ایران امریکہ کشمکش

پچھلے ہفتے ایران کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے تہران سے بیروت جانے والے ایک مسافر طیارے کا تعاقب کیا چنانچہ فضائی تصادم سے بچنے کے لیے مسافر طیارے کے پائلٹ کو فوراً اپنی اونچائی کم کرنی پڑی جس کی وجہ سے چند مسافر زخمی بھی ہوئے۔
دوسری جانب امریکہ کے مطابق ان کا ایف پندرہ طیارہ معمول کی نگرانی کی مشق کر رہا تھا اور انھوں نے مسافر طیارے سے ایک محفوظ فاصلہ برقرار رکھا ہوا تھا۔
جمعرات کو Mahan Airline کی پرواز 1152 شام کی فضائی حدود سے گزر رہی تھی جب دو طیاروں نے اس کا تعاقب کرنا شروع کر دیا۔
ایرانی میڈیا نے ایک فوٹیج جاری کی تھی جسمیں دو طیاروں کو ایک مسافر طیارے کے ساتھ ساتھ اڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ایک اور ویڈیو میں بظاہر مسافروں کی چیخوں کی آوازیں آتی ہیں جس وقت طیارہ اچانک اپنی اونچائی کم کر رہا ہے۔
ایران کا الزام ہے کہ یہ طیارے اسرائیلی تھے تاہم مڈل ایسٹ میں قائم امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایک بیان میں بتایا گیا کہ ان کے ایک ایف پندرہ طیارے نے نامعلوم جہاز کی شناخت کرنے کے لیے قریب سے معائنہ کیا جو کہ بین الاقوامی قواعد کے مطابق تھا۔ ایف پندرہ نے معائنے کے دوران ہزار میٹر یعنی ایک کلومیٹر کا فاصلہ برقرار رکھا تھا۔
تاہم اس واقعے کے بعد مسافر بردار طیارہ اپنی منزل کی طرف اْڑتا رہا اور مقررہ وقت پر بیروت لینڈ کر گیا اور جہاز میں سوار تمام مسافر بحفاظت بیروت ایئرپورٹ اتر گئے۔تاہم کچھ مسافروں کو چوٹیں آئیں۔ ایک مسافر کے مطابق جب جہاز نے اچانک اپنا رخ نیچے کی طرف کیا تو اسکا سر چھت سے ٹکرا گیا اسے سمجھ ہی نہ آ سکی کہ یکدم کیا ہوا۔
پائلٹ نے طیاروں سے رابطہ قائم کیا اور جب انھوں نے اپنی شناخت امریکی ظاہر کی تو پائلٹ نے انھیں محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے کی تاکید کی۔
تاہم امریکی فوج کے ترجمان کپتان Bill Urban نے کہا کہ ان کے ایف 15 طیارے نے التنف میں موجود امریکی افواج کی حفاظت کے مدنظر یہ قدم اٹھایا اور جب پائلٹ نے اپنی شناخت Mahan Air کی پرواز کے طور پر کروا دی تو ایف 15 نے اس سے ایک محفوظ فاصلہ برقرار رکھا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسووی کے مطابق اس واقعے پر قانونی اور سیاسی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
امریکہ اور اسرائیل نے Mahan Air پر ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے روابط کے باعث پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور ایئر لائن کے بارے میں حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کا مڈل ایسٹ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں بھی کردار رہا ہے۔ یہ سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ Airline نے کسطرح جنوری کے آخر سے لیکر مارچ کے آخر تک ایران، عراق، مڈل ایسٹ اور شام کے درمیان حکام کی جانب سے پابندیوں کے باوجود کئی سو بار پروازوں کا آپریشن جاری رکھا۔ ان سب ممالک نے اپنی طرف سے پابندیوں کے باوجود Mahan Air کے جہازوں کو لینڈ کی اجازت دی۔
جسطرح امریکہ کورونا وائرس کی وجہ سے سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کلاں کو سیدھا سادھا الزام ایران پہ تھوپ دے کہ یہی کورونا وائرس کو دْنیا میں پھیلانے کا باعث بنا ہے۔ حالانکہ حالات کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے نظر آرہے ہیں۔
ایران نے شروع دن سے ہی امریکہ کو ٹھینگا دکھا رکھا ہے اور متنبہ کیا ہوا ہے کہ وہ اس کے معاملات میں ٹانگ اڑانے سے باز رہے۔ ورنہ اسکے نتائج سنگین ہوں گے۔ اب امریکہ کو یہ عادت نہیں ہے کہ کوئی بھی تیسری دْنیا کا مْلک اس کے آگے آنکھ اْٹھا کے بھی بات کرے، کْجا یہ کہ اسے سرِ عام دھمکیاں دے اور بے عزت کرے۔
یہ میمنے اور بھڑئیے والی کہانی شروع ہو گئی ہے۔ مگر اْس کہانی میں تو بھیڑیا میمنے کو کھا گیا تھا۔لیکن یہاں میمنا آگے سے شیر ہوا پھرتا ہے اور تادمِ تحریر ڈٹا ہوا ہے۔ آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.