Latest news

لاہور میٹرو بس سروس

کل میں نے ایک اخبار میں میٹرو بس کے حوالے سے اسکی خستہ حالی کی خبر پڑھی تھی۔ جس کے مطابق پنجاب حکومت نے میٹرو بسوں کی دیکھ بھال کرنے والی غیر م±لکی کمپنی البیراک کے ساتھ معاہدے میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جسکی وجہ سے البیراک نے بسوں کی دیکھ بھال کا کام بند کر دیا ہے۔ جس سے نہ صرف بسوں کی حالت مزید خستہ ہونا شروع ہو گئی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ 80 فی صد بسوں کے ائیر کنڈیشنڈ خراب پڑے ہیں۔ اسی وجہ سے 15 کے قریب ڈرائیور کمپنی کو چھوڑ کر بھی جا چکے ہیں۔

پنجاب حکومت نے اب تک لاہور میٹرو بس سروس کو 12 ارب سے زائد کی رقم سبسڈی کی مد میں ادا کی ہے۔ اگلے سال پہلا معاہدہ ختم ہو گا۔ یاد رہے کہ سابق حکومت نے ستمبر 2012 میں اس غیر ملکی کمپنی البیراک کے ساتھ میٹرو بس چلانے کا آٹھ سالہ معاہدہ کیا تھا۔ اب اس معاہدے کو کئے سات سال ہو گئے ہیں۔ البیراک پنجاب حکومت سے تقریباً ایک ارب ستر کروڑ سالانہ کے حساب سے بارہ ارب روپیہ لے چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق البیراک کی جانب سے ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی جانب سے افسران سے رابطے شروع کئے ہوئے ہیں تاکہ معاہدے میں توسیع ہو جائے۔

کل جب میں نے یہ خبر پڑھی تو خیال آیا کہ خبر کتنی صیح ہے یہ تو بعد کی بات ہے۔ کیوں نہ میں خود میٹرو بس میں سفر کروں اور جائزہ لوں۔ میں چونکہ ہر سال آتا ہوں اور بسوں میں سفر کرتا ہوں تاکہ حالات کا جائزہ لے سکوں۔ پہلی بار میٹرو بس میں 2014 میں بیٹھا تھا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ جاری و ساری رہا۔ تو یقین کریں میں اس بس سروس سے سے بے انتہا متاثر ہوا تھا۔ کسی بھی باہر کی بس کمپنی سے کسی صورت بھی اس کی سروس کم نہیں۔ لیکن کل اس میں بیٹھ کر واقعتاً مایوسی ہوئی۔ کم از کم دس مختلف مسافروں سے اس بارہ میں بات ہوئی سب نے ہی بتایا کہ سروس اب وہ نہیں رہی۔ یہ سب وہ تھے جو روزانہ کی بنیاد پہ میٹرو بس میں سفر کرنے والے ہیں۔ چلیں ان کو بھی چھوڑیں۔ میں 2014 سے مسلسل میٹرو بس میں سفر کرتا آرہا ہوں۔ گزشتہ برس تک سب اچھا تھا۔ اس بار اے سی بند نظر آیا۔ اور اناونسمنٹ بھی نہیں ہورہی تھی۔ اس سے قبل پتہ چل جایا کرتا تھا کہ اگلا اسٹیشن آنے والا ہے اور مسافر پہلے ہی اٹھ کے دروازے کے پاس آ جایا کرتے تھے۔ میں نے ابھی تک دو چار مرتبہ میٹرو بس پہ ٹریول کیا ہے۔ ص±ورتِ حال same ہی نظر آئی ہے۔ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے بعد خبر کافی حد تک درست لگی ہے۔ اور ویسے بھی ایک معتبر اخبار نے یہ خبر چھاپی ہے۔ اور اسطرح کے بڑے اخبار بے بنیاد خبریں چھاپیں تو ان کی بدنامی ہوتی ہے۔

پنجاب حکومت کو بسوں کی حالتِ زار سے متعلق رپورٹ دی گئی تھی کہ متعلقہ کمپنی کی جانب سے انہیں ٹھیک نہیں کروایا جا رہا۔ اب اللہ جانے درمیانی کہانی کیا ہے۔مگراس کے نتیجے میں گزشتہ ایک سال سے بسوں کی دیکھ بھال بند کر دی اور خراب ہونے والی چیزوں کو درست کرانے میں ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا۔ اس سے ایک اور مسئلہ ہوا کہ کئی ڈرائیورز نوکری چھوڑ گئے۔ کیونکہ جو ڈرائیورز شروع سے اے سی والی بسوں میں بیٹھ کر آٹھ نو گھنٹے کام کرنے کے عادی ہو چکے تھے اب ان کو گرمی اور حبس میں کام کرنا پڑ رہا تھا۔ اس کے علاوہ یقیناً اور بھی کئی ایشوز ہوں گے جو ابھی تک منظرِ عام پہ نہیں آسکے۔ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے جنرل منیجر کے مطابق معاہدے میں توسیع سے متعلق سوچ بچار ہو رہی ہے۔ اگر کمپنی بسوں کی حالت ٹھیک رکھے تو معاہدے میں توسیع ہو سکتی ہے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ موجودہ حکومت میٹرو بس کو محض اس وجہ سے اگنور کر رہی ہو کہ یہ پچھلی حکومت کے دور میں بنی تھی لہذا اسے توجہ نہ دی جائے۔ یہ بات میں ایسے ہی نہیں کر رہا۔ اسطرح ہوتا ہے۔ کسی کو شک ہو تو ذرا ماضی میں جھانک لے۔ یہ میرا خیال ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.