Daily Taqat

بھارت ہماری ایٹمی تنصیبات تباہ کرنیکی خوش فہمی میں نہ رہے

80 کی دہائی میں یہ خبریں سنی جا رہی تھیں کہ بھارت اور اسرائیل پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کےلئے باہم صلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔ 1981 میں عراق کی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کے بعد بھارت نے اسرائیل کی توجہ کہوٹہ پلانٹ کی طرف دلائی تھی۔ دونوں نے مل کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو اسلامی بم کا نام دیا اور اسے دنیا خصوصاً مغرب میں بدنام کرنے کی کوشش کی۔ 1982 میں بھارت اور اسرائیل نے پاکستانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا منصوبہ بنایا جس پر صدر پاکستان جنرل محمد ضیاءالحق نے بھارت کو تنبیہ کی کہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کی خوش فہمی میں نہ رہے۔ اس دوران ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایٹمی پروگرام جاری رکھا اور ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہوگئے مگر چند وجوہات کی بنا پر اس راز کو فاش نہ کیا گیا۔

پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی محنت و عرق ریزی کی داستان کو کالم نویس جبار مرزا نے اپنی کتاب ”نشان امتیاز “ میں بخوبی بیان کیا ہے۔ اس کتاب میں ڈاکٹر قدیر خان اور پاکستانی ایٹمی پروگرام کے چونتیس برسوں کی یاداشتوں کی تفصیل ہے جس کی وجہ سے ایٹمی پروگرام اور ڈاکٹر عبدالقدیر کی زندگی کے راز کھل کر سامنے آئے۔ اسے شہریار پبلیکیشنزاسلام آباد نے شائع کیا ہے۔خوبصورت گیٹ اَپ ، مضبوط جلد ، انتہائی پ±ر کشش اور خوبصورت سر ورق کے ساتھ یہ کتاب 272صفحات پر مشتمل ہے۔ جبار مرزا نے اس تصنیف میں تحقیق ، جستجو، تاریخ سے رہنمائی اور تہذیب کے شعور سے آگاہی کا اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ خوبصورت نثر نگاری کے جوہر بھی دیکھائے ۔

 یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں سینٹری فیوج مشینوں کے ذریعے یورنیم کو جوہری ہتھیار وں کے بنانے کے معیار تک آفزودہ کرنے کے اہم ترین اور مشکل ترین چیلنج کو کامیابی سے ہمکنار کیا ۔ 1984 میں انہوں نے ہتھیار بنانے کی یورینم جو کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کی پیدا کردہ تھی کو ایندھن کے طور پر استعمال کر کے ایک ایسا جوہری آلہ تیار کر لیا تھا جو مختصر عرصے میں جوڑا جا سکتا تھا اور اس سے دھماکہ کیا جاسکتا تھا۔

یہ تو کسی کے گمان میں بھی نہ تھا کہ پاکستان ٹیکنا لوجی کی اس معراج کو پہنچ جائے گا کہ وہ ایٹم بم بناسکے گا ۔ کسی اور قوم کی تاریخ ایسی نہیں ہے کہ انہوں نے وسائل کی اتنی کمی کے باوجود اتنا کچھ کر دکھایا ہو جتنا پاکستانی قوم نے کیا۔یہ تو سبھی جانتے تھے کہ پاکستان ہر لحاظ سے ایک غریب ملک ہے۔ ایک سو سے زائد دنیا کے ممالک میں پاکستان غربت کی سطح کے120 ویں نمبر پر آتا ہے۔ اوپر سے ستم یہ کہ اس کی اکثریت ان پڑھ ہے۔ پاکستان مشکل سے زندہ رہنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے پاس ایران جیسا تیل کا ذخیرہ نہیں ہے نہ عراق کے شیوخ کی دولت ہے۔ اس کی صنعت بھی بھارت کے مقابلے جیسی نہیں ہے۔ اسرائیل جیسے سائنسدانوں کی کھیپ بھی اس کے پاس نہیں ہے۔ پھر یہ ایٹمی طاقت کیسے بن گیا۔ دشمن اس سوال کا جواب ابھی تک ڈھونڈ رہے ہیں۔ جب ان کو اس سوال کا جواب نہیں ملا تو انہوں نے ایٹمی پروگرام اور اس کے خالق کو ہی متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔

بھارت، اسرائیل، امریکہ اور دیگر دشمن ممالک نے جہاں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ختم کرنے کے درپے ہوئے وہاں انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کو بھی نہیں بخشا۔ طرح طرح کے الزامات لگائے گئے۔ کبھی کہا گیا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو دوسرے ممالک بالخصوص ایران اور لیبیا تک پھیلانے یا منتقل کرنے میں بھی ملوث رہے ہیں۔ اسے ایٹمی پھیلاو¿ کہا جاتا ہے۔ کبھی شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام میں معاونت کا الزام لگا۔ اندرون ملک بیرونی دشمنوں کے گماشتوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہیرو سے زیرو بنانے کی مہم میں حصہ لیا۔ سابق صدرِ مملکت اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف اس مہم کے سرخیل تھے مگر بات وہی ہے کہ جسے اللہ عزت دے ۔ پرویز مشرف وقتی فوائد حاصل کر کے آج پاکستان سے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان آنے کی ان میں ہمت نہیں جبکہ ڈاکٹر عبدالقدیر20 کروڑ عوام کے دلوں میں بستے ہیں۔

یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ مغرب اور غیر ممالک ان حالات میں پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے پر حیرت کا اظہار کر تے رہے اور ہم محسنوں کو مجرم بناتے رہے۔ خود اندازہ کریں کہ ایک ایسا شخص جسے اللہ تعالیٰ نے ایک غریب اور کمزور ملک کو ایٹمی پاور بنانے صلاحیتیں عطا کی ہوں تو اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے اس کی حوصلہ شکنی کرنا کتنی بری بات ہے۔

نشان امتیاز پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ ہے جو بے مثال خدمات سرانجام دینے والے افراد کو دیا جاتا ہے۔ ان بے مثال شخصیات میں ایک فخر پاکستان، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی ہیں۔ ڈاکٹرصاحب کو یہ اعزاز دو بار ملا۔ پہلی بار 23 مارچ 1997 ءکو صدر مملکت فاروق احمد خان لغاری کے ہاتھوں سے اور دوسری بار 23 مارچ 1999 ءکو صدر مملکت جناب رفیق احمد تارڑ کے ہاتھوں سے ۔ اور یہ ڈاکٹر صاحب کی قابل قدر خدمات کو خراج تحسین تھا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »