اہم خبرِیں
میر شکیل الرحمان کی ہمشیرہ کے انتقال پر سی پی این ای کا تعزیت ... شمالی وزیرستان، پاک فوج کا آپریشن، چاردہشت گرد جہنم وصل گھوٹکی ٹرین حادثے کو پندرہ سال بیت گئے پاکستان میں کورونا کے 2 ہزار 521 نئے کیسز،74 اموات انگلستان کی پاکستان میں ڈھائی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری آیاصوفیہ مسجد کی کہانی ” آپ ایسا کریں کہ آپ کل آ جائیں“ اسٹیٹ بینک کےقوانین کی خلاف ورزی پر 15 کمرشل بینکوں کو بھاری ... ایرانی سیبوں کی درآمد، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر 22 درا... شاہد آفریدی کا کورونا میں مبتلا بچن خاندان کے لیے نیک خواہشات ... مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی پھر سے سر اُٹھانے لگ... تھیم پارک ڈزنی لینڈ کھولنے کا فیصلہ ماڈل ایان علی کی شوبز میں واپسی پاکستانی نوجوان کے دن پھر گئے، سعودیہ میں فیشن ماڈل بن گیا ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار ماسک پہن کر عوام کے سامنے ‌ایکسپو سینٹر لاہور میں کورونا کے زیرعلاج تمام مریض ڈسچارج وزیراعظم کی ہدایت کے باوجود کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ عرو... شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ بیٹے کی گولی سے باپ شدید زخمی وزیر اعلیٰ سندھ کورونا ٹیسٹنگ سے غیر مطمئن غلام سرور کو نیب بلایا جاسکتاہے، (نیب) کا وفاقی وزیر غلام سرور...

جمہوریت بہترین انتقام ہے(3)

دوسری بار اقتدار جنرل جہانگیر کرامت اور فاروق لغاری نے میاں نواز شریف کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا تھا ۔دوتہائی سے زیادہ اکثریت پارلیمنٹ میں پہلی بار کسی کو ملی تھی اور میاں نواز شریف اس سنہری اقتدار کی کبھی توقع نہیں کرسکتے تھے مگر وہی ہوا جو زمانے کی کتابوں میں درج ہو چکا ہے کہ جیسے ایک کمبل میں دو درویش نہیں ہو سکتے اسی طرح ایک سلطنت میں دو بادشاہ نہیں سماسکتے ۔صدر فاروق لغاری اپنی مہربانی کی وجہ سے ہمیشہ میاں نواز شریف کو احسان مند دیکھنا چاہتے تھے لیکن میاں صاحب کی نظر میں ایوان صدر ابھی تک پیپلز پارٹی سے خالی نہیں ہوا تھا۔صدر فاروق لغاری کی آنکھ نے بہت جلد میاں نواز شریف کے ماتھے پر شکن دیکھ لیے تھے اور اپنے مستقبل کا اندازہ لگا نا شروع کردیا تھا۔ادھر میاں صاحب نے بھی صدر لغاری کے قدم شمار کرنا شروع کردیے تھے اب دونوں کی نظر جنرل جہانگیر کرامت پر تھی ۔میاں نواز شریف نے جنرل صاحب کو اپنے زاویے سے دیکھا تو معاملہ آسان نہ لگا جس پر میاں صاحب نے فوج کے اندر جھانک کر دیکھا تو جنرل جہانگیر کرامت قدرے مشکل نہ تھے جس پر میاں نواز شریف نے صدر فاروق احمد لغاری کے ساتھ پوری خرابی پیدا کرنے کا فیصلہ کرلیا۔صدر فاروق لغاری نے جنرل جہانگیر کرامت کی طرف دیکھا تو جنرل صاحب نے حمایت کا یقین دلایا ۔جس پر صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان میں ٹھن گئی فاروق احمد لغاری کے پاس 58(2)Bکی تلوا ر تھی مگر اسوقت لغاری صاحب بے بس تھے ابھی حکومت کو مہینے ہوئے تھے سال نہیں ہوئے تھے جو الزامات روایتی طور پر لگا کر اسمبلی برخاست کی جاتی تھی ان کا جواز نہیں بنتا تھا ۔دوسرا راستہ اور سہارا جنرل جہانگیر کرامت تھے کہ وہ مداخلت کرتے تو حالات بہتری کی طرف آجاتے۔مگر یہ بھی نہ ہوا جنرل صاحب کے بوجھ سے بھی صدر فاروق احمد لغاری کا پلڑا ہلکا رہا ۔جب فاروق احمد لغاری صاحب ہر طرف سے بے بس نظر آئے تو موصوف نے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر استعفیٰ دے دینا منا سب سمجھا ۔