کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحر گاہی

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحر گاہی

اس سال کورونا وائرس کی وبا کے باعث جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے علامہ اقبال کے یوم وفات کے حوالے سے تقاریب کا انعقاد نہیں ہورہا ہے۔ تا ہم مختلف نشریاتی رابطوں کی وساطت سے ماہرین اقبال و جید شخصیات کے آڈیو، ویڈیو پیغامات جاری کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ تا کہ شاعر مشرق کو خراج تحسین پیش کیا جائے اور ان کی شخصیت اور کلام سے ا ستفادہ عام کی صورت پیدا ہو سکے۔

علامہ اقبال بر صغیر کے مشہور شاعر،مصنف، سیاستدان ،قانون دان،فلاسفر،مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کے عظیم کارکن تھے۔۔جنہوں نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور اپنی کوششوں سے قائد اعظم محمد علی جناح کو مسلمانوں کے لئے ایک الگ ریاست حاصل کرنے کے لئے آمادہ کیا۔انہوں نے اردو اور فارسی میں بہت اعلی درجے کی شاعری کی۔ان کی شاعری کے ترجمے دنیا کی بیشتر زبانوں میں کئے گئے ہیں۔ ان کی شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ایک تحقیق کے مطابق علامہ اقبال کے 12000 اشعار میں سے تقریباًٍ 7000 اشعار فارسی میں تھے۔انگریزی نثر میں انہوں نے ”اسلام میں مذہبی افکار کی تعمیر نو ” لکھی۔ پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران نومبر 1899 کی ایک شام کچھ بے تکلف ہم جماعت انہیں حکیم امین الدین کے مکان پر ایک محفلِ مشاعرہ میں کھینچ کر لے گئے۔ جہاں بڑے بڑے سکّہ بند اساتذہ، شاگردوں کی ایک کثیر تعداد سمیت شریک تھے۔ سُننے والوں کا بھی ایک ہجوم تھا۔ اقبال چونکہ بالکل نئے تھے، اس لیے ان کا نام مبتدیوں کے دور میں پُکارا گیا۔ غزل پڑھنی شروع کی، جب اس شعر پر پہنچے کہ

موتی سمجھ  کے  شانِ  کریمی  نے  چُن  لیے
قطرے  جو   تھے   مرے   عرقِ   انفعال   کے

تو اچھے اچھے استاد اُچھل پڑے۔ بے اختیار ہو کر داد دینے لگے۔ یہاں سے اقبال کی بحیثیت شاعر شہرت کا آغاز ہوا۔1905 میں علامہ اقبال اعلی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی ٹرنٹی کالج میں داخلہ لے لیا۔ چونکہ کالج میں ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے لیے گئے تھے اس لیے ان کے لیے عام طالب علموں کی طرح ہوسٹل میں رہنے کی پابندی نہ تھی۔ قیام کا بندوبست کالج سے باہر کیا۔ ابھی یہاں آئے ہوئے ایک مہینے سے کچھ اوپر ہوا تھا کہ بیرسٹری کے لیے لنکنز اِن میں داخلہ لے لیا۔ اور پروفیسر براؤن جیسے فاضل اساتذہ سے ر ہنمائی حاصل کی۔ بعد میں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ کی ڈگری حاصل کی۔ اقبال اپنے پی ایچ ڈی مقالے کے لئے جرمن زبان سیکھنے کے لئے 6 ماہ ہائیڈل برگ میں رہے۔ 1977 میں پاکستان اور جرمنی کے مابین باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لئے اقبال فیلوشپ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ایران میں علامہ اقبال،اقبالِ لاہوری کے نام سے جانے جاتے ہیں۔وہ ایک سچے مسلمان تھے۔ان کے اشعار میں ادب،  تاریخ،  ثقافت،  دین،  فلسفہ، سیاست، تعلیم اور صوفی ازم پایا جاتا ہے۔ وہ اپنے اشعا ر میں بڑی گہری باتیں کر جاتے تھے۔مختلف شخصیات نے ان کی کتب کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔یوسف سلیم چشتی کو16 سال علامہ محمد اقبال کی صحبت کا شرف حاصل رہا۔ آپ نے اقبال کی تمام اردو اور فارسی کتابوں کی شرحیں لکھی ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر محمد ذکریا (پنجاب یونیورسٹی)نے بھی تفہیم بال ِجبریل 2013 میں لکھی تھی۔ڈاکٹر اسراراحمد مرحوم کے مطابق”اس دور میں عظمتِ قرآن اور مرتبہ و مقام قرآن کا انکشاف جس شدت کے ساتھ اور جس درجہ میں علامہ اقبال پر ہوا شاید ہی کسی اور پر ہوا ہو اور یہ کہ میرے نزدیک اس دور کا سب سے بڑا ترجمان القرآن اور داعی الی القرآن اقبال ہے”۔علامہ اقبال مسلمانوں کی قرآن سے دوری پر بہت افسوس کا اظہار کرتے تھے۔

خوار از  مہجوری  قرآں   شدی
شکوہ سنج گردش دوراں   شدی
اے  چوں  شبنم بر  زمیں  افتندہ
در بغل   داری   کتاب    زندہ

کہ اے مسلمان! تیری ذلت کا اصل سبب یہ ہے کہ تو نے قرآن کو چھوڑ دیا۔اور زمانے کی گردش کے شکوے کرنے لگا۔اے کہ تو شبنم کی طرح زمین پر گرا پڑا ہے،اور تیری بغل میں کتاب زندہ ”قرآن” ہے۔یہاں علامہ اقبال نے ”مہجوری قرآن ”کی ترکیب سورة الفرقان آیت نمبر 30 سے لی ہے۔
اقبال کے ایک ایک شعر میں کئی شخصیات اور تاریخی واقعات کی عکاسی کی گئی ہے۔جیسے

عطار  ہو  رومی   ہو رازی  ہو  غزالی ہو
کچھ  ہاتھ   نہیں   آتا   بے  آہ   سحر  گاہی

اس شعر میں علامہ اقبال تاریخ اسلام کی چار اہم شخصیات کی کامیابی کا نسخہ بتاتا ہے۔فرید الدین عطار بارہویں صدی کے مشہور صوفی شاعر اور تذکرہ اولیا ء کے مصنف تھے۔شیخ فرید الدین عطار نے ادویات سے متعلق پیشہ اپنایا اور ان کے مطب کی دور دور تک مشہوری تھی۔کہا جاتا ہے کہ شیخ فرید الدین عطار کے مریض انھیں اپنی مشکلات، مصیبتوں اور درپیش جسمانی و روحانی تکالیف سے آگاہ رکھتے، جس کا ان کی سوچ پر گہرا اثر مرتب ہوا۔انھیں صوفیائے کرام کے احوال زندگی سے انتہائی لگاؤ تھا اور وہ اپنی زندگی ان صوفیائے کرام کے فرمان کے عین مطابق گزارنے کے خواہاں رہے اور یہی صوفیائے کرام زندگی میں ہر موڑ پر ان کی رہنمائی اپنے فرمودات اور نظریات سے کرتے رہے۔ محمد جلال الدین رومی(1272-1207) مشہور فارسی شاعر تھے۔ مثنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریز(یہ اصل میں مولانا کا ہی دیوان ہے لیکن اشعار میں زیادہ تر شمس تبریز کا نام آتا ہے اس لیے اسے انھی کا دیوان سمجھا جاتا ہے) آپ کی معروف کتب ہیں، آپ دنیا بھر میں اپنی لازوال تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں، آپ کا مزارقونیہ ترکی میں واقع ہے۔مولانا رومی کو علامہ اقبال اپنا مرشد مانتے تھے۔

محدث، فقیہ، شیخ الاسلام فخر الدین رازی(1149ـ1209) بہت بڑے فلسفی اور تفسیر کبیر کے مصنف تھے۔

امام غزالی(1111-1059) اسلام کے مشہورفلاسفر، مفکر اور متکلم تھے۔ان کی مشہور تصانیف احیاء العلوم، تحافتہ الفلاسفہ، کیمیائے
سعادت اور مکاشفتہ القلوب ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی تصنیف کردہ کتب کی تعداد 400 سے زیادہ ہے۔اقبال کے مطابق عشق حقیقی کی بدولت ان شخصیات نے اپنی منزل کو پایا۔یہ سب لوگ سحر گاہی کی لذت سے آشنا ہو جاتے ہیں۔اور آہ زاری سے خدا کی توجہ کے طالب ہوتے ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ سے حقیقی لگاؤ ان کو درد مند اور حساس دل عطا کرتا ہے۔اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے لئے سخت جدوجہد،لگن اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ علامہ اقبال مزید فرماتے ہیں

خونِ رگِ معمار کی گرمی سے ہے تعمیر
میخانہ   حافظ  ہو  کہ  بُتخانہ    بہزاد
بے  محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا
روشن  شرَرِ تیشہ  سے ہے خانہ فرہاد!

پاکستان کی نوجوان نسل کے لئے علامہ اقبال کی شاعری مشعل راہ ہے۔فکر اقبا ل کو تازہ رکھنے کے لئے پاکستان میں اقبال اکیڈمی، دبستان اقبال،انٹرنیشنل اقبال سوسائٹی،کشّاف الالفاظ اقبال ویب سائیٹ،علامہ اقبال سٹیمپ سوسائٹی اور دیگر ادارے اہم کردار کر رہے ہیں۔


3 تبصرے
  1. ایس ایچ این کہتے ہیں

    نہایت عمدہ کالم
    کالم نگار کے قلم میں روانی، خیالات میں جولانی اور جذبے میں فروانی چھلک رہی ہے.

  2. Awais کہتے ہیں

    Masha Allah

  3. Qasim کہتے ہیں

    Masha ALLAH.. Keep it up good article. Best of luck

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.