Latest news

کشمیر ۔۔لہو چھپائے نہ چھپے گا

کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ تقسیم ہند کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا دھماکہ خیز اقدام ہے ۔اس فیصلے نے مسئلہ کشمیر کی تاریخی حیثیت کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ پانچ اگست 2019سے پہلے 72سالوں کے دوران تنازعہ کشمیر کی ایک خاص حیثیت تھی جس کو پاک بھارت ساڑھے تین جنگوں دو طرفہ مذاکرات اور عالمی سفارت کاری سمیت کشمیر میں جہادی تحریک کو تبدیل نہ کر سکے ۔ہندوستان میں یہ فیصلہ کر کے بظاہری طور پر اس مسئلے کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے جس سے خطے کی سیاست معیشت اور سماج پر مضر اثرات مرتب ہونگے مگر آئندہ کیا صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔

پاکستان عالمی رائے عامہ کو اپنے موقف کے حق اور کشمیری عوام کے حقوق کےلئے رائے عامہ ہموارکرنے کےلئے رابطہ کرنے میں مصروف ہے اقوام متحدہ میں چین کی درخواست پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا گیا جس میں چین کے مندوب نے اپنے ملک کا موقف پیش کرتے ہوئے لداخ پر ہندوستانی فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ دونوں معاملات پاکستان اور بھارت کو ملکر ادا کرنے چاہیں، چین کے اقوام متحدہ کے مستقل مندوب ، پاکستان کے مستقل مندوب ملیحہ لودھی اور شاہ محمود قریشی کے پریس کانفرنسوں میں تینوں میں سے کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کیا ہوا ۔چین کے مندوب کی پرےس ٹالک ہندوستان کے حالیہ فیصلہ سے پیدا ہونے والے تحفظات کے بارے میں تھی یہ ایک ہومیو پیتھی ریمیڈی تھی اگر بہار کا فاقہ نہ بھی ہو تو سائیڈ ایفکٹ کچھ بھی نہیں ہے ملیحہ لودھی نے بیورو کریٹک رائٹ اپ پڑا اور چلتی بنی وزےر خارجہ شاہ محمود قریشی نے باقاعدہ الفاظ کی جوگالی کے ساتھ لفظوں کے گولے برسائے پر یہ نہیں بتایا کہ شرکاءنے کیا کہا اگر خفیہ بات ہوئی تو ان لوگوں نے اپنی تقریر میں اس کے بارے میں کیوں نہ ذکر کیا حالانکہ سب لوگوں کے ان کے خیالات کے بارے میں پہلے ہی علم تھا اصل یوں ہے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکن نے ایک نے کشمیر کے مسئلہ پر بات کی باقی کا اس کے بارے میں کوئی بیان نہ آیا اور نہ ہی اس ضمن میں مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا ۔
ہندوستان میں صرف بائیں بازو کی کمیونسٹ جماعتوں کی طرف سے کشمیری عوام پر ہونے والے ظلم ستم کے حوالے سے احتجاج سامنے آیاکیونکہ بائیں بازو کی پارٹیاں کسی مذہب یا قومیت کے حوالے سے مظلوم اقوام کی حمایت نہیں کرتی ہیں بلکہ وہ انسانیت پر ہونے والے ظلم پر احتجاج کرتی ہیں جبکہ پاکستان میں موم بتی جلانے والی این جی اوز نے بھی اس ضمن میںشائد کو اپنے مغربی ڈونرز کی طرف سے ڈالر ملنے کی کوئی امید نہیں ہے مودی کے اس اقدام نے ہندوستان میں چلنے والی سیاست کو یکسر تبدیل کر دیا ہے جس سے فاش عزم کے غلبے کا اظہار ہوا ہے ، پاپو لزم کے حوالے سے ٹرم کی فتح بھی امریکی فاش ازم کی مضبوطی قرار پائی ہندوستان میں بھی مودی کی فتح انتہا پسند ہندو پاپو لزم کی کامیابی قرار دی جا سکتی ہے بظاہری طور پر امریکہ اور ہندوستان میں دائیں بازو کی پارٹیوں نے پاپو لزم کے ذریعے مخالف پارٹیوں کو شکست دی ہے جس سے دونوں ملکوں کے عوام یقینا رنجیدہ فکر ہوئے ہیں ، گزشتہ چند ماہ سے جاری سوڈان کی انقلابی تحریک اور ہانگ کانگ میں ہونے والے واقعات اسی اسٹیٹ کو ، کو انقلابی بغاوت کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوششیں ہیں یہ واقعات عالمی سطح پر تبدیلیوں کے تحفظ کا اظہار ہے ۔ یمن پر سعودی جارحیت ، فلسطین پر اسرائیل کی بڑھتی ہوئی بربریت اور چین میں مسلمان آبادی پر ہونے والے امتیازی سلوک بھی قابل مذمت ہیں ، کشمیری عوام کی نسل کشی کرنے کا منصوبہ ہے اور وہاں پر ہندوستان کے دوسرے علاقوںکے لوگوںکو بسا کر انہیں اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی کشمیریوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کی طرف سے مظاہرے کےے گئے ہیں جبکہ ان لوگوںکی مقامی آبادی نے کوئی آواز نہیں آٹھائی ہے اسلامی ممالک او آئی سی کے پلےٹ فارم پر تو کشمیر میں ہونےوالے تشدد کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر ان کی حکومتیں اپنے مالی اور تجارتی مفادات کےلئے ہندوستان کے اس اقدام کی مذمت کرنے سے گریزاں ہیں یاد رہے ماضی میں عراق، شام یمن اور لیبیا پر ہونے والی امریکی اتحادیوں کی فوجی یلغار کے بعد مہاجرین کو کسی سلامی ملک میں پناہ نہیں دی ہے بلکہ یورپ میں جرمنی اور کینڈا نے ان کےلئے اپنے دروازے کھولے تھے ۔
ایشیا ٹائمز میں شائع کردہ مضمون کے مطابق تاریخی طور پر پاکستان کو تقریبا تمام عرب اور مسلم اکثریتی حمایت کشمیر پر حاصل تھی ۔1969سے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے پلےٹ فارم پر مغربی حمایت یافتہ پاکستان کوروسی حمایت یافتہ انڈیا کے خلاف کشمیر کے مسئلہ پر تعاون حاصل تھا پاکستان کو یہ حمایت 90کی دہائی تک ملتی رہی دریں اثناء200سے انڈیا نے خلیجی ممالک نے تعلقات بہتر بنائے جس کی وجہ سے ان کے موقف میں تبدیلی پیدا ہوئی سعودی عرب کی تیل کمپنی آرام کو ہندوستان میں 75ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہے سعودی عرب کے بر عکس متحدہ عرب امارات کا رویہ بھی مکمل طور پر مختلف اور یکطرفہ ہو گیا ہے اس دوران افغان طالبان کی طرف سے بھی بیان آیا ہے کہ افغان مفاہمتی عمل کو کشمیر کی صورتحال کے ساتھ نہ جوڑا جائے لےکن کیا کریں مودی سرکار نے فوجی جنتا اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹوں کے جھانسے میں آکر یہ قدم اٹھا دیا ہے جس سے دنیا بھر میں تنقید ہو رہی ہے بھارتی جارحیت کے نتیجہ میں ایک طرف کشمیریوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور دوسری طرف کنٹرول لائن پر پاکستان میں بے گناہ سویلین کو گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بھارت نے اس سے قبل انٹیلی جنس کی رپورٹ پر ایک نام نہاد سٹراٹیجک سٹرائیک بالا کوٹ پر کیا تھا جو کہ بعد میں جھوٹ کا پلند ا ثابت ہوا تھا 14اگست2019جو بھارتی اخبار دی ہندو میں سوہا سنی حیدر کے لکھے ہوئے مضمون کے مطابق پانچ اگست کا اقدام بھی ہندوستان کے پیچھے انٹیلی جنس کی رپورٹ پر تھا جس کے مطابق امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے کے بعد افغانستان پر ہندوستان کی گرفت کمزور پڑھ جائے گی ہندوستان نے افغانستان میں موجود اپنے کونسل خانے بتدریج بند کر دینے شروع کر دیئے تھے ہندوستان کو خطرہ تھا کہ پاکستان کے حمایت یافتہ طالبان حکومت قائم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر جہادی گروپوں کو بھیج سکتے ہیں، 12اگست کو امریکہ طالبان کے مذاکرات کسی نتیجہ کے بغیر ختم ہو گئے لہذا بھارتی انٹیلی جنس کی رپورٹ غلط نکلی ۔
