Daily Taqat

جعلی مقابلوں میں کشمیریوں کی شہادت کا بھارتی اعتراف

بھارت کی 13 سے زائد ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں جو بھارتی سالمیت کےلئے خطرہ ہیں۔ بھارتی حکمران ان تحریکوں کو گفت و شنید اور پیار سے حل کرنے کی بجائے بندوق کے زور پر حل کرنے کےلئے کوشاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ریاستوں میں ہر وقت حکومت اور عوام کے درمیان لڑائی کا ماحول بنا رہتا ہے۔
آسام،پنجاب اور مقبوضہ کشمیر ایسے سلگتے ناسور ہیں جو بھارت کو چین نہیں لینے دیتے۔ بھارتی سرکارنے ان لوگوں سے بنیادی حقوق بھی چھین لیے ہیں اور لاکھوں فوج اور پولیس جوان ان پر مسلط کر دیے ہیں۔ ان علیحدگی پسند تنظیموں سے نمٹنے کےلئے سخت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی کالے قوانین بنائے ۔ آسام اور مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں فوج کو سپیشل پاور ایکٹ کے خصوصی اختیارات دینے کی وجہ سے یہاں فرضی مقابلوں اور جنسی زیادتی جیسے جرائم میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
ابھی حال ہی میں بھارتی فوج کے کرنل دھرم ویر نے عدالت میں اعتراف کیا کہ بھارتی فوج معصوم لوگوں کو جعلی مقابلوں میں مار رہی ہے۔ ا سکے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو گرفتار کر کے ان سے پیسے وصول کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ نہتے لوگوں کو صرف شک اور ذاتی دشمنی کی بنا پر قتل اور گرفتار کیا جاتا ہے اور یہ کام زیادہ تر علیحدگی پسند تنظیموں کے علاقوں میں ہوتا ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ نے اس بیان کا نوٹس لیتے ہوئے فوج کو حکم جاری کیا ہے کہ آسام، پنجاب اور مقبوضہ کشمیر میں جن اہلکاروں پر فرضی مقابلوں کا الزام ہے ان کا کورٹ مارشل کیا جائے یا کم از کم معمول کی فوجداری عدالت میں ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں۔ سپریم کورٹ نے اس مقدمہ کے دوران مقبوضہ کشمیر میں 12 برس قبل ایک مقابلہ کی مثال بھی دی جس میں 7 بے گناہ نہتے کشمیری شہید ہوگئے تھے ۔ بعد میں تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ فرضی اور جعلی مقابلہ تھا۔ ابھی تک کسی ملزم کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی۔ سی بی آئی نے اپنی دلیل میں کہا تھا کہ یہ فرضی مقابلوں کا نہیں بلکہ سفاکانہ قتل کا معاملہ ہے اور ملزم افسروں کو مثالی سزائیں دی جانی چاہئیں۔ فوجی افسروں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے کسی پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں ۔ قانون کی بالادستی اور انصاف کے عمل میں عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ملزموں پر مقدمہ چلایا جائے۔
مقبوضہ کشمیر میں خصوصی فوجی اختیارات کا قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ (افسپا) نافذ ہے۔ اس قانون کی رو سے بھارتی فوجی اہلکاروں پر فرضی جھڑپوں کے الزامات کی تفتیش کے لیے کشمیر کی حکومت کو مرکزی حکومت سے باقاعدہ اجازت لینی پڑتی ہے۔جبکہ کشمیری حکومت کا کہنا ہے کہ فرضی جھڑپوں اور جنسی زیادتی کے ثابت شدہ الزامات پر مبنی پچاس معاملات میں مرکزی حکومت سے قانونی مواخذے کی اجازت طلب کی گئی تھی، لیکن ایک بھی معاملہ میں اجازت نہیں ملی۔ کیونکہ وہ چاہتی ہی نہیں کہ فوج کا مواخذہ ہو۔
بھارتی فورسز کو جنوبی کشمیر کی تحصیل ہندواڑہ میں مجاہدین کی موجودگی کی انٹیلی جنس اطلاع ملی تھی جس پر بھارتی فوج، پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر پیراملٹری فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا۔ اس دوران گاو¿ں یونیسو میں فورسز اور مجاہدین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 3مجاہدین شہید ہو گئے جبکہ گولیوں میں زد میں آ کر مقامی خاتون مصرا بانو بھی شہید ہو گئی۔ ایس پی وید کے مطابق مبینہ مجاہدین سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق بھارتی فورسز نے مقابلے کا ڈرامہ رچایا۔ اس دوران بھارت فوج نے بارہمولہ میں بھی جعلی مقابلے میں 2 نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ اس دوران ایک گھر بھی تباہ ہوا۔
مقبوضہ کشمیر میں تو حالات اس سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ قابض فوج مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم چھپانے کیلئے وحشیانہ اقدامات پر اتر آئی ہے۔ یہاں صرف جعلی اور فرضی مقابلے ہی نہیں ہوتے بلکہ نہتے کشمیریوں کے خلاف کیمیکل ہتھیار استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ بھارتی فوج انسانیت کے خلاف اپنے جرائم کو عالمی برادری سے چھپانے کیلئے محاصرے اور سرچ آپریشن کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ شوپیاں میں دو کشمیریوں کی شہادت میں بھی کیمیکل ہتھیار استعمال ہوئے۔ حریت قیادت نے کہا ہے کہ نہتے عوام پر کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال انسانیت کیخلاف جرم ہے اور اقوام متحدہ و انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی خاموشی پر سوالیہ نشان ہے۔
قابض فورسز نے پلوامہ کے ہی علاقے لیتر میں ایک مکان کو انتہائی خطر ناک آتش گیر مادے کے ذریعے تباہ کر کے پی ایچ ڈی کشمیری سکالر نثار احمد کو ایک اور نوجوان وسیم احمد شاہ کے ہمراہ شہید کر دیاتھا جبکہ قابض فورسز کی طرف سے پلوامہ ہی کے علاقے بمنو میں خطرناک کیمیکل کے ذریعے تباہ کیے گئے ایک مکا ن کے ملبے سے ایک نوجوان کی ناقابل شناخت لاش برآمد ہو ئی تھی۔ جموںوکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کا ایک وفد بھارتی فوجیوں کی طرف سے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران تباہ کیے گئے مکانات کے مکینوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سرینگر کے علاقے بلہامہ گیا۔
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ نوجوانوں کو تلاشی اور آپریشن کے بہانے شہید کیا جارہا ہے۔ وادی میں بھارت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی خبریں بھی زیرگردش ہیں جن پر انتہائی تشویش ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »