Daily Taqat

ہائیبرڈ وار کے ہتھکنڈے

مغرب یا امریکا اور روس کے ہاں ہائیبرڈ وارفیئر کی تعریف مختلف ہے اور آج تک اس کے ہتھیار بھی الگ الگ ہیں۔ امریکا اس سلسلے میں زیادہ ”جدت پسند“ یا ”تخلیقی“ انداز رکھتا ہے جب کہ روسی روایت پسند ہیں اور روایتی ذرایع پر انحصار کرتے ہیں۔ امریکیوں نے ہائیبرڈ جنگ کی بنیاد استثنائیت کے نظریے پر رکھی جس کے مطابق کمیونزم کے انہدام کے بعد امریکا واحد عالمی طاقت اور پوری دنیا کا داروغہ ہے۔
ہمہ جہت یا ہائیبرڈ جنگ میں امریکیوں کا نمایاں ترین ہتھکنڈا حکومتوں کی تبدیلی ہے، اس کا مقصد ایسے حکمران لانا ہوتا ہے جو عالمی امور میں امریکی بالادستی کے لیے معاون کردار ادا کرسکتے ہوں۔ یہ کیسے ممکن بنایا جاتا ہے؟ اس کے لیے عالمی فورمز اور میڈیا میں حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اجاگر کی جاتی ہیں، حزب اختلاف کے سیاست دانوں کو مالی معاونت دی جاتی ہے، ”انقلاب“ برپا کرنے کے لیے تربیت اور مالی وسائل فراہم کرکے امریکا کے مددگار اور حکومت کے مخالفین کے ہاتھ مضبوط کیے جاتے ہیں۔ ناپسندیدہ حاکم کو آمر قرار دے کر اس کے خلاف بین الاقومی افواج اور اقوام متحدہ کی مدد سے جنگ شروع کروائی جاتی ہے، عراق ، لیبیا اور شام اس کی واضح مثالیں ہیں۔ یا پھر امریکا کے حامی حکمرانوں کی تبدیلی کے لیے جدوجہد کرنے والی حزب مخالف کے مقابلے میں حکومت کو بھرپور مدد فراہم کی جاتی ہے، یمن اور بحرین اس کی مثالیں ہیں۔ تیسرا حربہ ایسی خفیہ کارروائیاں ہوتی ہیں جنھیں بنیاد بنا کر کسی ملک پر چڑھائی کردی جاتی ہے، اسامہ بن لادن کی سرگرمیوں کو جواز بنا کر جس طرح افغانستان پر حملہ کیا گیا۔
دوسری جانب روس کو مختلف صورت حال کا سامنا ہے۔ رقبے کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہونے کے باجود اس ملک کو کمیونزم اور سوویت یونین کے خاتمے کے صدمے سے نکلنا تھا۔ اسے ایک ترقی پذیر معیشت اور بالخصوص مشرقی علاقوں کی تباہ حالی کے ساتھ آگے بڑھنا تھا۔ یوریشین تصور سولھویں صدی تک روس کے لیے اپنے ہی ادراک کا ایک تناظر تھا۔ یہ تصور باقی رہا اور اب ققنس کی طرح روس کو راکھ کے ڈھیر سے دوبارہ جی اٹھنے کے قابل بنا رہا ہے۔ روسی پالیسی کے دو بنیادی نکات ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ سوویت یونین میں شامل خطوں کو وہ اپنا ”دائرہ¿ اثر“ تصور کرتے ہیں اور وہاں سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کو رفع کرنے کے لیے مداخلت کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسرا بنیادی نکتہ ہے کہ اپنے وسیع و عریض رقبے کی وجہ سے بحرہ ہند حتی کہ اٹلانٹک کے”گرم پانی“ روس کی پہنچ سے دور ہیں اس لیے بحر اسود ، بحر شمالی اور بحرالکاہل کی بندرگاہیں اس کے لیے زیادہ اہمیت اختیار کرجاتی ہےں۔ مزید یہ کہ بحیرہ روم میں روسی نیول بیس (خصوصا شام میں طرطوس کی بندرگاہ) کی حفاظت اس کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ امریکا اور نیٹو کی جانب سے اسی ”سیکیورٹی بیلٹ“ میں چھیڑ چھاڑ کا بڑی سختی اور شدت کے ساتھ جواب دیا گیا۔
