Latest news

کاش کے ہم سمجھ سکیں

کوشش ہوتی ہے کہ روزانہ کی بنیاد پہ کالم لکھوں۔ لیکن وقت کی کمی مانع ہو جاتی ہے اور میں اپنی اس خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنا پاتا۔ لیکن اس کے باوجود ہفتے میں دو تین کالم ہو ہی جاتے ہیں۔
اکثر اوقات جو صورتِ حال پیش آتی ہے وہ یہ ہوتی ہے کہ موضوع کا انتخاب کیونکر کیا جائے۔ روزانہ کی بنیاد پہ اگر میں یہ کہوں کہ ہزار ہا موضوعات ہوتے ہیں تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گی۔ تو اس صورتِ حال میں کونسا موضوع چنا جائے اور کونسا نہیں خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔
میرا خیال ہے کہ اسطرح کی صورتِ حال میں تو پھر ایک کالم فی گھنٹہ بنتا ہے۔ پھر بھی شاید ہی ٹارگٹ Achieve ہو سکے۔آج کے کالم کےلئے میں نے اس واقعے کا انتخاب کیا ہے جو بڑا فکر انگیز ہے اور ہمارے لئے لمحہ فکریہ بھی۔
یہ 1973ءکی بات ہے۔ عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی کہ امریکی سنیٹر اہم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا۔ وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا۔ اسے فوراً اسرائیل کی وزیراعظم ”گولڈہ مائیر“ کے پاس لے جایا گیا۔
گولڈہ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سنیٹر کا استقبال کیا اور اسے اپنے کچن میں لے گئی۔ یہاں اس نے امریکی سنیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائننگ ٹیبل کی کرسی پر بٹھا کر چولہے پر چائے کےلئے پانی رکھ دیا اور خود بھی وہیں آ بیٹھی۔ اس کےساتھ اس نے طیاروں، میزائلوں اور توپوں کا سودا شروع کر دیا۔
ابھی بھاو تاؤ جاری تھا کہ اسے چائے پکنے کی خوشبو آئی۔ وہ اٹھی اور چائے دو پیالیوں میں انڈیلی۔ ایک سنیٹر کے سامنے رکھی اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما دی۔ پھر میز پر آ بیٹھی اور امریکی سنیٹر سے محو کلام ہو گئی۔
چند لمحوں کی گفت و شنید اور بھاو تاو کے بعد شرائط طے پا گئیں۔ وہ اٹھی، پیالیاں سمیٹیں اور انہیں دھو کر واپس سنیٹر کی طرف پلٹی اور بولی ”مجھے یہ سودا منظور ہے۔ آپ تحریری معاہدے کے لئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوا دیجئے”۔
اسرائیل اس وقت اقتصادی بحران کا شکار تھا، مگر گولڈہ مائیر نے کتنی سادگی سے اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے اس بھاری سودے کو رد کر دیا۔ اسکاموقف تھا، اس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔
گولڈہ مائیر نے کہا : ”آپ کا خدشہ درست ہے، لیکن اگر ہم یہ جنگ جیت گئے اور عربوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا تو تاریخ ہمیں فاتح قرار دے گی اور وہ بھول جائے گی کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنے انڈے کھائے تھے اور روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا۔ اسکے دستر خوان پر شہد، مکھن، جیم تھا یا نہیں اور ان کے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے یا ان کی تلواروں کے نیام پھٹے پرانے تھے۔ فاتح صرف فاتح ہوتا ہے۔“
گولڈہ مائیر کی دلیل پر اسرائیلی کابینہ کو اس سودے کی منظوری دینا پڑی۔ آنے والے وقت نے ثابت کر دیا کہ گولڈہ مائیر کا اقدام درست تھا اور پھر اسی اسلحے اور جہازوں سے یہودی عربوں کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔
جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا:
”امریکی اسلحہ خریدنے کےلئے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی، وہ فوراً آپ کے ذہن میں آئی تھی، یا پہلے سے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی؟
“بڑا چونکا دینے والا جواب تھا”۔
وہ بولی:”میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا۔”
مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ انہی دنوں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات پڑھی۔ اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ۔۔جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کے لئے تیل خریدا جا سکے، لہٰذا ان کی اہلیہ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے ان کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اس وقت بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں۔
یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔
لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رہنا پڑے، پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے، تو بھی اسلحہ خریدیں گے، خود کو مضبوط ثابت کریں گے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے۔“
گولڈہ مائیرنےانٹرویو نگار سے درخواست کی اسے ”آف دی ریکارڈ“ رکھا جائے اور شائع نہ کیا جائے۔
وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام لینے سے جہاں اس کی قوم اس کے خلاف ہو سکتی ہے، وہاں دنیا میں مسلمانوں کے مو¿قف کو تقویت ملے گی۔
چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے یہ واقعہ حذف کر دیا۔جب گولڈہ مائیر انتقال کر گئی اور وہ انٹرویو نگار بھی صحافت سے الگ ہو گیا۔تب ایک اور نامہ نگار، امریکہ کے بیس بڑے نامہ نگاروں کے انٹرویو لینے میں مصروف تھا۔ اس سلسلے میں وہ اسی نامہ نگار کا انٹرویو لینے لگا جس نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کی حیثیت سے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا تھا۔ اس انٹرویو میں اس نے گولڈہ مائیر کا واقعہ بیان کر دیا، جو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تھا۔ اس نے کہا کہ
”میں نے جب تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا، تو میں عرب بدووں کی جنگی حکمت عملیاں دیکھ کر حیران رہ گیا،
کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر کے راستے اسپین فتح کیا تھا، اس کی فوج کے آدھے سے زیادہ مجاہدوں کے پاس پورا لباس نہیں تھا۔
وہ بہترّ بہترّ گھنٹے ایک چھاگل پانی اور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں پر گزارا کرتے تھے”!
یہ وہ موقع تھا، جب گولڈہ مائیر کا انٹرویو نگار قائل ہو گیا کہ۔۔تاریخ فتوحات گنتی ہے،
دستر خوان پر پڑے انڈے، جیم اور مکھن نہیں۔
یہ انٹرویو کتابی شکل میں شائع ہوا تو دنیا اس ساری داستان سے آگاہ ہوئی۔یہ واقعہ مسلمانان عالم کو جھنجھوڑ رہا ہے،سمجھا رہا ہے کہ ادھڑی عباوں اور پھٹے جوتوں والے گلہ بان، چودہ سو برس قبل کس طرح جہاں بان بن گئے۔سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک یہودی عورت نے تو سبق حاصل کر لیا۔ مگر مسلمان اِس پہلو سے نا آشنا رہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی، علوم و فنون پر دسترس رکھنے کی بجائے لاحاصل بحثوں اور غیر ضرروی کام میں مگن رہے۔ چنانچہ زوال ہمارا مقدر ٹھہرا۔۔۔۔کاش کے ہم اسی واقعہ سے کچھ سیکھ سکیں، راہنمائی حاصل کر سکیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.