈونیشیا، بس ایک رٹ لگاتے ہیں جو رات قبر میں آنی ہے اسے کوئی نہیں ٹال سکتا۔ لہٰذا آپ دیکھ رہے ہیں کہ کورونا سے سائوتھ ایشیا میں اموات میں پاکستان سب سے آگے ہے اور ان مریضوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ لہٰذا جسے اللہ بچائے گا وہ بچے گا ورنہ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آخر میں چینی کمیشن کی رپورٹ پر سیاستدانوں کا ردعمل جو عین توقعات کے مطابق ہے اپوزیشن کا شوق ہے کہ عمران ہر بیماری پر معیشت اسکینڈل کے ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ عمران خان نے ان بھیڑوں کے چھتے پر ہاتھ رکھ دیا ہے جو مل ملا کر پاکستان کے غریب عوام غریب کسان کا خون چوستے تھے۔ اربوں روپے کے ریفنڈ وصول کرتے ہیں اور غریبوں کے خون پسینوں کی کمائی سے تیار کردہ فصلوں کوسستے داموں خرید لیتے ہیں۔ یقین جانئے قطع نظر اس سے کہ اپوزیشن کے لوگوں کے نام جنہوں نے سیاست میں آ کر بزنس کیا اور یہ لوگ ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ بس ہر پارٹی میں موجودہیں باپ کسی بیٹا کسی اور پارٹی میں بیٹیاں اور بہو علیحدہ کسی پارٹی میں بیٹھ کر مزے لوٹتے ہیں ان کا احتساب ناممکن ہے۔ ان کو عمران خان سے یہ شکوہ ہے کہ نیازی صاحب آپ ہم سے تعاون کیوں نہیں کرتے ہم نے آپ کی طرف دستِ تعاون بڑھایا ہے۔ ایوب خان کے وقت بائیس خاندان تھے آج بائیس ہزار سے زیادہ ہیں۔ مگر ان کے ہاتھ لمبے ہیں پاکستان کا مظلوم طبقہ صرف بزنس مین ہے۔ جو انکم ٹیکس بھی نہیں دیتے 29ارب کے ریفنڈ اور ٹیکس دس سے بارہ ارب اگر کالے دھن کو سفید کرنا ہو تو ان کے لئے میڈیا میں اینکر حضرات اور تجزیہ نگار بیٹھے ہیں کالم پر کالم لکھے جاتے ہیں کہ ٹیکس ایمنسٹی دے دو اربوں روپے پاکستان میں آ جائیں گے مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ جناب پانامہ کیس کے 400 داراد میں میاں نواز شریف کو تو سزا ہو گئی مگر ان شرفا کے نام غائب ہو گئے نہ ان کے خلاف تحقیقات نہ کوئی انکوائری حتیٰ کہ ان کے نام صیغہ راز میں رکھے گئے ہیں۔ جناب اگر پاکستان میں یہ ناانصافیاں ہوتی رہیں تو ایک دن ہم پھر سانحہ مشرقی پاکستان کو دھرائیں گے۔ سنبھل جائیے اورقانون کی بالادستی اورانصاف کا بول بالا کریں مگر کون کرے گا؟؟


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.