سابق سوویت یونین میں شامل خطوں کو ”دائرہ اثر“ میں شمار کرنے کی روسی پالیسی یوکرین میں حقیقت ثابت ہوئی، یہ ملک تاریخی طور پر روس سے منسلک ہے۔ 1991میں یوکرین کی آزادی کے بعد سے نیٹو اور یورپی یونین نے یوکرین اور روس کے مابین روایتی قریبی تعلقات کو کم زور کرنے کے لیے کئی کوششیں کیں اور اسے طاقت ور عالمی تنظیموں کی رکنیت کا لالچ دے کر رجھانے کی بہت کوشش کی۔ یوکرین کو قابو رکھنے کے لیے روس نے یوکرین کے گیس کے لیے روس پر انحصار کا فائدہ اٹھایا اور رکنیت کے معاہدے پر دستخط سے روکنے کے لیے یانکووچ پر بڑھتے ہوئے قرضوں کے ذریعے دباو¿ برقرار رکھا۔ جب روسی دباو¿ میں یانکووچ نے یورپی یونین میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط سے گریز کیا تو فسادات پھوٹ پڑے، مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، پولیس سے جھڑپیں ہونے لگیں اور دارالحکومت کیوس میں نامعلوم مسلح افراد نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس انقلاب کو ”اورینج ریولوشن“ کا نام دیا گیا۔
یہاں مغرب اور امریکا کی جانب سے ہائیرڈ وار فیئر کے دولت، تربیت اور حزب مخالف کی تشہیر جیسے جدید ہتھکنڈوں اور روس کے روایتی حربوں کے مابین فرق کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ اورینج انقلاب کے کارکنان کو مالی وسائل فراہم کیے گئے اور انھیں مغربی حکومتوں اور غیر سرکاری اداروں کے فنڈز سے ماہر پروفیسروں کی خدمات حاصل کرکے، سیاسی نظم و ضبط اور عدم تشدد کے ساتھ مزاحمت کی ترتبیت دی گئی۔ امریکی صدر اوباما نے سی این این کے لیے فرید زکریا کو انٹرویو دیتے ہوئے یوکرین میں حکومت کی تبدیلی کے لیے امریکا کی مداخلت کا اعتراف کیا۔ امریکا کی نائب سیکریٹری خارجہ وکٹوریا نیولینڈ نے کہا تھا کہ یوکرین میں ”آزادی“ کے فروغ کے لیے امریکا نے جو 5ارب ڈالر صرف کیے تھے وہ ایک دن نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔ یانکووچ نے فرار ہوکر روس میں پناہ حاصل کی اور یوکرین میں باغی قوتوں پر مشتمل ایک غیر منتخب شدہ حکومت قائم ہوگئی۔ نئی حکومت نے 21مارچ 2014کو یورپی یونین میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط کردیے۔ تاہم پیوٹن کے قدم ڈگمگائے نہیں، اس نے یوکرین کی مثال سے بہت کچھ سیکھا اور کرائمیا میں روسی خفیہ اداروں کو جیسے ہی بے چینی کے آثار نظر آنے لگے ، روس نے فوراً پیش قدمی کردی۔
کرائمیا اور یوکرین، اور بالخصوص صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہ مشرقی یوکرین، میں بڑی تعداد میں آباد روسی یوکرین اور روس کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی سرد مہری سے فکر مند تھے۔ صدر یانکووچ کے روس فرار اور نئی حکومت کی قوم پرستی کی وجہ سے روسی آبادی رکھنے والے علاقوں میں روس کی حمایت میں احتجاج شروع ہوگیا۔ کرائمیا روس کے دفاع کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا تھا کیوں کہ بحیرہ اسود میں اس کا بیڑا کرائمیا میں تھا اور سیوسٹاپول کی بندرگاہ اور بحری اڈہ اس کے لیے انتہائی اہم تھے۔ اس لیے مصیبت بڑھنے سے قبل ہی روسی افواج 26فروری سے 18مارچ کے دوران کرائمیا میں داخل ہوگئیں۔ یہ کسی پیشگی منصوبے کے بغیر بہت تھوڑے وقت کے اندر کی جانے والی کارروائی تھی، جس میں جدید روسی فوج کا نظم و نسق اور مستعدی دیکھ کر دنیا ششدر رہ گئی۔
سائیبر وار ہمہ جہت جنگی حکمت عملی کے ترکش کا ہی ایک اور تیر ہے۔ اس میں آن لائن کنٹرول سسٹم اور نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس میں سائبر حملے اور ان کا دفاع کرنے، مخبری اور فریب دہی کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت کے باعث اس کی ویب سائٹس پر موجود اکاو¿نٹس سے بھاری مقدار میں ڈیٹا جمع کیا جاتا ہے جس کی مدد سے استعمال کنندگان کی شخصی تفصیلات کا حصول اور مخبری ممکن ہوجاتے ہیں۔ موبائل فون اور ایس ایم ایس سے معلومات حاصل کی جاتی ہے، سیاست دان اور حکومتوں کی جاسوسی تو اور بھی آسان ہوگئی ہے۔ ایسے آلات اور سافٹ ویئر تخلیق کیے جاچکے ہیں جو کسی بھی ملک کے مواصلاتی نظام اور انرجی گرڈز کو مفلوج بنا سکتے ہیں۔ 2010میں اسٹکسنیٹ اسی جنگی حربے کی مثال ہے، جس کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام پر موثر انداز میں حملہ کیا گیا۔اس کارروائی سے پہلی مرتبہ دنیا کو معلوم ہوا کہ سائبر ہتھیار صرف دفاع ہی نہیں، حملے کے لیے بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔ سائبر اسپیس کی وسعت پذیری کے باعث دن بہ دن اسے کسی پالیسی تناظر کے تحت لانا مشکل ترین ہوتا جارہا ہے۔ غیر ریاستی عناصر سائبر اسپیس میں ریاستی نمائندگی کی جگہ لے کر وہ گل کھلا سکتے ہیں جس کے انتہائی خطر ناک اور بعض صورتوں میں تباہ کُن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
جدید دور میں معیشت اور جدید انتخابی نظام ہائیبرڈ وار کے اہم ترین محاذ ہیں۔
یہی دیکھیے کہ کس طرح ہمارے بعض ٹی وی اینکر روپے کی قدر کے مسئلے کو گمراہ کن انداز میں پیش کررہے ہیں، ایسے ٹی وی چینل بند ہونے چاہییں۔ رقوم کی ڈیجیٹل منتقلی کے گرد ”فائر والز“ کھڑی کرنے ساتھ ساتھ متبادل طریقوں کا استعمال بھی ضروری ہے۔ مزید یہ کہ اسٹیٹ بینک اور پی ٹی اے پر یہ لازم ہے کہ ٹیل کوز کے ذریعے رقوم کی منتقلی پر ضابطے لاگو کریں ، (جزوی طور پر ایک کے علاوہ) یہ سبھی ادارے غیر ملکی ہیں اور ”ایسٹ انڈیا کمپنی“ کی ذہنیت کے حامل ہیں جس میں پاکستان کے قومی مفاد سے زیادہ اپنے ممالک کو منافع کما کر دینا اولین ترجیح ہے۔ کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ ”ہنڈی“ اور ”حوالہ“ کا دھندا الیکٹرانک ہو جائے اور ”منظم جرائم“ کے لیے اس کا استعمال کیا جائے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کرنسی کو تباہ کرنے کے لیے ”منی لانڈرنگ“ کو قانونی بنا دینا انتہائی آسان طریقہ ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہمارا دشمن ہمارے ریگولیٹری اداروں میں اپنے ”کارندے“ داخل نہیں کرتا تو اسے نیند سے جاگنا ہوگا۔ انٹیلی جینس ایجنسیوں کو مطمئن ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیے، اپنے ذاتی اور غیر ملکی مفاد کے لیے بھاری دام وصول کرنے والی کالی بھیڑوں کو انھیں بے نقاب کرنا چاہیے۔ ٹیلکوز ہیکنگ وغیر کے لیے سب سے بڑا ہدف اور ماخذ ہیں۔ حال ہی میں بڑی تعداد میں ہمارے موبائل ٹاو¿رز پر دشمن کے مفاد کے لیے قابض ہونے کی کوشش کی گئی، یہ کارروائی ہمارے ایک دوست مسلم ملک کے ذریعے کی گئی، ہماری انٹیلی جینس ایجنسیوں نے پاکستان کو اس کارروائی سے محفوظ رکھا جس میں دوست ملک کے ذریعے 1ارب امریکی ڈالر کی خریداری کی گئی تھی۔ اس کے فوری بعد جعلی خبروں کے ذریعے اس کارروائی کے پس پردہ قوتوں نے یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی کہ پاکستان بہت بڑی ”غیر ملکی سرمایہ کاری“ سے محروم ہوگیا۔
ہائیبرڈ جنگ کے ہتھ کنڈوں کے مقابلے کے لیے علاقائی سیاست میں درپیش خطرات کا جائزہ لے کر ان سے متعلق علاقائی اور عالمی شراکت داروں کو بھی آگاہ کرنا چاہیے۔ ملک کے اندر اس کے لیے عسکری و سویلین اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اس کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
ہائبرڈ وارفیئر اخلاقی چیلنجز بھی لاتی ہے۔ ہمارا دشمن اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی اخلاقی حد کو پامال کرسکتا ہے لیکن ایک اسلامی ریاست ہونے کی حیثیت سے ہم اخلاقیات کو فراموش نہیں کرسکتے۔ اگرچہ جنگوں کی نوعیت یکسر بدل چکی ہے لیکن بہر حال یہ انسانوں کے مابین تنازعات ہی ہیں۔
قومی حکمت عملی کے طالب علموں کو ان امور کا گہرا ادراک ہونا چاہیے۔روایتی فن حرب میں فوج کے لیے اپنے دشمن کے ہر پہلو سے آگاہی پر زور دیا جاتا تھا اور ساتھ ہی اپنی قوت کا ٹھیک اندازہ ہونا بھی اہم تصور ہوتا تھا۔ جنگ کی بدلتی نوعیت کے پیش نظر ہمیں ہائبرڈ وار میں استعمال ہونے والے ہتھکنڈوں کے مطالعے کو باقاعدہ ادارتی سطح پر لے جانا ہوگا۔ اس کے لیے ماہرین/اداروں کی مدد سے مشقیں ترتیب دی جاسکتی ہیں جس میں قومی سطح کے ردّعمل کی تیاری کی جائے۔ یہ ایک انتہائی محنت اور دقت طلب کام ہے جسے صرف ایک ادارے پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ چیزوں کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے ہمیں کئی باتوں پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ پہلے دشمن کی جانب سے مالی وسائل کے مصارف اور دوسرے مرحلے میں رونما ہونے والے واقعات پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے، ان دو نکات سے دشمن کے بچھائے گئے جال کو سمجھا جاسکتا ہے۔ سانزو دوہزار سال قبل لکھ گیا تھا”اپنے دشمن کو جانو اور اپنے آپ کو بھی، اس کے بعد تم کسی تباہی کے بغیر سو جنگیں لڑ سکتے ہو۔
(فاضل کالم نگار و دفاعی اور سیکیورٹی امور کے ماہر کی جانب سے حال ہی میں نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں کی گئی گفتگو کے اقتباسات کا دوسرا حصہ )


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »