اہم خبرِیں
انگلستان کی پاکستان میں ڈھائی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری آیاصوفیہ مسجد کی کہانی ” آپ ایسا کریں کہ آپ کل آ جائیں“ اسٹیٹ بینک کےقوانین کی خلاف ورزی پر 15 کمرشل بینکوں کو بھاری ... ایرانی سیبوں کی درآمد، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر 22 درا... شاہد آفریدی کا کورونا میں مبتلا بچن خاندان کے لیے نیک خواہشات ... مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی پھر سے سر اُٹھانے لگ... تھیم پارک ڈزنی لینڈ کھولنے کا فیصلہ ماڈل ایان علی کی شوبز میں واپسی پاکستانی نوجوان کے دن پھر گئے، سعودیہ میں فیشن ماڈل بن گیا ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار ماسک پہن کر عوام کے سامنے ‌ایکسپو سینٹر لاہور میں کورونا کے زیرعلاج تمام مریض ڈسچارج وزیراعظم کی ہدایت کے باوجود کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ عرو... شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ بیٹے کی گولی سے باپ شدید زخمی وزیر اعلیٰ سندھ کورونا ٹیسٹنگ سے غیر مطمئن غلام سرور کو نیب بلایا جاسکتاہے، (نیب) کا وفاقی وزیر غلام سرور... وفاقی حکومت کی کے الیکٹرک کو فیول نہ ملنے کے دعوؤں کی تردید وفاقی وزیر چوہدری طارق بشیر چیمہ کورونا کی زد میں شہباز گِل کا (ن) لیگ کے رہنما احسن اقبال کی ایک ٹوئٹ پر سخت ر... تحریک انصاف کا سندھ حکومت کے خلاف نیب میں شکایات درج کرانے کا ...

کشمیر ہندوستان کیلئے قبرستان

نام تبدیل کرنے سے کچھ نہیںہوتا ہندوستان آج بھی ہندوستان اورمسلمانوں سمیت ہراقلیت کیلئے جہنم ہے۔ہندوستان میں وزرائے اعظم تبدیل ہوتے رہے مگر بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے مائنڈسیٹ میں تبدیلی آئی اورنہ آئے گی۔بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی انتہاپسندانہ سوچ نے ایک طرف ہندوتواکوبے نقاب اوردوسری طرف اسے رسوااور تنہا کردیا۔کشمیر سمیت ہندوستان کے طول وارض میں کشمیریوں سمیت مسلمانوں کاقتل عام جاری ہے۔مودی کے دوراقتدارمیں بظاہر کشمیریوں اوربھارتی مسلمانوں کوموت کے گھاٹ اتاراجارہا ہے لیکن حقیقت میں جنت نظیر وادی کشمیر ہندوستان کیلئے قبرستان بن گیا ہے۔کشمیر کویرغمال بناتے بناتے بدمست مودی نے خوداپنے ہاتھوں سے ہندوستان کاشیرازہ بکھیردیا ہے۔مودی بھارت کوجس بندگلی میں لے آیا ہے اب وہاں سے باہرنکلنا اس کے بس کی بات نہیں۔
یہ 13 جولائی 1931ئ کی دوپہر تھی۔ سرینگر کے ایک میدان میں اسلامیانِ کشمیر کا ایک عظیم الشان اجتماع ہورہا تھا۔ اجتماع کے شرکائ بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ ڈوگرہ راج سے اپنے بنیادی حقوق کی بازیابی کا مطالبہ کررہے تھے۔یہ پرجوش اجتماع پورے عروج پر تھا۔ ہر طرف سے فلک شگاف نعرے بلند ہورہے تھے۔ اچانک ایک شخص اجتماع میں سے اٹھا اور اسٹیج پر کھڑا ہوکر لوگوں کو مخاطب کرکے کہنے لگا۔ ”ڈوگرہ حکمرانوں کو کشمیر پر حکومت کرنے کا کوئی آئینی یا قانونی حق نہیں لہٰذا ئ ان کاتخت وتاج الٹا کرکے اپنا حق آزادی حاصل کرو۔”
اس نعرۂ مستانہ کو بغاوت قرار دے کر ڈوگرہ حکمرانوں نے اس جری مجاہد ”عبدالقدیر” کو گرفتار کرلیا۔ اس مجاہد ملت کی گرفتاری پر سرینگر کی عوام سراپا احتجاج بن گئی۔ عبدالقدیر کی رہائی کیلئے کشمیری عوام نے ایک جلوس نکالا تو ان پر ڈوگرہ حکمرانوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ یوں اس اندوہناک واقعہ میں جنت نظیر اس دھرتی کے 22 سپوت خون میں نہا کر دم تو ڑ گئے۔ یہ وہ تاریخ ِ کشمیرکا پہلا معرکہ تھا جس میں شہدائ نے اپنا خون پیش کرکے تحریک آزادی کا پہلا باب رقم کیا تب سے آج تک شہادتوں کا یہ عظیم سفر جاری ہے۔ اَن گنت شہادتوں اور بے پناہ قربانیوں کے باوجود بھی کشمیری عوام کا جذبہ آزادی کم نہیں ہوا۔ شہدائ کا یہ مسکن اپنی بین الاقوامی سیاسی اور فوجی اہمیت کے پیش نظر ہمیشہ برسرِ اقتدار اور آئندہ ابھرنے والی طاقتوں کا مرکز نظر رہا ہے۔ ہر دور کے حکمرانوں نے کشمیریوں کی اس تحریک آزادی کو دبانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا اور بے پناہ تشدد کے ساتھ ان کی اس آواز حق کو دبانا چاہا مگر ہوا یہ کہ جتنا اسے دبایا گیا اتنے ہی جوش کے ساتھ ابھر کر یہ سامنے آئی۔
ہندوستان میںمغل دوراقتدار ہو یا پٹھانوں کا دور، سکھ حکومت ہو یا ڈوگرہ راج ان سب میں ایک قدرمشترک تھی ،ان سب نے غیورکشمیریوں کی روح آزادی کو کچلنے کیلئے ایک سے بڑھ کرایک بے رحم اور سفاک گورنرسرزمین کشمیر پر مسلط کئے مگر اس کے باوجود کشمیریوں نے مغل دور سے لے کر ڈوگرہ راج تک سب کے خلاف اپنی جنگ ِ آزادی جاری رکھی۔ ہر دور میں اس دھرتی کے ہزاروں فرزند اپنی مادردھرتی پر نثار ہوتے رہے اور یوں کشمیر ی سپوت ظلم و ستم کے تاریک سایوں میں بھی اپنے مقدس خون کا نذرانہ پیش کر تے ہوئے پرجوش آواز میں نعرہ آزادی لگاتے رہے۔ شہدائ کا یہی مقدس خون آج بھی آزادی کشمیر کیلئے جان قربان کرنے والوں کیلئے مشعل راہ بناہوا ہے۔ اب کشمیری نوجوان اپنے لہو کے چراغ جلا کر غلامی کی سیاہ رات میں اجالا کررہے ہیں۔ انہی شہدائ کے خون کی بدولت آزادی کشمیر کی منزل قریب نظر آرہی ہے۔ مسئلہ کشمیر دنیا بھر میں اجاگر ہورہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ہندوستان پر دبا? بڑھتا جارہا ہے۔ ہندوستان مختلف سازشوں، حیلوں و بہانوں کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو نصف صدی سے سرد خانے میں پھینکنے کی بے سود کوشش کررہا ہے۔ جب بھی اس پر کوئی دبا? پڑتا ہے تو وہ اس مسئلہ سے اقوام عالم کی نظر ہٹانے کیلئے کوئی نئی سازش منظر عام پر لے آتا ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ انڈیا ہر وہ حربہ آزما رہا ہے جس سے تحریک آزادی کشمیر دب جائے مگر اس بیچارے کی ہر چال ناکام ہوتی ہے۔ اب ایک نئی چال ہے،مگر اس کی دال نہیں گلے گی۔ بھارت کاانتہاپسند حکمران طبقہ شاید یہ نہیں سمجھتا کہ کشمیری عوام اپنی اَن گنت قربانیوں کا کسی صورت ضیا ع نہیں ہونے دیں گے اورنہ کوئی کشمیرحق آزادی سے دستبردارہوگا۔ جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہے وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک آزادی اور اس کی بقائ کیلئے بھارتی جارحیت بلکہ بربریت کیخلاف مزاحمت کرتارہے گا،کشمیری فرزند اپنا حق خود ارادیت مانگتے ہیں جس کودنیابھر نے دل وجان سے تسلیم کیا ہے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنی مرضی ومنشائ کے مطابق کرسکیں۔ ہندوستان کی انتہاپسندقیادت یہ بات ذہن نشین کر لے کہ یہ اس کی روز روز کی شعبدہ بازی کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ کشمیری عوام کوہندوستان کی اجارہ داری ہرگز گوارہ نہیں وہ ہرقیمت پر آزادی چاہتے ہیں اور وہ ان شائ اللہ اپنے اس اجتماعی مقصد کیلئے ہرخطرہ روندتے ہوئے اپنے خون کے آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.