بھارت کی جانب سے کشمیر کی حیثیت کے خاتمہ کے نتیجہ میں اقوام متحدہ کی رائے شماری کےلئے قرار دادیں شملہ معاہدہ اور لاہور پیکٹ قابل عمل نہیں رہے ہیں کیونکہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو اپنے اندر الحاق کر کے اس ضمن میں کسی مزید پیش رفت کو روکنے کی کوشش کی ہے اس ساری صورتحال میں کشمیر کے نیشلسٹ مسلمان راہنماﺅں نے تسلیم کیا ہے کہ انہوںنے قائد اعظم کے دو قومی نظریہ کی حمایت نہ کر کے غلطی کی ہے جس کا خمیازہ وہ آج تک بھگت رہے ہیں شیخ عبداللہ جس نے نہرو کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں 370ویں اور35Aآئینی ترمیم کی گئی جس کے تحت کشمیر کی علیحدہ حیثیت کو بر قرار رکھا گیا مگر یہ تمام باتیں بھارت کےلئے داستان پارینہ بن چکی ہیں شیخ عبداللہ نے اپنی کتاب اتاش چنار میں لکھا ہے کہ اس نے ہندوستانی قیادت سے بار بار دوکھا کھایا جس کا مقصد کشمیریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ تھا لےکن بعض تاریخ دانوں کے نزدیک یہ بہت غلطی تھی جس کی ذمہ داری ماضی کی کشمیری قیادت پر ڈالی جا سکتی ہے ۔ بھارت کو سب سے زیادہ خوف کسی ممکنہ جہادی اور مسلح جدو جہد سے تھا کیونکہ مقبوضہ علاقے کے لوگ اپنی آزادی کےلئے ایسا کرنے کےلئے قانونی جواز رکھتے تھے مگر اس نے علیحدہ حیثیت ختم کر کے خود کو محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے مگر وہ اس فیصلے کے دو رس نتائج سے بے خبر ہیں اگر اس اقدام سے کوئی آگ بھڑکتی ہے تو اس کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے گا اس نئے ابھرتے ہوئے انتقاضہ پر پاکستان کا کیا رد عمل ہوگا یہ بات یقینی نہیں کہی جا سکتی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی کالعدم تنظیموں کے افراد موجود ہیں اور ان کی نئی اپریشنل صلاحتیں کتنی ہیں اس کے علاوہ دیگر تنظیمیں القاعدہ، داعش ، انصار غزوہ ہند متحد ہو کر کشمیر میں طویل المدتی مزاحمت کر سکتی ہیں یا نہیں مگر پاکستان کےلئے ان تنظیموں کی حمایت کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، آئندہ پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے عمران خان کی حکومت کو مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے ٹھوس کوششوں کی خاطر ملک میں معاشی اور سیاسی استحکام لانا ہوگا کیونکہ مضبوط پاکستان ہی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑا سکتا ہے اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہیے کوئی پارٹی یا تنہا لیڈر شپ ان چیلنجوں سے عہدہ براہ نہیں ہو سکتی ابھی کشمیریوں کو اپنی آزادی کےلئے ایک طویل جدو جہد کرنا ہوگی ہم ان کی کامیابی کےلئے دعا گو ہیں تا کہ وہ اپنے لیے خود مختار ریاست کے حصول کو ممکن بنا سکیں یاد رہے کہ پاکستان میں صرف بائیں بازو کی جماعتوں نے کشمیریوں کی کھل کر حمایت کی ہے جبکہ اس ضمن میں دیگر جماعتیں گومگوں کی پالیسی سے دو چار ہیں۔

شائد انہیں جہاد افغانستان کی طرح کسی ممکنہ بیرونی عسکری اور مالی امداد کی امید نہیں ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.