Daily Taqat

مذہب کے نام پر

ابتدائی طور پر پیش آنے والی کچھ سیاسی ہنگامہ خیزیوں کے بعد عمران خان کی حکومت گزشتہ ہفتے مذہبی جماعتوں کے ملک گیر احتجاج سے نمٹ کر اور کام یاب مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کر کے اپنی اصل آزمائش پر پورا اتری ہے۔ سابقہ حکومت کو جب یہی صورت حال پیش آئی تھی تو اس نے ہفتوں اسے طول دیے رکھا، مظاہرین نے دارالحکومت کو مفلوج کردیا اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، اس ساری خرابی کے بعد حکومت نے مظاہروں کے انہی قائدین سے معاہدہ کیا۔ اس وقت ہونے والے معاہدے کو کشیدہ حالات میں سکون کا سانس قرار دیا گیا تھا چوں کہ دارالحکومت سمیت پورا ملک لاقانونیت کی لپیٹ میں آچکا تھا۔ لیکن اس بار ہونے والے پانچ نکاتی معاہدے کو قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں ”ملّا کے سامنے حکومت کی شکست“ قرار دیا گیا حالاں کہ اس معاہدے کو بغور جائزہ لیا جائے تو صورت حال اس تاثر سے یکسر مختلف نظر آتی ہے۔
گاو¿ں کی مسجد کے امام نے دو مسلمان دیہاتی خواتین کے بیانات کی بنیاد پر پانچ بچوں کی ماں آسیہ بی بی پر توہین کا الزام عائد کیا، عدالتی کارروائی سپریم کورٹ پہنچتے پہنچتے آسیہ نے جیل میں نو برس گزار چکی ہے۔ گزشتہ بدھ کو سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلوں کا جائزہ لے کر شواہد کو سزائے موت کے لیے ناکافی قرار دیتے ہوئے سابقہ فیصلے منسوخ کردیے۔ معمول کے مطابق خاص وقت کے اندر عدالتی عمل میں اس فیصلے پر نظر ثانی کی گنجائش ہے۔ اس عمل کی تکمیل اور حتمی فیصلہ آنے کے بعد ہی نظر ثانی ممکن ہے۔ جب کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جاچکی ہے۔
پاکستان میں توہین رسالت کا معاملہ انتہائی حساس نوعیت رکھتا ہے اور آسیہ کیس میں تو پہلے ہی سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور اقلیتی وزیر شہباز بھٹی کی جان جا چکی ہے، یہ دونوں ہی آسیہ کی حمایت میں آگے آئے تھے۔ آسیہ بی بی کیس کے فیصلے پر ملاّو¿ں کی ہنگامہ خیزی اس بنا پر تھی کہ نظر ثانی میں اگر اس کی بریت ختم کردی جاتی ہے تو وہ پہلے ہی پُر اسرار طور پر ملک سے باہر جاچکی ہوگی۔ حکومت اور مظاہرین کے مابین ہونے والے پانچ نکاتی معاہدے میں سے دو کا تعلق اسی خدشے سے ہے، جس میں پہلا نکتہ یہ ہے کہ عدالتی عمل کو قانون کے مطابق آگے بڑھایا جائے اور دوسرا یہ کہ نظر ثانی اپیل پر حتمی فیصلے تک آسیہ کو ملک سے باہر نہ جانے دیا جائے اور اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے۔ معاہدے کی باقی شقیں مظاہرے ختم کرنے، مظاہرین کی رہائی اور ان مظاہروں سے پہنچنے والے بلا جواز آزار کی معافی پر مشتمل ہیں۔
اس معاہدے کو سامنے رکھیں تو یہ کہنا کہ حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے، سراسر جھوٹ ہے۔ آسیہ کو ملک میں رکھنا ”قانونی عمل“ ہی کا حصہ ہے اس لیے کہ اگر ملزم بیرون ملک چلا جائے تو نظر ثانی کی اپیل کے کیا معنی رہ جاتے ہیں؟ کیا مغربی اور پاکستانی ناقدین یہ تجویز کرتے ہیں کہ قانونی عمل کو جاری نہیں رہنا چاہیے تھا؟ یا ان کے خیال میں مظاہرین کا قتل عام اس مسئلے کا حل تھا؟
عمران خان کی حکومت نے بڑے تحمل سے صورت حال کو قابو کیا۔ بڑا خطرہ ٹل جان کے بعد پولیس نے ویڈیوز اور تصاویر کی مدد سے ہنگامہ آرائی کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو حراست میں لیا۔ یہ بڑی دانش مندی سے بنائی اور عمل میں لائی گئی حکمت عملی تھی۔ احتجاج کا حق تو دیا جاسکتا ہے لیکن غنڈہ گردی کا نہیں۔
