Daily Taqat

بحر ہند میں بھارتی جوہری آب دوزکی موجودگی!

دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ایٹمی آبدوز کی پہلی دفاعی آزمائشی گشت اور اس حوالے سے خود ساختہ تہنیتی پیغامات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی آبدوز کا یہ گشت جنوبی ایشیا میں ایٹمی وار ہیڈز کے استعمال کی تیاری کی جانب پہلاعملی قدم ہے جو نہ صرف بحرہند کے ممالک بلکہ عالمی برادری کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ بھارت کی ایٹمی آبدوز کا اس طرح گشت کرنا عالمی امن کے لیے خطرہ ہے تاہم کسی کو پاکستان کی صلاحیتوں پر شک نہیں ہونا چاہیے۔
چند سال قبل بھارت نے اپنی پہلی ایٹمی آبدوز کو پانی میں اتار کر جنوبی ایشیا میں اسلحہ کی دوڑ کو ایک نئی جہت دی ۔ اریہانت نامی ایٹمی آبدوز کے اضافہ کے ساتھ بھارتی بحریہ اب نہ صرف بحرہند کے پانیوں میں دور تک مار کر سکے گی بلکہ اسے دشمن کے خلاف اپنے پہلے ایٹمی حملے کی ناکامی کے بعد پانی کے اندر سے دوسرا میزائل حملہ کرنے کی استعداد بھی حاصل ہو جائے گی۔ ایک ایٹمی آبدوز کو روایتی آبدوزوں پر جو برتری حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ آبدوز زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ دور تک گہرے سمندر میں کارروائی کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ پانی کے اندر چھ ماہ سے بھی زیادہ عرصہ تک رہ سکتی ہے جبکہ روایتی آبدوز صرف دو ماہ تک پانی کے نیچے رہ سکتی ہے۔
پاکستان کے پاس سمندر میں فضائی نگرانی کرنے کا موثر نظام بھی موجود ہے۔ اس کے طیارے دشمن کی آبدوزوں کا سراغ لگا کر انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی خاصیت کی بنا پر پاک بحریہ نے پاکستانی سمندری علاقے میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگا کر اسے اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ بھارتی آبدوز کو پیچھے دھکیلتے ہوئے اپنے پانیوں سے مار بھگایا تھا۔ قصہ یوں ہے کہ مذموم عزائم کے حصول کے لئے بھارتی فوج کے ساتھ ساتھ بھارتی بحریہ بھی اپنی آبدوزوں کو پاکستان کے خلاف تعینات کررہی تھی۔
پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کو 4 روز تک مانیٹر کیا۔ بھارتی آبدوز 4 روز تک سطح سمندر پر نہیں آئی اور پاک بحریہ نے اسے سطح سمندر پر آنے پر مجبور کیا۔ آبدوز جرمن ساختہ 209 تھی۔ بھارت کے پاس جرمن ساختہ 4 آبدوزیں ہیں۔
بھارتی آبدوز کے پاکستان آنے کے تین سے چار مقاصد ہو سکتے ہیں پاک بحریہ نے مستعدی سے بھارتی آبدوز کا سراغ لگایا۔ بھارت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) کی وجہ سے بہت پریشان ہے اور اس وجہ سے اوٹ پٹانگ حرکتیں کررہاہے۔ وہ پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے کئی طریقے اپنا رہاہے اور یہ اس کی زندہ مثال ہے۔ بھارت افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں رخنے ڈال رہا ہے۔ آبدوز میں بھارتی ایس ایس جی کے لوگ اور دہشگرد تھے۔ لینڈ کرنے کے بعد بلوچستان میںکارووائی کرنا تھی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی بحریہ کا سارا ٹارگٹ بلوچستان کا ساحل ہے۔ ان کا مقصدسی پیک کو نقصان پہنچانا تھا آبدوز بھیجنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تینوں فورسز کو دباو¿ میں رکھنا چاہتا ہے۔ پاک بحریہ کی چوکسی نے ملک کو بڑے خطرے سے بچا لیا۔
بھارتی بحریہ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ابھی دو جوہری آبدوز ہیں ، جس میں ایک ارھنت جیسے ملک میں ہی بنایا گیا جبکہ دوسر ا روس سے لیز پر لیا گیا ہے۔ مزید چھ جوہری آبدوز بنانے کا کام بحریہ کے سب میرین بیڑے کی اس سال منائی جا نے والی گولڈن جوبلی کے دوران شروع کیا گیا ہے۔بھارتی ایڈمرل کا خیال ہے کہ ان آبدوزوں کی تیاری کے بعد بھارتی بحریہ امریکہ آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ مشترکہ بحری قوت کا حصہ بن سکے گی۔بھارت کی بدقسمتی کہ آسٹریلوی اخبار نے چھ بھارتی اسکارپئین آبدوزوں کے بارے میں حساس معلومات کا کچا چھٹہ کھول کر رکھ دیا۔ بائیس ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل خفیہ ڈیٹا کے مطابق بھارت نے فرانس کے دفاعی کنٹریکٹر ڈی سی این ایس کو اسکورپین آبدوز کے ڈیزائن کی مد میں 3 ارب45 کروڑ ڈالر فراہم کئے۔ان دستاویزات میں آبدوزوں کے پورے نظام، جنگی صلاحیت، ٹارپیڈو لانچ، نیویگیشن اور مواصلات کا نظام ، پانی کے اندر اور اس سے اوپر سینسرز کی تفصیلات شامل ہیں۔
یہ بات بھی سچ ہے کہ بھارت میں ایٹمی ہتھیاروں کے ذمہ دارانہ کنٹرول کے بارے میں سوالیہ نشان ہے۔کیونکہ بھارت میں جوہری ہتھیار، جوہری مواد انتہائی ناقص اور غیر ذمہ دارانہ ماحول میں کھلے عام موجود ہیں۔ اس کے علاوہ جوہری ہتھیاروں ، میزائلوں اور دیگر اسلحہ کی دیکھ بھال اور ان کو چلانے والا عملہ غیر تربیت یافتہ ہے۔ اسی وجہ سے آئے دن کوئی نہ کوئی حادثہ ہوتا رہتا ہے۔ انڈین نیوی کی واحد روسی ساختہ جوہری آبدوز ’آئی این ایس اریہانت‘ کو عملے کی غفلت کے باعث شدید نقصان پہنچا ۔آبدوز بندرگاہ پرموجود تھی کہ اس دوران عملے کی غفلت کے باعث اس کا ایک دروازہ کھلا رہ گیا جس سے پانی آبدوز کے اندر داخل ہوگیا اور اسے شدید نقصان پہنچا جس کی مرمت کا کام گزشتہ دس ماہ سے جاری ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »