Latest news

دریائے کابل پر ڈیم کےلئے بھارتی فنڈنگ

افغانستان کے مشرقی حصے میں بہنے والے کئی چھوٹے بڑے دریا پاکستان کی سرزمین میں داخل ہو کر ایک بڑے دریا، دریائے کابل میں گرتے ہیں اور اسے اضافی پانی مہیا کرتے ہیں۔ بھارت کی حکومت نے افغانستان کو یہ فراخدلانہ پیشکش کی ہے کہ وہ دریائے کابل پر بڑا ڈیم بنائے تو بھارت اس مقصد کےلئے نہ صرف افغانستان کو مکمل فنی تعاون اور ماہرین کی خدمات مہیا کرے گا بلکہ تین بلین ڈالر کا خطیر سرمایہ بھی اس منصوبے پر لگائے گا۔ بھارت نے محض زبانی پیش کش پر اکتفا نہیں کیا بلکہ علمی طور پر بھی اقدامات کئے ہیں۔
پاکستان کی مخالفت میں بھارت ، افغانستان کو دریائے کابل پر ڈیم بنانے کےلئے فنڈ فراہم کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے وہ پاکستان کی جانب پانی کے بہاو¿ کو کم کرنا چاہتا ہے۔اس طرح وہ پاک افغان تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ افغانستان کے اکثر علاقوں کو اس وقت فصل کی کاشت کے لیے مطلوبہ بارش اور برفباری میں 60 فیصد کمی کا سامنا ہے۔ کابل کو آبادی میں تیز رفتار اضافہ، شدید خشک سالی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نئے آبی منصوبوں کی فوری ضرورت ہے۔افغان حکومت کےلئے اس منصوبہ کی تکمیل آسان نہیں۔ اس موقع پر بھارت آگے آیا اور اس نے دریائے کابل ڈیم بنانے کا شوشہ چھوڑا اور اس پر عمل درآمد کےلئے عملی تعاون کا بھی یقین دلایا۔
بھارت کی ریشہ دوانیوں کے نتیجہ میں افغانستان میں امریکی سفیر نے بجلی اور پانی کے افغان وزیر کو دریائے کابل پر جلال آباد کے قریب درومنڈ کے مقام پر ایک میگا ڈیم بنانے کیلئے امریکی امداد کی پیشکش کی ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے آبی ماہرین کو شدید تشویش ہے کہ پاکستان دریائے کابل کے میٹھے اور شفاف پانی کو استعمال کرتا ہے اگر اس دریا پر ڈیم بنا دیا گیا تو پاکستان کے آبی نظام کو خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے پاکستان کی لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی دریائے کابل کے پانی سے محروم ہوجائے گی۔
دریائے کابل کے جغرافیائی محل و وقوع پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ دریا پاکستان کی وادی چترال سے اپنا سفر شروع کرتا ہے اور کابل سے تقریباً 45 کلومیٹر مغرب کی جانب وہ افغانستان میں داخل ہوتا ہے۔ کابل شہر سے گزر کر ایک خاصا لمبا سفر طے کرنے کے بعد درہ خیبر کی شمالی جانب سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ ضلع پشاور کی حدود میں سے گزرتا ہوا ضلع اٹک کے قریب دریائے سندھ میں گرتا ہے۔ دریائے کابل کی لمبائی تقریباً700 کلومیٹر ہے۔ کل لمبائی کا 560 کلومیٹر افغانستان میں اور 140 کلومیٹر حصہ پاکستان کی سرزمین پر آتا ہے۔
افغانستان کے ضلع چہار آسیاب اور دریائے کابل کے سنگم پر شہتوت ڈیم کی تعمیر کا آغاز ہونے والا ہے۔اس ڈیم میں146 ملین کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی جس سے کابل کے 20 لاکھ افراد مستفید ہوں گے اور4000 ایکڑ رقبے کو سیراب کیاجا سکے گا۔ اس ڈیم کی وجہ سے کابل کے مضافاتی علاقے میں قائم نئے شہر دیہہ سبز کو پینے کا پانی میسر آئے گااور کئی دہائیوں پر محیط تباہ کن جنگ کے بعد افغانستان ہا ئیڈرو پاور سے اپنی معیشت کو بجلی فراہم کرنے کے قابل ہوسکے گا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس ڈیم سے دریائے کابل کے بہاو¿ میں تبدیلی کی وجہ سے پاکستان کے زیریں علاقوں کو پانی کی کمی کا سامنا ہوگا۔ شہتوت اور دیگر زیر غور ڈیم کی تکمیل سے پاکستان کو16,17فیصد تک پانی کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ شہتوت ڈیم کی تعمیرسے پانی کے بہاو کو کم کرنے کا منصوبہ ہے اور چونکہ اس ڈیم کی فنڈنگ بھارت کررہا ہے لہٰذا اس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور تناو¿ کی فضاپروان چڑھے گی۔ بھارت اس ڈیم کے علاوہ بھی افغانستان کو انفرااسٹرکچر،ہائی ویز اور اور دیگر کئی پروجیکٹ میں تعاون فراہم کر رہا ہے۔
پاکستانی حکام بھارت کے اس سطح پر مالی تعاون کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ڈیم کی تعمیر بھارت کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے تاکہ پاکستان کے لیے پانی کی فراہمی مشکل بنا دی جائے۔ پاکستان ہائیڈرو پاور سیکٹر میں خاطر خواہ سرمایہ کاری میں ناکام رہا ہے۔ بھارت کو شہتوت ڈیم کے حوالے سے محتاط اور متوازن رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ صحیح اور بہتر طو ر پر تعاون کی فراہمی سے زیادہ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں جبکہ غیر ذمہ دارانہ رویہ پڑوسی ممالک میں کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
اگر بھارت اس کوشش میںکامیاب ہوگیا کہ وہ دریائے کابل پر ڈیم بنانے میں افغان حکومت کی مدد کرے تو پاکستان کے انتہائی اہم آبی منصوبے یعنی کالا باغ ڈیم پر ایک کاری ضرب لگنے کا اندیشہ ہے۔ کالا باغ ڈیم میں دریائے سندھ کے سیلابی پانی کے علاوہ دریائے کابل کا پانی بھی آتا ہے۔ ڈیم کو لبالب بھرنے کےلئے دریائے کابل کے پانی کی بھی اشد ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ دریائے کابل میںپانی کی کمی سے وارسک ڈیم کی کارکردگی پر بھی برا اثر پڑے گا۔ وارسک ڈیم بھی دریائے کابل سے پانی حاصل کرتا ہے۔
پاکستان اور بھارت سندھ طاس معاہدے سے جڑے ہوئے ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں عالمی بنک سے ثالثی کےلئے رجوع کر سکتے ہیں جیساکہ بگلیہار ڈیم کے بارے میں ہوا۔ لیکن افغان حکومت سے ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر افغان حکومت سے رابطہ کر کے ڈیم کی جگہ کا معائنہ کرے اور اگر ضروری ہو تو پاکستان اپنا عالمی اثر ورسوخ استعمال کر کے افغان حکومت کو اس عمل سے باز رکھنے کی کوشش کرے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.