Latest news

بابری مسجد کی شہادت میں بھارتی حکمران بھی شامل تھے

ہندوقوم کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ امن سے نہیں رہی کیونکہ شیطانیت انکی فطرت میں شامل ہے اور یہی چیز انہیں مسلمانوں کے خلاف تعصب پر اکساتی رہتی ہے اس لیے انہیں جب بھی موقع ملتاہے اس تعصب اورنفرت کا اظہار کرتے ہیں۔

اسی نفرت کے پیش نظر 6 دسمبر 1992 کو انتہا پسند ہندووں نے قوم پرست ہندو تنظیموں کے اکسانے پربابری مسجد کو شہید کرکے عارضی طورپر ایک مندر بنادیا تھا۔ جس کے بعدسارے ہندوستان میں فسادات پھوٹ پڑے جن میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔ مارے جانے والوں میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔
بھارتی نیوز ویب سائٹ اور ٹی وی پروڈکشن ہاﺅس کو برا پوسٹ نے تازہ ترین ”سٹنگ آپریشن“ کے دوران تیار کی گئی رپورٹ میںیہ انکشاف کیا ہے کہ انتہاپسند ہندو تنظیموں کے اتحاد سنگھ پریوار نے بابری مسجد کو شہید کرنے کیلئے کئی ماہ تک انتہائی منظم انداز میں منصوبہ بندی کی تھی اور اپنے کارکنوں کو ریٹائرڈ فوجی افسروں سے تربیت دلوائی تھی۔ مزید براں بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی، سابق بھارتی وزیراعظم وی پی نرسیما راﺅ، اس وقت کے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ اور رام جنم بھومی تحریک کے دیگر اہم رہنما اس منصوبہ سے آگاہ تھے۔
یہ انکشافی رپورٹ جسے اکثر بھارتی اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا، کی تیاری کیلئے کوبرا پوسٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر کے اشیش نے ایودھیا تحریک پر تحقیقی کتاب کے مصنف کے روپ میں ایودھیا، فیض آباد، ٹانڈا، لکھنﺅ، گورکھپور، متھرا ، مراد آباد، جے پور، اورنگ آباد، ممبئی اور گوالیار کا سفر کیا اور رام جنم بھولی تحریک کے23اہم رہنماﺅں کے انٹرویو ریکارڈ کئے۔ ان رہنماﺅں میں شکتی مہاراج، اچاریہ دھرمیندر، اوما بھارتی، مہانت ویدانش اور ونے کٹیار شامل ہیں۔ کے اشیش کے مطابق ان سب رہنماﺅں کے انٹرویو کو ایک جگہ جمع کرنے سے جو معلومات حاصل ہوئیں ان کے مطابق یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے کہ بابری مسجد کی شہادت مشتعل کارسیوکوں کی کارروائی تھی۔ بابری مسجد کی شہادت کے منصوبہ کی کئی ماہ تک تیاری کی گئی تھی۔ اس منصوبہ کا خفیہ نام ”آپریشن جنم بھومی“ رکھا گیا تھا اور اس پر فوجی مہارت کے ساتھ عمل درآمد کیا گیا۔ کارسیوکوں کو باقاعدہ تربیت فراہم کی گئی اور مسجد کی شہادت کیلئے درکار ساز و سامان کو اہتمام کے ساتھ مطلوبہ جگہ تک پہنچایا گیا۔

منصوبہ تشکیل دینے والوں نے اس موقع پر کچھ ہندو کارسیوکوں کو پولیس کے ہاتھوں مروانے کی منصوبہ بندی بھی کی تھی کیونکہ ان کے خیال میں ہندو کارسیوکوں کے قتل کے بغیر اس منصوبہ پر عملدرآمد ممکن نہیں تھا۔ منصوبہ سازوں نے پلان بی اور سی بھی تشکیل دیا تھا جس کے مطابق پلان اے ناکام ہونے کی صورت میں مسجد کو ڈائنامائٹ سے اڑا دیا جانا تھا اور یہ منصوبہ ناکام ہونے کی صورت میں مسجد کو پٹرو ل بموں سے آگ لگا دی جانا تھی۔
رام جنم بھومی تحریک کے جن رہنماﺅں سے انٹرویو کئے گئے ان میں سے کئی نے نہ صرف اس مذموم منصوبہ میں شمولیت کا اعتراف کیا بلکہ اپنے کردار کو فخر سے بیان کیا۔ ان تمام رہنماﺅں کے انٹرویو سے حاصل ہونے والی تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کا منصوبہ انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا۔ جن لوگوں کو تربیت کیلئے منتخب کیا گیا ان کو بھی اس سانحہ سے ایک ماہ قبل تک اس بات سے لاعلم رکھا گیا۔ انتہاپسند ہندو تنظیم بحرنگ دل نے گجرات کے علاقے سرکھیج میں جون 1992ءمیں اپنے 38 کارکنوں کو ایک ماہ تک تربیت فراہم کی اور وشوا ہندو پریشد کے سینئر ترین قائدین نے ان افراد کو بابری مسجد کی شہادت کیلئے مذہبی طور پر اکسایا، ذہنی تربیت اور لکشمن سینا نامی تنظیم تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ ان کارکنوں کو تربیت دینے والے بھارتی فوج کے ریٹائرڈ سینئر افسر تھے۔ ان لوگوں کی اچاریہ گری راج کشور، اچاریہ دھرمیندر، پراوین توگاڑیا جے بھن پاویا اور اشوک سنگھل جیسے انتہاپسند رہنماﺅں سے تعارفی نشستیں کرائی گئیں۔
جے بھگوان گوئل نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس ڈائنا مائٹ کا بھی انتظام تھا اور ضرورت پڑنے پر وہ اسے استعمال کر سکتے تھے۔ بجرنگ دل کے ایک سکواڈ نے تیشے، ہتھوڑے، بیلچے، رسے اور دیگر مطلوبہ اشیاءمقررہ جگہ تک پہنچائیں۔ شکشی مہاراج نے اعتراف کیا کہ اشوک سنگھل نے ان کے سامنے کہا تھا کہ جب تک کارکن مارے نہیں جائیں گے مہم زور نہیں پکڑے گی۔ 6دسمبر کو کچھ کارسیوکوں نے بابری مسجد کو شہید کرنے کا حلف اٹھایا تھا یہ حلف رام ولاس ویدانتی نے لیا تھا۔ ونے کٹیار، بی ایل شرما ، سنتوش ڈوبی اور بعض دوسرے رہنماﺅں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اس منصوبہ میں انہیں اس وقت کے وزیر اعظم نرسیما راﺅ کی آشیرباد بھی حاصل تھی۔ اس وقت کے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کو اس منصوبہ کی اطلاع ایک روز قبل دی گئی اور انہیں ضروری اقدامات کرنے کو کہا گیا تاہم 6دسمبر کی صبح بابری مسجد پر حملے کی اطلاع پر انہوں نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا لیکن مرلی منوہر جوشی اور ایچ وی ششادھری جیسے سینئر رہنماﺅں کے کہنے پر انہوں نے یہ اعلان واپس لے لیا۔ یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بی جے پی کے رہنماﺅں نے کلیان سنگھ کو بابری مسجد کی شہادت کی کارروائی مکمل ہونے تک لکھنﺅ میں یرغمال بنا کر رکھا تھا۔
مسجد کی شہادت سے قبل نرسمہا راو سارے ملک کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے رہے کہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا سپریم کورٹ میں بھی مسجد کی برقراری اور نقصان نہ پہنچانے کا حلف نامہ نرسمہا راو¿ نے اپنے دوست کلیان سنگھ سے داخل کروایا اور جس وقت مسجد شہید کی جارہی تھی نرسمہا راو¿ سوتے رہے کارسیوکوں کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل تھی۔ پولیس اورنیم فوجی دستوں کو مداخلت سے روک دیا گیا اور نہ صرف مسجد شہید کردی گئی بلکہ اس کی جگہ عارضی مندر کی تعمیر تک نرسمہا راو کی مجرمانہ لاعلمی برقرار رہی ہے ۔اس لئے بابری مسجد کی شہادت کا کلیدی مجرم نرسمہا راو کو کہا جاتا ہے۔
مسجد کی شہادت یقینی طورپر دنیا بھرکے مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیز اقدام تھا اس لیے پوری دنیا میں مسلمان ہندوﺅں کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ حکومت وقت نے مسجد کی شہادت کے وقت فوج اورپولیس کومشتعل ہندوﺅں کے کیخلاف مسجد کو شہید ہونے سے بچانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا وہی حکومت مسجد کی شہاد ت کے بعد مسلمانوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتی رہی اوراندرون خانہ ہندو انتہا پسندوں کی سپورٹ کرتی رہی۔ بعد میں بھارت کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے بابری مسجد پراپنی سیاست چمکائی لیکن کسی میں اس مسجد کو تعمیر کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔
اس رپورٹ نے جہاں ہندوﺅں کے سکیولر ازم اورلبرل ازم پر سے پردہ اٹھایا وہاں بھارتی لیڈروں کا اصل چہرہ بھی دنیا کے سامنے عیاں ہوگیا۔ بابری مسجد کی شہادت کے الزام میں ایل کے ایڈوانی اعترافی بیان بھی دے چکے ہیں لیکن بھارتی ایوان انصاف کوان کے اندرموجود مجرم دکھائی نہیں دے رہا اس لیے وہ اب تک آزاد پھر رہے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.