اسلام کی واپسی

اسلام کی دنیا کی سپر پاور ہے ۔ تھی اور رہے گی۔ قوموں پر عروج اور زوال آتے رہتے ہیں ۔ یہ عروج اور زوال نظام قدرت کا عظیم مظہر ہیں ۔ ہر عروج کے بعد زوال اور ہر زوال کے بعد عروج خا لق قدرت کا خوبصورت کمال ہے۔ اس سے انسان کی طاقت اور مہارت پر غرور ختم ہو جاتا ہے کہ انسان پہلے سے دو گنازیادہ طاقت کے باوجود بے بس اور محکوم بن جاتا ہے اور کبھی معمولی طاقت کے ساتھ حیران کن کامیابیاں سمیٹ لیتا ہے ۔ اس عروج و زوال میں دو باتیں اور بھی کابل ذکر ہیں کہ اللہ تعالیٰ قوموں کو کبھی عروج دے کر آزماتا ہے اور کبھی زوال دے کر امتحان لیتاہے ۔ مزید یہ کہ اس عروج و زوال کے پیچھے ہمارے اعمال ہوتے ہیں ۔ ہمارے اچھے اعمال ہماری قلیل تعداد کے باوجود کامیابیوں کی سبب بنتے ہیں ۔ اس طرح ہمارے برے اعمال ہماری کثیر تعداد میں ہماری ذلتوں ، رسوائیوں اور ناکامیوں کا باعث بن جاتے ہیں۔ اس دنیا کی تاریخ قوموں کے عروج و زوال سے بھری پڑی ہے ۔ عسائیت کے زوال کے وقت اسلام کا عروج تھا اور ایسا عروج کہ اس قوم کے گھوڑے جس طرف بھی رخ کرتے ادھر یا تو ” لاالہ الااللہ محمد الرسول اللہ ” کی صدائیں بلند ہوجاتیں یا اسلام کی اطاعت میں گردنیں جھک جاتیں ۔ جس سے اسلام سینکڑوں کی گنتی سے لاکھوں کی تعداد تک جا پہنچا ۔ اسلام کے نظام حیات اور نظام حکو مت کو دنیا کا بہترین نظام سمجھا گیا ۔ دنیا نے تسلیم کیا کہ بے شک اسلامی تہذیب و تمدن ہی دنیا کے امن اور ترقی کا ضامن ہے اور اسلام کے قواعد و ضوابط ہی انسانیت کا بہترین ضابطہ حیات ہیں ۔ پھر ہمارے اعمال ہمارے زوال کا سبب بنے اور عسائیت کو عروج ملا ۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ سینکڑوں مسلمان دنیا پر حاوی ہونے والے اب کروڑو ں میں ہونے کے باوجود بے بسی اور بے چارگی کی غم زدہ تصویر بنے ہوے ہیں ۔ دنیا کے اس عروج و زوال کی تاریخ پڑھنے سے پہلے اسلام کے ماضی اور حال پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔
اسلام کی سر بلندی کا سفر 313سے شروع ہوا ۔ دنیا 313کو دیکھ کر پہلے مسکرائی بعد میں حیران رہ گئی ۔ یہ قافلہ جب خانہ کعبہ سے بت اتارنے کیلیے مکہ کی گلیوں میں پہنچا تو دنیا نے اس قافلے کے سامنے اپنی گردنیں جھکا کر اسلام کی طاقت کو تسلیم کر لیا تھا ۔ پھر یہ قافلے 22لاکھ مربع میل تک پھیل گئے ۔ اس کی طاقت کا اندازہ ان کی مہارت سے نہیں جذبے سے لگایا جا سکتا ہے کہ اندلس کے ساحل پر جلتی ہوئی کشتیاں دیکھ کر سپین والوں کے ہاتھوں سے تلواریں گر گئیں تھیں ۔ اسلام کے لشکر نے سپین پر اسلامی جھنڈا گاڑ کر اپنی برتری ثابت کی ۔ ہندوستان ، روس اور افریقہ کی طرف جدھر جدھر بھی اسلامی لشکر روانہ ہوئے اسلامی طاقت کو اللہ تعالیٰ نے کامیابیاں عطاء کیں ۔ تاریخ میں ان لشکروں کی تعداد درج ہے کہ قلیل تعداد ملکوں سے جا ٹکرائی اورفتح پائی ۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اسلام جہاں بھی پہنچا اپنے سنہری اصولوں کی وجہ سے پہنچا اور پھیلا ۔ لوگ جہالت اور انسانی بد تری سے جان چھڑاتے ہوئے اسلام میں داخل ہوئے کہ ادھر محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ عسائیت ، ہندومت ، آتش پرستی اور دیگر تمام مذاہب نے اپنے انسانی اونچ نیچ کے نظام کی وجہ سے شکست اور رسوائی پائی اور اسلام نے اونچ نیچ کے نظام کو آئوٹ کر کے کامیابی پائی ۔اسلامی عدالت میں ایک غیر مسلم اپنی صداقت کی وجہ سے سرخرو ہوا اور ایک مسلمان اپنے جھوٹ کی وجہ سے رسوا ہوا ۔ اس نظا م عدل نے دنیا کو انسانیت کا مقام بتایا ۔ پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ اسلام کی درس گاہیں دنیا کی بہتریں حکمت اور علم کی درس گاہیں ہیں ۔ یہ تھا اسلام کا ماضی اب اسلام کے حال کی طرف آتے ہیں ۔
اسلام کا حال ایسا ہے کہ انسانیت شرما جائے ۔ دنیا کو عدل اور معاشرتی روایات دینے والا مذہب خود بے راہ روی کا شکار ہو گیا ۔ دنیا پر کروڑوں بسنے والے مسلمان مظلوم بن کر رہ گئے ۔ ہم نے اپنی زندگی سے عدل ، مساوات ، رواداری ، خود داری ، برداشت ، زکوة اور ایمانداری نکال دی اور ہم ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے ۔ عرب کی عدالت میں ایک عجمی اپنے سچ کی بنا پر سر اٹھا کر کھڑا ہوتا تھا ۔ اب عرب کی عدالت میں ایک خارجی سچا ہونے کے باوجود سزا کا مستحق ہوتا ہے یا ملک سے آئوٹ کر دیا جاتا ہے ۔ ہمارے اپنے ملک میں قانون امیر کے گھر کی لونڈی جبکہ غریب کیلیے ایک اژدھا ہے ۔ ہماری بے ایمانی کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنی ہی قوم کو خالص چیزیں تو کیا خالص عقیدہ اور خالص ایمان نہیں دے پائے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام دشمن طاقتو ں نے مسلمانوں کو پوری دنیا میں ذلیل و خوار کر دیا ۔ لیبیا ، شام ، عراق اور افغانستان میں مسلمانوں کی جتنی خون ریزی ہوئی ، چنگیز خان اور ہلاکو خان جیسے درندوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے جو مینار بنے وہ ہماری ذلت اور رسوائی کی شرمناک داستانیں ہیں ۔ جن ساحلوں پر دنیا نے ہماری جلتی ہوئی کشتیاں دیکھ کر داد دی تھی انھی ساحلوں سے ہماری ننگ دھڑنگ بہتی ہوئی لاشوں پر دنیا نے قہقے لگائے تھے ۔ ہماری بے ایمانی اور بے راہ روی نے ہمیں سپین سے بے دخل کر دیا تھا۔ اگرچہ یوسف بن تاشفین جیسے مجاہدوں نے اہل سپین کو دوبارہ جھکا دیا تھا مگر ہماری بے راہ روی نے ہمیں پھر در بدر کر دیا اور ہم یورپ سے بڑے رسوا ہو کر نکلے ۔فلسطین اور کشمیر میں برسوں سے ہماری مائوں بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے یا ہماری نو جوان نسل کو جس طرح ختم کیا جارہا ہے ۔ اس کا کروڑوں مسلمانوں کو کچھ بھی اثر نہیں ہوا اور ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے موت سے محفوظ بیٹھے ہیں۔ گزشتہ سال برما میں مسلمان عورتوں ، بچوں ، نوجوانوں اور بزرگوں کے ساتھ جو کچھ ہو ا وہ لفظوںمیں بیان نہیں ہوسکتا ۔ مگر ہم اتنے بے حس اور بے اثر ہیں کہ ہم نے کوئی حرکت نہیں کی ۔ آج کل ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ ہماری بے شرمی کی اعلیٰ ترین مثال ہے ۔ ہم دنیا میں دوسری بڑی قوم ہو کر دنیا کی قلیل ترین اقلیتوں ہندوئوں اور یہودیوں کے سامنے کیڑے مکوڑے بنے ہوئے ہیں ۔ ہندوئوں اور یہودیوں کس دنیا کے نقشے پر ایک ایک ملک ہے مگر وہ عزت سے جی رہے ہیں ہمارے دنیا پر54ممالک ہیں اور ہم اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھا کر دنیا سے امن مانگ رہے ہیں ۔
جیسے ہر عروج کے بعد زوال ہوتا ہے اور ہر زوال کے بعد عروج ہوتا ہے اسی طرح اب اسلام کا زوال اپنے اختتام کی طرف چل نکلا ہے معلوم ہوتا ہے کہ اب قدرت کو مسلمانوں پر رحم آ گیا ہے ۔ لیبیا ، شام ، عراق اور افغانستان کی ذلت کے بعد ترکی کا امریکہ کے ڈالر کو پھاڑنا اور جلانا ، ایران کا امریکہ کو للکارنا اور امریکیوں کے سینے پر کھڑے ہو کر بات کرنا ، پاکستان کا Do more سے انکار کرنا اور امریکہ کو Do more کا سبق دینا ، عراق کا امریکہ اور اتحادیوں کو عراق سے نکل جانے کا حکم دینا اورشام کا دوبارہ متحد ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کو پھر اللہ تعالیٰ نے مضبوطی کی طرف گامزن کر دیا ہے مسلمانوں میں غیرت اور خود داری نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے اب 86سال کے بعد ترکی کی مسجد آیا صوفیہ کی بحالی نے مسلمانوں کو اپنی کھوئی ہوئی عزت اور شوکت کی یاد دلا دی ہے ۔ مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد صدر طیب اردوان نے کہا ہے کہ مسجد آیا صوفیہ کی بحالی کے بعد ہماری اگلی منزل مسجد اقصیٰ ہے ۔ہماری خواہشیں اب الفاظ بن کر ہماری زبان پر آنا شروع ہو گئے ہیں ۔ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری بے بسی اور بے چارگی پر ترس آ گیا ہے ۔ اور اسلام کی واپسی جلد ہو گی ۔ ایک دفعہ پھر اسلام دنیا کی توجہ کا مرکز ہو گا ۔انشاء اللہ ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.