اہانت کے قوانین میں پائے جانے والے سقم بنیادی مسئلہ ہیں جن کی بنا پر ان کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ انگریزوں نے 1860میں دنیا کو مہذب بنانے کے اپنے ”مشن“ کے تحت 1860میں یہ قانون متعارف کروایا، برصغیر میں اس سے قبل ایسا کوئی قانون وجود نہیں رکھتا تھا۔ موجودہ صورت میں یہ قانون جنرل ضیاءالحق کے دور حکومت میں نافذ کیا گیا، یہ دور تھا جب افغانستان میں مجاہدین مصروف جنگ تھے اور اسلام سے متعلق ان کی جہادی تعبیرات ”قبول عام“ تھیں۔ اس کے بعد آنے والی حکومتوں اور پارلیمان نے اس قانون میں صرف اتنی تبدیلی کرنے کی کوششیں کی کہ اس کا غلط استعمال ممکن نہ رہے لیکن کسی کو کام یابی حاصل نہیں ہوئی۔ جب بھی ایسی کوئی کوشش ہوئی تو اسلام کے حقیقی محافظوں نے، جن کا دعوی ہے کہ وہی ”حق“ جانتے ہیں، اس پر ہنگامہ کھڑا کردیا۔ جہادی فکر کی باقیات سے چھٹکارے کے لیے صرف وقت نہیں حقیقی کوششیں درکار ہوں گی۔
قرآن کریم اور پیغمبر اسلام ﷺ کا احترام عین ایمان ہے ، یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ نبی کریم ﷺ ہمارے اس قانون کے بارے میں کیا فرماتے؟ ہم سبھی واقف ہیں کہ آپ کو کس کس انداز میں ایذا پہنچائی گئی لیکن آپ نے درگزر فرمایا۔ آج ہم اپنے نبی ﷺ کے اس عفو و درگزر سے کتنا دور ہوچکے ہیں، خاص طور پر یہ ان لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو ایک ایسی عورت کو پھانسی دینے کا مطالبہ کررہے ہیں جسے ثانوی شہادتوں اور سنی سنائی کی بنیاد پر مورد الزام ٹھہرایا گیا۔
اس کے علاہ کچھ اور امور بھی قابل توجہ ہے۔ سب سے پہلے اس ویڈیو کو ہر گز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جس میں مسلم لیگ ن کے شیخوہ پورہ سے منتخب رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف کے بھتیجے کو لاہور اسلام آباد موٹر وے پر کالا شاہ کاکو اور سکھیکی کے درمیاں مبینہ طور پر گاڑیاں جلاتے اور توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اور یہ ہنگامہ آرائی میاں جاوید لطیف کے بھائی میاں منّور لطیف کی نگرانی میں ہورہی ہے۔ یہ حقائق سامنے آنے چاہییں کہ یہ انفرادی عمل تھا یا پارٹی کی ہدایات پر ایسا کیا گیا اس کے بعد ذمے داران سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے۔ جموریت میں کسی سیاسی جماعت کی جانب سے ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار ہرگز قابل قبول نہیں۔
اس سے بھی اہم معاملہ ایک اور ہے فوری طور پر جس کا تدارک ضروری ہے۔ تحریک لبیک پاکستان کے ایک رہنما کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر نہ صرف قادیانی یعنی کافر ہونے کا الزام عائد کیا گیا بلکہ افسران کو ان کے خلاف بغاوت کرنے کا کہا گیا۔ بات ”بغاوت“ ہی تک نہیں رکی بلکہ سپریم کورٹ کے ججوں کو قتل کرنے کی اپیل کی گئی۔ خدا کا خوف کرنا چاہیے، فوج اور آرمی چیف کا اس کیس سے کسی بھی قسم کا کیا تعلق؟ آرمی چیف کو اس معاملے میں کھینچ لانے سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس مظاہرے کے پیچھے عالمی مفادات بھی ملوث تھے جو دراصل پاک فوج کو کسی بھی طرح کسی داخلی تنازعے میں گھسیٹنا چاہتے ہیں۔ یہ واضح طور پر ”کلر ریولوشن“ کے انداز میں بپھرے ہوئے ہجوم کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا حربہ ہے جو کہ ہائبرڈ وارفیئر کا ایک کار گر ہتھکنڈا ہے۔ انتشار، افواہ سازی اور عوام کو ہنگامہ آرائی اور بغاوت پر اکسانا ہائبرڈ وار ہی کے طریقے ہیں جن کا ہمارے ملک میں خوب استعمال کیا جارہا ہے۔ ہائیبرڈ وار میں دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے سوچی سمجھی سازش کے تحت افواہیں اور غلط معلومات پھیلائی جاتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹی ایل پی کے سربراہ نے بغاوت کا ارتکاب کیا ہے۔ خوش قسمتی سے مظاہرین نے فوج کو اس معاملے میں ملوث کرنے والوں کی بات پر کان نہیں دھرا۔ ہم اس صورت حال کو نظر انداز کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے اور اگر ایسا ہوا تو یہ ملکی سلامتی کو داو¿ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔
(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »