اہم خبرِیں
افغانستان میں تعینات جارجیا کے 28 فوجی کرونا وائرس میں مبتلا ملک میں کورونا وائرس کے 2751 نئے کیسزرپورٹ، 75 مریض جاں بحق بھارت اپنے دفاع پر بے پناہ وسائل خرچ کررہا ہے‘اکرام سہگل سندھ حکومت کی جانب سے پہلی بار باقاعدہ طور پر تھانوں کا بجٹ من... چینی اور کھانے کی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ نیپال نے بھارتی پروپیگنڈا کے رد عمل میں ملک میں تمام بھارتی چی... امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاپان کو 23 ارب ڈالر کے 105 ایف ... ڈریکولا اصل میں کون تھا، حقیت یا آفسانہ؟ مولانا فضل الرحمان کی بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری سے ... سشانت سنگھ کے بعد اب ایک اور بھارتی اداکار کی خودکشی میڈیا کو پھانسی دینی چاہیے، نعمان اعجاز کا ڈرامہ انڈسٹری پر غص... معروف کامیڈین اور اداکارہ روبی انعم کو دل کا دورہ، اسپتال منتق... پی سی بی کا سلیم ملک اور سابق لیگ اسپنر دانش کنیریا پر عائد پا... کھلاڑیوں کوخود ہی ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنی ہو گی، مشتاق ... ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز فاسٹ بولر مائیکل ہولڈنگ نسلی تعصب پر با... اعلیٰ ترک عدالت نے 'آیا صوفیہ' کی میوزیم کی حیثیت ختم کر دی 8 پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث گینگسٹر انکاؤنٹر میں ہلاک چینی برانڈ 'شین' کی جائے نماز کو سجاوٹی قالین فروخت کرنے پر مع... الیکشن سے پہلے جھاڑو پھر جائے گا، شیخ رشید سینیٹر سرفراز بگٹی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

ذہنی و قلبی سکون کےلئے ڈیپریشن سے بچاﺅ ضروری ہے!

غربت، مہنگائی، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ ،خاندانی لڑائی جھگڑے، دہشت گردی ،بد امنی اور سب سے بڑھ کر عدم تحفظ کا بڑھتا ہوا احساس ذہنی امراض مثلاََاضطراب، بے چینی، چڑچڑاپن، غصہ ،ڈیپریشن یا ذہنی دباو¿ وغیرہ کا باعث بن رہا ہے ۔کیا آپ ذہنی دباوﺅیا ڈپریشن کا شکار ہیں ؟اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ ہر وقت افسردہ ر ہتے ہیں ، اپنے کاموں ،مشاغل سے دلچسپی کم یا ختم ہو جائے ،ذہنی یا جسمانی تھکن محسوس کریں یہ تھکن مسلسل رہے ۔بلا وجہ غصہ آئے، آپ خود کو دوسروں سے اعلی یاکمتر خیال کرنے لگیں ،ماضی کی غلطیاں پچھتاوے بن جائیں ،خود کو یا دوسروں کو برے حالات کا ذمہ دار سمجھیں ۔اور مایوس ہو جائیں اگر آپ کی نیند اور بھوک اڑ جائے ،خود کشی کو دل چاہے تو سمجھ لیں کہ آپ ڈپریشن کا شکار ہیں۔
پاکستان میں ذہنی امراض کی صورتحال حیران اور پریشان کن ہے۔ تقریباََ آدھے سے زیادہ آبادی ڈپریشن کا شکار ہے، اس لیے آج اسی پر بات کرتے ہیں ۔یہ بات میں پوری ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں اکثریت ان کی ہے جو ڈپریشن کو مرض ہی نہیں سمجھتے یعنی یہ مرض اتنا عام ہے۔پاکستان میں تقریبا 40 فیصد افراد مختلف قسم کے ذہنی مسائل کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے 20کروڑ عوام کے ذہنی امراض کے علاج کے لیے صرف 450سے زائد ماہر ڈاکٹر موجود ہیںجو کہ انتہائی ناکافی ہیں ۔ پاکستان میں اس وقت ذہنی امراض کے علاج کے لئے صرف چار سرکاری ہسپتال ہیں جو حیدرآباد، لاہور، پشاور اور مانسہرہ میں واقع ہیں، جبکہ ماہرین نفسیات کی بھی کمی ہے ۔
عالمی ادارہ صحت کا کہناہے کہ دنیا بھر میں 45 سے 50 کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔ ہر چوتھا فرد کسی نہ کسی ذہنی مرض کا شکار ہے ۔جس میں سب سے زیادہ پائی جانے والی دماغی بیماریاں ڈیپریشن اور شیزو فرینیا ہیں۔ شیزوفرینیا میں مریض کا دماغ غیر حقیقی چیزوں کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے، اسے رشتہ دار قریبی عزیز سب دشمن نظر آتے ہیں۔ ان لوگوں میں باہر کی دنیا کا شعور کم ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہونے لگتا ہے۔ یہ اپنی ہی دنیا میں مگن نظر آتے ہیں۔ مسز برگر کہتی ہیں کہ دماغی اور جسمانی معذروی میں مبتلا افراد کو ایسے کمزور گروپوں میں شمار کیا جانا چاہیے جنہیں خصوصی مدد درکار ہے۔ انہیں معاشرے کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے اور انہیں معاشرے سے الگ تھلگ اور نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے جیسا کہ آج کے دور میں اکثراوقات کیا جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کو ذہنی صحت کے لیے علاج معالجے کی سہولیات میسر نہیں۔اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ یورپ اور شمالی امریکہ میں ذہنی مسائل سے دوچار 50فی صد اور ترقی پذیر ممالک میں 50فی صد سے زیادہ لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومتیں زیادہ تر رقم ذہنی امراض کے اسپتالوں میں طویل المدت علاج پر صرف کرتی ہیںاور زیادہ تر ذہنی امراض کے لیے مختص رقم کا 70فی صد حصہ دماغی امراض کے اسپتالوں کو دیا جاتا ہے۔
10 اکتوبر کو دنیا بھر میں ذہنی صحت Mental Healthکا عالمی دن منایا جاتاہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہناہے کہ دنیا بھر میں 45 کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں چار میں سے ایک شخص کو کچھ حد تک ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔اس دن کے منانے کا مقصد عوام میں شعور پیدا کرنا اور علاج کے ساتھ پرہیز کی اہمیت کو روشناس کرانا شامل ہے، اس کے علاوہ دماغی امراض سے پیدا ہونے والے مسائل سے آگاہی اور امراض سے بچا ¶ کیلئے رہنمائی بھی فراہم کرنا ہے۔گزشتہ 24سال سے عالمی فیڈریشن برائے مینٹل ہیلتھ، عالمی ادارہ برائے صحت کے زیر اہتمام پاکستان سمیت دنیا بھرکے تمام ممالک میں ہر سال دماغی صحت کے عالمی دن کو منایا جارہا ہے۔
ذہنی امراض کے حوالے سے ہمیں ایک بات بہت توجہ طلب ہے کہ ذہنی بیماریاں جسمانی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہیں۔تحقیق ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو ڈیپریشن کا خطرہ دگنا ہوتاہے ۔ السر ،دمہ ،آدھے سر کا درد، کمر درد، بلڈ پریشر اور دل کی بیماریاں اعصابی بیماریاں بھی قابل ذکر ہیں۔ بہت سی جسمانی بیماریوں کا سبب ذہنی بیماریاں ہوتی ہیں۔ ڈیپریشن میں مبتلا لوگ اکثر ورزش نہیں کرتے، اس لیے موٹاپااور دیگر بہت سی بیماریوں کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں ۔وقت پر کھانا نہ کھانا ،نیند پوری نہ ہونا ،اس سے اعصاب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اور جسمانی بیماریاں حملہ کر دیتی ہیں ۔ڈپریشن کی بیماری کا تعلق جین سےڈپریشن ایک عام بیماری ہے جو ہر معاشرے میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ایسے افراد جن کے دماغ میں ایک خاص قسم کا کیمیاوی مادہ بہت کم مقدار میں پیدا ہوتا ہے ان میں ڈپریشن کا عارضہ نمایاں نظر آتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تیرہ فیصد افراد ذہنی مسائل کا شکار ہیں۔دنیا بھر میں ذہنی امراض میں مبتلا پچاس کروڑ افراد میں سے ہر سال آٹھ لاکھ افراد اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔پاکستان اورعالمی سطح پر غربت میں اضافے کے باعث بھی ذہنی پریشانیوں میں اضافہ ہورہا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں غربت، عدم تحفظ، تعلیم میں کمی، مہنگائی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث ذہنی انتشار میں مبتلا افراد کی تعداد میں گزشتہ دس برس کے دوران سو فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
افسوسناک امر ایک یہ بھی ہے کہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے عزیز واقارب بھی ان کی نگہداشت کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ذہنی امراض کے مریضوں کی علامات ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے گھر والے ان پر جنات کا سایہ سمجھ لیتے ہیں اور فقط دم درود کو ہی علاج قرار دیتے ہیں یا پھر کسی نام نہاد پیر کے پاس لے جا کر اس کے جن نکلوانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں جہاں پر انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا کیونکہ جن ہو تو باہر نکلے ۔معاشرے میں ہمارے اِردگرد بہت سے ایسے مریض ہوتے ہیں جو بظاہر صحت مند نظر آتے ہیں بلکہ صحت مند لوگوں سے زیادہ بہتر کام بھی کر لیتے ہیں اور اس کی وجہ صرف ان کی قوتِ ارادی اور دکھوں اور تکلیفوںسے لڑنے کی طاقت میں پوشیدہ ہے۔اور آخری سانس تک زندگی کی تلخ حقیقتوں سے نبرد آزما رہتے ہیں اور تب جاکر کامیابی ان کا مقدر بنتی ہے۔
ڈپریشن تنہائی کی وجہ سے ہوتا ہے اس لیے ، میل جول بڑھائیں،نئے دوست بنائیں، فلم، موسیقی، کھیل خاص کر مطالعہ کا مشغلہ اپنائیں اور ہاں، مسکرانا مت بھولیے ۔نصیحت ہے کہ معمولی معمولی باتوں پر منہ نہ لٹکائیں بلکہ مسکرائیں اتنی سی کوشش سے آپ ڈپریشن کے حملے سے بچ سکتے ہیں ۔تحریر کے اختتام پر مجھے کہنا ہے کہ انسان جب جوان ہو تو ذہنی امراض کا کسی حد تک مقابلہ کر سکتا ہے، لیکن بڑھاپے میں اعصابی کمزوری کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں رہتا، اس لیے دین اسلام میں حکم ہے کہ اپنے والدین کو اف تک نہ کہو ، اس لئے معاشرے میں لوگوں کو چاہیے کہ وہ ضعیف العمر افراد پرخصوصی توجہ دیں ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.