اہم خبرِیں
پنجاب حکومت 50 کروڑ ڈالرقرض لے گی پارک لین ریفرنس، آصف زرداری کی درخواست مسترد لڑکی کی لڑکی سے شادی کیس، دلہا کا نام ای سی ایل میں شامل بھارت میں سیکڑوں مساجد مندروں میں تبدیل نوازشریف کو سزا دینے والے جج برطرف ایم ایل ون منصوبہ میری زندگی کا مشن تھا، شیخ رشید پاکستان کا نیا نقشہ گوگل سمیت تمام سرچ انجنز کو بھجوانے کا فیص... حکومت کا ہوٹل، پارکس، سیاحتی مقامات کھولنے کا اعلان ملک میں کوروناکیسزمیں کمی، 21 اموات رپورٹ آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی صورتحال کلبھوشن یادیو کے معاملے پر پاکستان کا بھارت سے پھررابطہ احساس پروگرام کے تحت 169 ارب روپے تقسیم پاکستان نے سعوی عرب کا قرضہ واپس کر دیا پاکستان کو 40 کروڑ ڈالر قرضوں کی منظوری برطانوی خلائی کمپنی "سپر سانک" کمرشل طیارہ بھی بنائے گی اولڈٹریفورڈ ٹیسٹ، پاکستان 139 رنز سے اننگز آگے بڑھائے گا بیروت دھماکے، ہنگامی حالت کا نفاذ شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد پاکستان کی درخواست پرسلامتی کونسل کا ایمرجنسی اجلاس پاک افغان بارڈر پربھاری ہتھیاروں سے فائرنگ

”کشمیریوں کی زندگی کی بھی اہمیت ہے“

امریکا سے ایک بار پھر اٹھنے والا نعرہ “Black lives Matter” ‘سیاہ فاموں کی زندگی کی اہمیت ہے’ دنیا بھر میں گونج رہا ہے۔ امریکا میں یہ نعرہ نسلی منافرت کے خلاف بلند ہوا تھا اور اس کے بعد ”سب زندگیاں اہم ہیں“ کی تحریک نے بھی کروٹ لی۔ برطانوی پاکستانیوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم کی جانب دنیا کو متوجہ کرنے کے لیے اسی طرز پر ”کشمیریوں کی زندگی کی بھی اہمیت ہے“ کی آواز اٹھائی۔ معروف فلم اسٹار مہوش حیات جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرتی رہی ہیں انہوں نے بھی ایک انٹرویو میں کشمیریوں کا درد بیان کرنے کی خاطر اس نعرے کا حوالہ دیا۔ مودی کے اقتدار سے کشمیریوں کی زندگی میں ایک خونیں موڑ آیا ہے لیکن بھارتی شہریوں کا دامن بھی اس آگ سے محفوظ نہیں ہے۔ پاکستانی نژاد برطانوی بزنس مین اور رہنما طرب راجہ نے بھی حال ہی میں کشمیریوں کی حالت زار کی جانب دنیا کو متوجہ کرنے کے لیے بیان دیا کہ سیاہ فاموں کے ساتھ ہونے والے مظالم پر مغربی دنیا کو ہوش آیا ہے تاہم برسوں سے جاری ”کشمیری لائیوز میٹر“ کی مہم کو مزید توجہ کی ضرورت ہے۔
بھارتی آئین کی دفعہ 370 کے خاتمے اور بھارتی پارلیمان سے اس کی منظوری کے بعد بھارت کشمیر کے متنازعہ علاقے میں مداخلت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا۔ مودی نے اس علاقے کو جموںو کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرکے انہیں ”وفاقی علاقے“ قرار دیا اور براہ راست دہلی کی حکومت کے ماتحت کردیا۔کشمیری سیاسی رہنماو¿ں کو نظر بند کیا گیا۔ یہ اقدام ”دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت“ ہونے کے دعوے دار ملک نے کیا، اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہاںکیسی جمہوریت ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لیے ”گھر واپسی“ کے نام سے تحریک بھی جاری رہی۔ مسلمانوں کی شہری حیثیت کو ہدف بنانے کے لیے دیگر قوانین میں ترمیم کی گئی جس نے بھارت اور بالخصوص کشمیری مسلمانوں کے عدم تحفظ کے احساس کو مزید بڑھایا۔ کشمیر دہائیوں سے بھارتی جبر تلے ہے اور پانچ لاکھ بھارتی فوجی وہاں ”قانون“ کے نفاذ کے لیے تعینات ہیں۔ کئی برسوں سے کشمیر دنیا کا سب سے بڑا جیل خانہ بنا دیا گیا ہے۔ حال ہی میں بھارتی ظلم کی ایک اور اندوہ ناک تصویر سامنے آئی جس میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور میں ایک بچہ اپنے مقتول نانا کی چھاتی پر بیٹھا دکھایا گیا۔ اس تصویر نے غم و غصے کی ایک اور لہر کو جنم دیا۔ 65سالہ مقتول شہری کے اہل خانہ بھارتی سیکیورٹی فورسز پر اس قتل کا الزام عائد کررہے ہیں۔ ان کا کہنا کہ وہ اپنے تین سالہ نواسے کے ساتھ کار میں سوار تھے جہاں سے انہیں نکال کر بچے کے سامنے قتل کیا گیا۔ موجودہ حالات میں واضح نظر آرہا ہے کہ کشمیری نوجوان مسلح مزاحمت کی طرف بڑھ رہے ہیں اور خانہ جنگی کی آگ دہک رہی ہے۔ تشدد کو مسترد کرکے زندگی بسر کرنے والے پس رہے ہیں اور روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ شہری حقوق کی ایک تنظیم ”کولیشن آف سول سوسائٹی“ کے مطابق گزشتہ چھے ماہ کے دوران کشمیر میں کم از کم 229 افراد قتل ہوئے جن میں 32عام شہری بھی شامل تھے۔
جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرکے کشمیریوں کو اس حق سے محروم کردیا گیا ہے جو انہیں بھارتی آئین کی دفعہ 35اے کے ذریعے فراہم کیا گیا تھا جس کے مطابق یہاں غیر مقامی افراد کو جائیداد اور سرکاری ملازمت وغیرہ کا حق حاصل نہیں تھا۔ اسے کشمیر میں غیر مقامی افراد کو لا کر بسانے کی سوچی سمجھے سازش قرار دیا جارہا ہے۔ 18مئی تک 25ہزار افراد کو کشمیر کا ڈومیسائل جاری کیا گیا جس سے ان خدشات کی تصدیق ہوتی ہے کہ مسلم اکثریتی آبادی رکھنے والے اس علاقے میں آبادیاتی(ڈیموگرافک) تبدیلیاں لائی جارہی ہیں۔ اس سرٹیفکیٹ سے غیر مقامی افراد کو اس خطے میں مستقل قیام اور سرکاری ملازمت کے وہ حقوق بھی مل جائیں گے جو اس سے پہلے صرف مقامی افراد کے لیے مخصوص تھے۔ دونوں جانب کے کشمیری رہنماو¿ں نے ان قانونی تبدیلیوں کی شدید مزمت اور مخالفت کی ہے اور خطے کے مسلمانوں کو حاصل خصوصی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیاہے۔
کشمیریوں اور مسلمانوں سے ’نمٹنے‘ کے من چاہے ہتھ کنڈ استعمال کرنے کے بعد حال ہی میں مودی سرکار کے کچھ اور عزائم بھی بے نقاب ہوئے ہیں۔ لداخ کو سابق ریاست کشمیر سے الگ کرکے بھارت نے براہ راست مرکزی حکومت کے تحت کردیا۔ اس کے نتیجے میں مزید مسائل سامنے آئے کیوں کہ ثقافتی اعتبار سے لداخ چینی تبت کا حصہ ہے اور اسی طرح اس کی آبادی تبتی ہے یا اس میں ایک بڑا حصہ ان کا شامل ہے۔ اکسائی چن کا علاقہ جو پہلے ہی چین کے زیر انتظام لداخ میں شامل ہے اور بھارت کے ساتھ چین کا غیر حل شدہ سرحدی تنازعہ ایک بارپھر مرکز نگاہ بن گیا ہے۔ اس کا پہلا نتیجہ یہ برآمدہوا کہ بھارت نے ایک بار پھر 1950کی دہائی میں تشکیل دی گئی اپنی ”فارورڈ پالیسی“ پر عمل شروع کردیا جس میں متنازعہ علاقے میں فوجی چوکیوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔ اسی پالیسی کی وجہ سے 1962میں چین اور بھارت کے مابین جنگ ہوئی۔ مودی کا ”کواڈ الائنس“ میں شامل ہونا ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کی نظریں صرف کشمیر ہی پر نہیں بلکہ وہ لائن آف کنٹرول سے ملحقہ زیادہ سے زیادہ علاقہ ہتھیانا چاہتا ہے۔ ایل اے سی دونوں ممالک کے درمیان عملاً حد بندی ہے حقیقی سرحد نہیں۔ امریکا اور دیگر کواڈ قوتوں کی مدد کے آسرے پر بھارت کی یہ جارحانہ پیش قدمی اپنے اور خطے کے عوام کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ گزشتہ دہائیوں کے دوران بھارت نے سکم کے ساتھ بھوٹان اور نیپال کے ان علاقوں کو بھی اپنے حدود میں شامل کیا ہے جن پر وہ ملکیت کا دعویٰ رکھتا تھا۔
بھارت کی جارحانہ پالیسی سے خطے کا امن پہلے ہی داو¿ پر لگ چکا ہے۔ چین کے علاقوں میں چھیڑ چھاڑ کی گئی تو وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشا نہیں دیکھے گا۔ گزشتہ ماہ دونوں ممالک کی افواج کے مابین ہونے والا تصادم محض ایک جھلک ہے۔ اس کے بعد سے چین نے سرحدی علاقے میں بھاری اسلحہ نصب کردیا ہے اور بھارت کی جانب سے کسی بھی حملے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ دفاعی امور کے عالمی ماہرین پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ لداخ اور ہمالیائی سرحد کے پہاڑی علاقوں میں بھارتی فوج کی افرادی قوت اور عسکری تربیت چین سے مقابلے کے قابل نہیں۔ وہ یہ بھی خبردار کررہے ہیں کہ امریکا اور دیگر کواڈ قوتوں کی مدد زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھے گی اور بھارت کی کسی بھی فوجی مہم جوئی کا انجام 1962کی جنگ سے مختلف نہیں ہوگا۔ بھارت کو اس جنگ میں بری طرح مار پڑی تھی اور اگر چین رضاکارانہ طور پر قدم پیچھے نہ ہٹاتا تو اسی وقت لداخ اور تبت ضم ہوجاتے۔
چین بھارت سرحد پر پیدا ہونے والی اس ہولناک صورت حال پر دنیا خاموش ہے۔ یمن، شام، لیبیا اور فلسطین میں بھڑکتی آگ کے بعد کیا ہم کسی اور خطے میں بھی ہزاروں انسانوں کی موت اور ان پر مسلسل خطرات منڈلاتے دیکھنے کے منتظر ہیں؟ بھارت کو چین اور مسلمانوں کے خلاف اس کے عزائم سے روکنا ہوگا۔ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس میں بھارت کو من مرضی کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اس کے غیر قانونی اقدامات کو روکنا ضروری ہے۔ عالمی میڈیا نے لداخ کے تنازعے میں اس کے کشمیر سے تعلق کو یکسرنظرانداز کیے رکھا۔ یہ بات بھلا کیسے فراموش کی جاسکتی ہے کہ کشمیر جنوبی ایشیا کا رستا زخم ہے جس سے نہ صرف پورے خطے کا امن متاثر ہورہا ہے بلکہ سب سے بڑھ کر کشمیریوں کو مسلسل جبر تلے کچلا جارہا ہے۔ اس لیے ”کشمیریوں کی زندگی کی بھی اہمیت ہے“ کا یہ پیغام پوری دنیا تک پہنچانا ہوگا۔
(فاضل کالم نگاری سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.