Latest news

جے ایف 17 تھنڈر نے دھوم مچا دی

جب سے ہمارے جے ایف 17 تھنڈر نے بھارتی فضائیہ کو دھول چٹائی، پوری دنیا میں ہماری فضائیہ کا چرچا ہونے لگا۔فضائیہ اور خاص طور پر جے ایف 17 تھنڈر نے دنیا میں اپنی دھاک بٹھا دی۔

جیسے ہی جے ایف 17 تھنڈر کے ہاتھوں مگ21 کی تباہی کی خبریں میڈیا پر عام ہوئیں تو ہمارے طیارے کی تیاری میں معاونت کرنے والی چینی کمپنی کے شیئرز کی قیمت صرف 5 منٹ میں 10 فیصد بڑھ گئی۔
2017 میں جب امریکہ نے پاکستان کو ایف 16 دینے میں پس و پیش سے کام لیا تو اسی وقت یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ اپنا جہاز خود بنایا جائے جو ایف16 سے بھی زیادہ افادیت والا ہو۔

لہذا یوں جے ایف 17 تھنڈر بنانے کاآغاز ہوا۔

بین الاقوامی میگزین دی ڈپلومیٹ کے مطابق چین کی تیکنیکی اور لاجسٹیکل معاونت کے بعد پاکستان سالانہ 25 جے ایف 17 تیار کر سکتا ہے۔

اس وقت تک 14 جے ایف 17 تھنڈر بنا کر قومی خزانے کے 49 کروڑ ڈالر بچائے۔

ان طیاروں نے پہلی بار 27 فروری 2019ءمیں براہ راست جنگ میں شرکت کی اور مخالف طیاروں کو تباہ کر دیا۔ اس سے پہلے یہ طیارے صرف جنگی مشقوں یا پھر مظاہروں میں ہی استعمال کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ 24 سپر مشاق طیارے سالانہ تیار کر سکتا ہے۔

مختلف ممالک کو اب تک 90 سپر مشاق طیارے فراہم بھی کر چکے ہیں۔
فی الحال ذکر کرتے ہیں جے ایف 17 تھنڈر کاجس کا باقاعدہ لڑائی میں مگ 21 پہلا شکار بنا۔

جے ایف 17 تھنڈراپنی پہلی حقیقی لڑائی جیت گیا۔

پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر نے پیرس ایئر شو میں بھی دھوم مچا دی تھی۔ پاک فضائیہ کا جے ایف 17 تھنڈر طیارہ کئی خصوصیات کا حامل ہے۔

جبکہ دنیا میں اس جیسے بہت کم طیارے ہیں جو کسی بھی دوسری فضائیہ کے پاس ہیں۔ یہ دنیا کی کسی بھی لڑاکا طیارے کا نعم البدل ہو سکتے ہیں کیونکہ ان طیاروں میں ہر قسم کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ طیارے کسی بھی جنگ کا پانسہ پلٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
بھارتی فضائیہ کو دھچکا پہنچانے کے بعد امریکی اسی کھوج میں رہے کہ کہ آیا پاکستان نے بھارتی طیارے کو مار گرانے کے لیے امریکی ساختہ ایف-16 طیارے کو استعمال کیا۔

اگر ایسا ہوا تو یہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان ایف-16 کی خریداری کے لیے ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

لیکن پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں ایف-16 طیارے کا استعمال نہیں کیا گیا بلکہ یہ خود ساختہ جے ایف 17 تھنڈر کا کارنامہ تھا۔
مارا جانے والا بھارتی طیارہ روسی ساختہ ایم آئی جی-21 تھا، جو 1960 سے بھارتی فضائیہ کے زیرِ استعمال ہے اور ایسے 200 طیاروں میں سے ایک تھا۔ یہ طیارے مختلف حادثات کا شکار ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے بھارتی پائلٹس اس جہاز کو ’اڑتا تابوت‘ قرار دیتے ہیں۔

بھارت کے بھاری دفاعی بجٹ کے باوجود ان طیاروں کا استعمال مسائل کی نشاندہی کرتا ہے کیوں کہ بجٹ میں ایک بڑی رقم اس کی دیکھ بھال اور تنخواہوں کی مد میں مختص کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ بھارت نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک پاکستانی طیارے کو مار گرایا تھا تاہم پاکستان نے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے خلاف حالیہ کارروائی میں ایف-16 طیارے کا استعمال ہی نہیں کیا تو مار گرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
بھارتی فضائیہ کا اتنا برا حال ہے کہ جنگی جنوں میں مبتلا مودی سرکارکو ان کی اپنی فضائیہ نے پاکستان کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے جو رپورٹ دی ہے.

اس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فضائیہ کے پاس طیارے ناقص ہیں اور عملے میں بھی تربیت کی کمی ہے۔ 3 ہفتوں میں بھارت کے 5 جنگی طیارے حادثات کا شکار ہو کر تباہ ہوئے.

جن میں 3 بھارتی پائلٹ ہلاک اور کئی افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

ان حالات میں پاکستان کیخلاف کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنا ہی بہتر ہے۔بس جتنی سٹرائیک کرنی تھی ہم نے کر لی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے غیر معیاری تربیت یافتہ پائلٹس کے ساتھ پاکستان کے خلاف کسی بھی کارروائی کا سوچنا بھارت کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔

حالانکہ 10 اپریل 2018ءسے 24 اپریل تک دو مرحلوں میں ”گگن شکتی 2018ء“ کے نام سے بھارتی فضائیہ کی جاری رہنے والی مشقوں کو بھارتی میڈیا اور وزارت دفاع اس طرح پیش کرتی رہی کہ جیسے ”انڈین ایئر فورس“ نے دنیا فتح کرنے کی استعداد حاصل کر لی ہے۔

ان مشقوں سے چند روز قبل ہی Daniel Darling نے اپنے آرٹیکل میں بھارتی فضائیہ کو مری ہوئی فضائی قوت لکھا تھاجسکے پاس موجود جنگی طیاروں کی اکثریت بنا جنگ لڑے اپنی عمر کب کی پوری کر چکی ہے۔
بھارتی فضائیہ تو ایک طرف بھارت میں ائیر شو بھی فلاپ ہوجاتے ہیں۔

بھارتی شہر بنگلور میں ہونے والے ایئر انڈیا شو کو بھارتی وزارت دفاع نے دنیا کا سب سے بڑا فضائی شو بنانے کا دعویٰ کیا تھا لیکن اس دوران اس کے متعدد حادثات رونما ہو چکے تھے۔

شو کے میدان میں نہ جانے کیسے گھاس کو آگ لگ گئی اور تین سو کاریں جل گئیں۔ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اسی شومیں بھارتی فضائیہ کے دو طیارے کرتب دکھاتے ہوئے آپس میں ٹکرا گئے جس میں ایک پائلٹ ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔
بھارتی دفاعی بجٹ بارے بھی بہت سے سوال اٹھتے ہیں کہ بھارت فوج کے لیے جتنا بھی بجٹ مختص کرتا ہے اسکا بڑا حصہ 12 لاکھ فوجیوں کی تنخواہ اور پنشن کی مد میں چلا جاتا ہے۔ اور نئے آلات خریدنے کے لیے صرف 14 ملین ڈالر ہی بچتے ہیں۔جب کہ دوسری جانب جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں نے دھوم مچا دی ہے۔

بھارتی فضائیہ کے مگ 21 کو گرانے والے پاکستانی طیارے کی خریداری کیلئے کئی ممالک نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 10 ممالک کی ائیرکرافٹ انڈسٹری پاکستان اور چین کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کیے جانے والے کم قیمت اور جدید جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے کو خریدنے کیلئے گہری دلچسپی رکھتی ہے۔

ان ممالک کی جانب سے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی خریداری کیلئے پاکستان سے فوری رابطہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی میانمار، نائیجیریا جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے خرید چکے ہیں۔ جبکہ آذربائیجان، مصر، ملائیشیا اور دیگر ممالک بھی جے ایف 17 تھنڈر خریدنا چاہتے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.