اہم خبرِیں
گوگل بھارت میں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا بھوک بڑھنے سے 12 ہزار افراد روزانہ ہلاک ہو سکتے ہیں، رپورٹ امریکی شہر کیلی فورنیا میں کورونا نے تباہی مچا دی پاکستان نیوی کے بحری بیڑے میں نئے اور جدید بحری جنگی جہازپی ای... معاشرے میں بگاڑ کے اسباب ”کشمیریوں کی زندگی کی بھی اہمیت ہے“ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے پاکستان ترقی کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب، اقوام متحدہ کی رپورٹ... امریکی بحری جنگی جہاز میں دھماکا، 21 افراد زخمی سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پرمیزائلوں سے حملہ دنیا بھر میں آج یومِ شہدائے کشمیر منایا جائے گا پاکستان فرانسیسی شعبہ زراعت اور شعبہ حیوانات کی مہارت سے استفا... میر شکیل الرحمان کی ہمشیرہ کے انتقال پر سی پی این ای کا تعزیت ... شمالی وزیرستان، پاک فوج کا آپریشن، چاردہشت گرد جہنم وصل گھوٹکی ٹرین حادثے کو پندرہ سال بیت گئے پاکستان میں کورونا کے 2 ہزار 521 نئے کیسز،74 اموات انگلستان کی پاکستان میں ڈھائی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری آیاصوفیہ مسجد کی کہانی ” آپ ایسا کریں کہ آپ کل آ جائیں“ اسٹیٹ بینک کےقوانین کی خلاف ورزی پر 15 کمرشل بینکوں کو بھاری ...

حنان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی سرکار پریشان

جموں و کشمیر میں بھارتی بربریت اور دہشت گردی رو ز بروز بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں 50 سے زائد نہتے اور بے گناہ کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ اسی طرح کے ایک واقعہ میں پی ایچ ڈی سکالر عبدالمنان وانی کو بھی بھارتی قانون نافذ کرنےو الے اداروں نے شہید کر دیا تھا۔
منان وانی علی گڑھ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے۔ ان کا آبائی گھر ضلع کپواڑہ میں تھا جو کہ لائن آف کنٹرول کے کافی قریب واقع ہے۔ پاک بھارت سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں بھارتی فورسز کی بھاری تعداد تعینات ہے۔ کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلتی بھارتی فوج اور پولیس کے ظلم و ستم کو دیکھتے ہوئے منان وانی نے پی ایچ ڈی کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر کشمیر کی راہ لی اور مجاہدین کے ساتھ مل کر بھارتی حکومت کے خلاف جدوجہد میں شامل ہوگئے۔
علی گڑھ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر ابھی تک ان کے تحقیقی مضامین موجود ہیں۔ چند سال قبل انہیں بھوپال یونیورسٹی کی جانب سے عالمی کانفرنس کے دوران بہترین مقالہ پیش کرنے پر ایوارڈ بھی دیا گیا۔ لیکن کشمیر کے ساتھ بھارتی حکومت کا سوتیلا پن اور فورسز کو قتل و غارت کی کھلی چھٹی دیکھ کر اعلیٰ تعلیم یافتہ منان وانی اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر جدوجہد آزادی میں شامل ہوگئے۔
منان وانی کی شہادت کے بعد بھارت زیادہ پریشان ہے۔ بھارت نواز حلقوں اورسیکورٹی فورسز کو یہ خدشہ ہے کہ اس شہادت سے پڑھے لکھے نواجوانوں میں بغاوت کی لہر پیدا ہو سکتی ہے اوربڑی تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیری نوجوان تحریک آزادی کشمیر میں شامل ہو کر بھارتی سرکار کے لئے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ مقبوضہ کشمیر محبوبہ مفتی نے بھی منان وانی کی شہادت کو قومی نقصان قرار دیا ہے۔
دو سال قبل برہان وانی کی شہادت کے بعد احتجاج، مسلح مزاحمت اور مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد اب تک بہت سے تعلیم یافتہ نوجوان اور سکالرز مسلح ہر کر بھارت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ جن میں سے بہت سوں نے جام شہادت بھی نوش کر لیا ہے۔ بھارتی نقطہ نگاہ سے یہ حالات بہت تشویشناک ہیں۔ بھارتی کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ اب کشمیریوں کو پاکستان کی ضرورت نہیں کیونکہ اب وہ پولیس اور فوجیوں سے اسلحہ چھین کر جنگلوں میں پناہ لیتے ہیں اور موقع ملنے پر اسی اسلحہ سے بھارتی فورسز پر حملہ بھی کر دیتے ہیں۔
منان وانی کا تعلق علی گڑھ یونیورسٹی سے ہونے کی وجہ سے ان کی شہادت پر علی گڑھ یونیورسٹی میں کشمیری طالب علموں نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ میں شرکت کی۔ یہ خبر مودی سرکار کو آگ لگا گئی لہذا تین کشمیری طالب علموں کو جن کی شناخت ہو سکی ، یونیورسٹی سے بے دخل کر دیا گیا۔ اس کے ردعمل میں تقریباً 1200 کے قریب مسلم طلباءنے یونیورسٹی چھوڑنے کی دھمکی دے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس قسم کے بے بنیاد الزامات کی وجہ سے اب مزید کیمپس میں نہیں رہ سکتے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اس وقت پولیس چھاو¿نی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ حکومت نے کشمیر کی علیحدگی پسند تحریک میں زیر تعلیم طلبا کی شمولیت کو روکنے کےلئے سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یونیورسٹی سے تین کشمیریوں کی بیدخلی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ کشمیری طلباءکو داخلے کے وقت کسی بھی کشمیری تحریک سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ایک فارم بھرنا ہوگا۔
مودی سرکار کو اصل تکلیف کو اپنے بغل بچہ سابق وزیر اعلیٰ کشمیر عمر عبداللہ کے بیان پر ہوئی جس میں انہوں نے بھارت کو ظلم و تشدد روکنے کا مشورہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ بھارتی رویہ کشمیری طلباءکو قلم چھوڑ کر بندوق اٹھانے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کشمیر جغرافیائی اعتبار سے بھارت کے کنٹرول میں ہے مگر کشمیریوں کے دل و جان بھارت کے ساتھ نہیں۔ کشمیری عوام اور کشمیر کا بچہ بچہ بھارت سے بے زار ہوچکا ہے۔
سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے منان وانی کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہتے کشمیریوں کے خلاف بڑھتا ہوا ظلم و ستم دراصل بھارت کی بوکھلاہٹ ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ اب وہ فوجی طاقت کے بل پرزیادہ دیر تک کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا۔ منان وانی کی شہادت سے تحریک آزادی ایک بڑے اثاثے سے محروم ہوگئی ہے۔مشترکہ قیادت نے اس ساری صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس کا سنجیدہ نوٹس لیں اور قابض بھارتی فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ علاقے میں ہونے والی انسانی حقوق کی بے دریغ پامالیوں کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ حل طلب مسئلہ کشمیر کی وجہ سے روزانہ نہتے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے اور بھارت اپنی روایتی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے مسئلہ کشمیرکواسکے تاریخی پس منظر میں سیاسی طورپر حل کرنے کی بجائے فوجی طاقت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.