یوں صدر فاروق لغاری عزت سے ایوان صدر سے رخصت ہوئے بعدازاں جلد ہی وزیر اعظم ہائوس کی توپوں کا رخ جنرل جہانگیر کرامت آرمی چیف کی طرف ہوگیا کچھ مہینے ماحول بہت کشیدہ رہا اس وجہ سے فو ج میں بہت اضطراب پایا گیا۔جنرل جہانگیر فوج کی نظر میں مکمل اتفاق نہ دیکھ کر تلملا اٹھے ۔یہ کیفیت آرمی چیف کے لیے بہت حیران کن تھی یہاں بھی جنرل جہانگیر کرامت ملکی مفاد کو ترجیح دینے پر مجبور ہوئے اور استعفیٰ دیکر بیرون ملک چلے گئے یہاں پر نواز شریف مرد بحران کے طور پر مشہور ہوئے ۔
اب جمہوریت کیمنفرد دور کا آغاز ہوا بڑی بھاری اور مضبوط مینڈیٹ والی جمہوریت تھی اس وقت کوئی اپوزیشن نہ تھی تو یہ بینظیر بھٹو چند سیٹو ں کے ساتھ قومی اسمبلی میں ایسے ہی تھی جیسے نقارخانے میں طوطی کی آواز۔جمہوریت کو چار چاند لگ گئے تھے ادھر آصف علی زرداری جیل میں مقدمات کی گنتی سے بونے ہوتے جارہے تھے ۔آئے دن آصف علی زرداری کو کبھی کراچی میں عدالتوں میں پیش کیا جاتا کبھی پنڈی کی عدالتوں میں حاضری لگوائی جاتی کبھی سینیٹر سیف الرحمٰن کی تفتیش ازدر جیل شروع ہو جاتی ۔آصف علی زرداری جس کے گھوڑوں اور کتوں کے نخرے آفیسر اٹھاتے تھے وہی شخص آزاد فضاء کو ترس رہا تھا ۔یاد رہے کہ ان دنوں ایک دفعہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں سامنے آیا کہ آصف علی زرداری کی جیل میں زبان کاٹنے کی کوشش کی گئی ہے میڈیا پر باقاعدہ آصف علی زرداری کی تصویر بھی دکھائی گئی تھی۔ سینیٹر سیف الرحمٰن ان دنوں چیئر مین احتساب کمیشن تھے اور آصف علی زرداری پر احتساب کا پورا بوجھ لاد دیا گیا تھا ۔اسوقت جو غیر جمہوری اور غیر اخلاقی کام ہو رہاتھا وہ بینظیر کی تضحیک تھی جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو لیکر آصف زرداری کے مقدمات کے لیے کبھی جیل کے دروازے پر ہوتی تھی کبھی کسی عدالت کے دروازے پر ۔ایک طرف جمہوریت کے ہاتھ پائو ں لمبے ہوتے جا رہے تھے تو دوسری طرف آصف علی زرداری کی قید لمبی ہوتی جارہی تھی ۔
جنرل جہانگیر کرامت کے بعد فوج میں مکمل ہم آہنگی پیدا ہوگئی تھی ۔جنرل پرویز مشرف کی صورت میں نیا سپہ سالا ر مقرر ہو گیا تھا حکومت کو اب ہر طرف سے خیریت تھی جمہوریت کو دور دور تک کوئی خطر ہ نظر نہیں آرہا تھا کہ حالات نے پھر کروٹ بدلی اور میاں نواز شریف اپنے ہی تنے جال کا شکا رہوگئے جس پرویز مشرف کے ساتھ اگلے مورچوں پر نعرہ تکبیر لگاتے رہے اسی پرویز مشرف پر کارگل کی وجہ سے ٹھن گئی اور کارگل کے وقوعے سے لاعلمی کا اظہا ر کردیا اور پھر کارگل کے محاذ پر کافی شرمساری کے ساتھ جگ ہنسائی کا موقع دیا ۔اگر نواز شریف کی پرویز مشرف کو ہتھکڑی لگانے کی خواہش جنون کی شکل اختیار نہ کرتی تو شاید پرویز مشرف کا نام پاکستان کے حکمرانوں میں نہ آتا اور بطور آرمی چیف ہی رہتا مگر نواز شریف اپنے ہی مینڈیٹ کے بوجھ کے نیچے دب گئے اور بالآخر اسی جیل میں جا کر بند ہوئے جس میں مسٹر آصف علی زرداری بند تھے ۔اسی جیل میں سینیٹر سیف الرحمٰن نے ملکہ جذبات کا لقب پایا اور عورتوں کی طرح روتے ہوئے پایا گیا ۔مکافات عمل کا نظارہ دیکھا جائے کہ وہی آصف علی زرداری جیل میں بلوچ فیصلہ کی روایات کے مطابق شریف برادران کی مہربانی کے لیے تیار تھا یہاں پر وقت گواہ ہے اتنی طویل اور دشورا جیل کی زندگی میں آصف علی زرداری نے معاہدہ کیا نہ بیماری کا بہانہ بنا کر بیرون ملک جانے کی استدعا کی ۔میاں برادران پر اپنے مقدمات تھے زرداری صاحب پر اپنے مقدمات تھے ۔زرداری ابھی تک جیل میں تھا کہ شریف بردران پرویز مشرف سے معاہدہ کرکے سعودی عرب چلے گئے ۔آصف علی زرداری بعد میں اپنے مقدمات میں رہا ہواجوکہ تقریباً 09 سال بعد آصف علی زرداری کو رہائی ملی جب آصف علی زرداری کو رہا ئی ملی تو وہ تمام مقدمات میں بری ہوئے ۔
پرویز مشرف نے مسلم لیگ قائداعظم بنا کر جہوریت قائم کردی اور بلوچستان کو پہلی بار نمائندگی دیتے ہوئے ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم مقرر کردیا جو بعدازاںاپنی کابینہ کے وزیر خزانہ شوکت عزیز وزیراعظم مقرر ہوئے ۔محترمہ بینظیر بھٹو نے ایک مرتبہ پھر حقیقی جمہوریت کی طرف سفر شروع کیا اور پرویز مشرف کے ساتھ NROہوا جس کے تحت میاں برادران کو بھی پاکستان آنے کی اجازت مل گئی ۔پاکستان میں پہلی بار قوم اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کررہی تھی اور ایک بار پھر الیکشن کا ماحول بن رہا تھا تمام سیاسی پارٹیوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی تھی شریف برادران بھی واپس پاکستان آکر اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرچکے تھے کہ انتخابی مہم کے دوران راولپنڈی میں محترم بینظیر بھٹو کو قتل کردیا گیا یہ جمہوریت کا نیا موڑ تھا ۔جمہوریت کے اس انتقام کی آج تک کسی کو سمجھ نہیں آسکی اور بینظیر بھٹو کا قتل آج بھی ایک معمہ بنا ہوا ہے ۔
بینظیر بھٹو کے سانحہ کے بعد الیکشن منعقد ہوا جسکے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی ایک مرتبہ پھر اقتدار میں آگئی یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم مقرر ہوئے ۔پرویز مشرف نے اقتدار مکمل طور پر سول حکومت کے حوالے کردیا اور آصف زرداری صدر مملکت بن گئے ۔اسوقت ایک صحافی نے آصف علی زرداری سے سوال کیا کہ میاں نواز شریف نے آپکو تقریباً09 سال تک جیل میں قید سخت میں رکھا کیاآپ میاں برادران سے انتقام لیں گے ؟تو آصف علی زردار ی نے ایک تاریخی جملہ قوم کے سامنے ادا کیا “جمہوریت بہترین انتقام ہے ” میں کسی سے انتقام نہیں لوں گا میں جمہوریت پہ یقین رکھتا ہوں یہ سسٹم ہی میری تشفی کرے گا ۔پھر تاریخ نے دیکھا کہ وہی آصف علی زرداری میاں نواز شریف کو گلے لگا رہا تھا یوں ملک کے “وسیع تر مفاد کی خاطر” آصف زرداری اور میاں نواز شریف جمہوریت کو انتقام کا نام دیکرکھیلنے لگے ۔ عوام دونوں کی گالیاں سن کر تالیاں بجانے لگی کہ دونوں ایکدوسرے کو ملکی وقار کی خاطر برداشت نہیں کرتے حالانکہ یہ ایک سنگین مذاق تھا جو اس قوم کے ساتھ کیا جارہا تھا ۔
جب قدرت کو قوم کی راہنمائی اور بھلائی منظور ہوتی ہے تو حالات غیر متوقع طور پر بدل جاتے ہیں ۔جیسے میاں برادران اور آصف زرداری کو موجودہ حالات کا کبھی گمان نہ تھا کہ دونوں پارٹیوں کے گھپلے پکڑے جائیں گے ۔ان پر بھی کوئی ہاتھ ڈالے گے کوئی تیسری قوت ان پر مسلط ہوجائے گی اور انکو کمیشن کے سامنے کھڑا ہونا پڑے گا انکی بے حساب دولت کا ذریعہ طلب کیا جائے گا اور کاروبار کی ترقی کی رفتار کو چیک کیا جائیگایہ اب قدرت کا انتقام۔جس کو زردار ی صاحب نے جمہوریت کا انتقام کہہ کر عوام کے جذبات کا منہ چڑھایا تھا وہ اب سچ ہورہاہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے ۔اگر جمہوریت نہ ہوتی تو آج میاں نواز شریف کی دولت ،بیماری اور بزدلی سامنے نہ آتی زرداری صاحب کی اومنی کہانی کبھی سرعام نہ سنائی جاتی ۔اب اس قوم سے گذارش ہے کہ اگر قدرت کو منظور ہوچکا ہے تو اس پر شکر کریں نہ کہ ان جمہوری بہروپیوں کی پاسداری۔(ختم شد)


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.