Latest news

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

میں آج سے تین ہفتے قبل کینیڈا سے پاکستان آیا تھا اور آج واپس کینیڈا جا رہا ہوں۔ اسوقت مسقط انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرانزٹ لاونج میں فرینکفرٹ، جرمنی جانے کے انتظار میں بیٹھا ہوں۔ وہاں سے ایئر کینیڈا کے ذریعے مانٹریال پہنچوں گا۔ ابھی کچھ وقت ہے تو اس لئے سوچا کہ کیوں نہ اس کا فائدہ اٹھاوں۔
مصروفیت کے باعث کالم نہ لکھا جا سکا۔تین روز کا وقفہ میری طبیعت پہ گراں گزرا ہے۔ کیونکہ کچھ بھی ہو ایک آدھ دن سے زیادہ کا وقفہ کبھی نہیں پڑا
لیکن اس بار بادلِ نخواستہ ایسا ہو گیا۔ خیر کبھی کبھار طبعیت کے خلاف بھی کام ہو جاتا ہے۔ کیونکہ بہت کچھ انسان کے بس میں نہیں ہوتا اسلئیے نہ چاہتے ہوئے بھی بڑا کچھ قبول کرنا پڑتا ہے۔
لاہور ہمارے گھر میں اخبار باقاعدگی سے آتا ہے۔ صبح بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا پڑھتے پڑھتے نظر ایک محضکہ خیز خبر پڑھنے کو ملی۔ آئیے آپ سے بھی شئیر کروں۔
تو جناب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ “اسلام آباد جانے سے روکا گیا تو پورا ملک جام کرکے رکھ دیں گے۔” تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ
پشاور میں صوبہ بھر کے علماءکے نمائندہ کنونشن سے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمان نے فرمایا ہے کہ “ملک کی معیشت کی کشتی ہچکولے کھارہی ہے اور نااہل حکمران بیرونی قوتوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر ملک کو مزید تباہی کی طرف لے جارہی ہے۔ کشمیر کی جنگ ہم لڑ رہے ہیں اور حکمران کشمیر پر سودے بازی کرکے کشمیریوں کا خون بیچ رہی ہے، تقریر پر خوشیاں منانے والے یو ٹرن کے ماہر ہیں۔”
اب یہ نہیں پتہ کہ مولانا صاحب واقعتاً پورے ملک کا پہیہ جام کر دیں گے یا صرف یہ محض ڈراوے کی حد تک ہے۔ کیونکہ ہم نے سن تو یہی رکھا ہے کہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔ مولانا صاحب کو موجودہ حالات کے مطابق بجائے حکومت پہ گرجنے کے گرج چمک کے ساتھ بہت سی بارش کی دعا کرانی چاہئے کیونکہ وطنِ عزیز میں مذید بارشوں کی بڑی ضرورت ہے۔ لیکن پتہ نہیں مولانا کو اسطرح کے ملک جام کرنے کے مشورے کون دیتا ہے۔ جہاں تک ملکی معیشت کی کشتی کے ہچکولے کھانے کی بات ہے تو فی الحال مولانا جس کشتی میں سوار ہیں اسے دن رات ہچکولوں کا سامنا ہے۔ اب دیکھیں نا مولانا صاحب کی چیئرمینی گئی۔ انہیں کوئی سیٹ نہیں ملی۔ اسلام آباد والا Lodge بھی گیا۔ جہاں تک بات ہے ملک کے تباہی کے دہانے پہ جانے کی اور کشمیریوں کے مسائل کی تو جناب میری کو بڑا وقت ملا تھا مگر کچھ بھی نہ ہوا اور کشمیریوں کے معاملات جوں کے توں رہے۔ اگر میں غلط نہیں کہہ رہا تو مولانا تقریبا آٹھ سال کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی کو انجوائے کرتے رہے اور ہر طرح کی سہولتیں ، پروٹوکول لیتے رہے۔ اگر مولانا صحیح معنوں میں تندہی سے اپنا کام کرتے تو آج کشمیر یقیناً ہمارے پاس ہوتا۔ مگر ہائے ری قسمت مولانا کو کشمیر آزاد کرانے کا اعزاز نہیں مل سکا۔ اب کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق مولانا اسلام آباد پہ چڑھائی کرنے کی بات کر رہے ہیں۔
موجودہ حالات میں ملک کسی بھی پہیہ جام ٹائپ چیز کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ مولانا صاحب ایک عالمِ دین ہیں تو انہیں اسلام آباد کی بجائے اسلام میں دلچسپی لینی چاہئے اور ملک میں بجائے انتشار پھیلانے کے کوئی مثبت کام کی کال دینی چاہئے
ہمارے ہاں سب سے بڑی پرابلم یہ ہے کہ جسکا جو کام ہے وہ ا±سے کرنے کی بجائے اور کاموں میں پڑا ہوا ہے۔ جس سے بجائے بہتری آنے کے حالات Worst ص±ورت اختیار کر چکے ہیں۔
ماضی میں مولانا کا مقابلہ مسرت شاہین جیسی خاتون سے ہوا کرتا تھا اور اس کے سابقہ ریکارڈ کی وجہ سے مولانا بازی لے جایا کرتے تھے مگر اب حالات اور کے اور ہو چکے ہیں۔ مسرت شاہین نے ایک زمانے میں مساوات پارٹی بنائی تھی نہ جانے اس کا کیا ہوا۔
رہ گئی بات کشمیریوں کی تو ان کے معاملات پہ تو ہمیشہ سیاست ہی ہوئی ہے۔ کسی کو ا±ن کے مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں۔ جناب کو چاہیے کہ بجائے اسلام آباد پہ چڑھائی کرنے کے اور ملکی پہیہ جام کرنے کے بارڈر پہ جائیں انڈین فوج کو للکاریں، ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور نعرہ تکبیر کہتے ہوئے آگے بڑھیں تو کیونکہ، مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.