Latest news

پی ٹی ایم کے جلسے میں قومی پرچم کی توہین

اب اس بات میں بھی کوئی شک نہیں رہا کہ پی ٹی ایم غیر ملکی ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔ اس کی حرکات، نظریات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ پی ٹی ایم اپنے لئے نہیں بلکہ افغانستان کے لئے پالیسی چلا رہی ہے اور اسی کی آڑ میں پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔اس لئے ہمیں پی ٹی ایم کا مکرو چہرہ صاف نظر آ رہا ہے۔
پی ٹی ایم کا کرتا دھرتا منظورپشتین کا کہنا ہے کہ ہم کسی کے کہنے پر یہ سب نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی ہم غدار ہیں۔ اگر ہم غدار ہے تو کوئی ثبوت د کھائیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی جماعت سے وابستہ محسن داوڑ ایک علاقے کا ایم این اے ہے وہ بھی اپوزیشن میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ محسن داوڑ کس قانون کی تحت افغانستان گیا اور کس لئے گیاپھر وہاں افغان فوج سے کس لئے ملا ۔ محسن داوڑ چند دن پہلے امریکہ گیا ہوا تھا وہاں معاہدے اور پالیسی کی تحت واپسی افغانستان میں ہوئی ۔
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفورکے مطابق وانا میں پی ٹی ایم کے کارکن فوج مخالف نعرے لگا رہے تھے۔ امن کمیٹی نے منع کیا تو دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں ہلاکتیں ہوئیں لیکن سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف پروپگینڈا کیا جارہا ہے۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹے نعروں سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ امن لانا ہے تو فوج اور حکومت پر اعتماد رکھنا ہوگا۔ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے خلاف بہت سارے ثبوت ہیں۔ یہ لوگ استعمال ہورہے ہیں۔
اس وقت پاکستان میں بشمول حقانی نیٹ ورک کوئی بھی دہشت گرد نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ آپریشن ضربِ عضب کے بعد تمام دہشت گردوں کا صفایا کیا گیا، سپر پاور سمیت کوئی بھی فوج دہشت گردی کیخلاف کامیاب نہیں ہوئی۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستانی فوج نے کامیابی حاصل کی۔فوج پر بہت الزامات لگے لیکن وقت کیے ساتھ سب جھوٹے ثابت ہوئے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ذاتی مفادات کی وجہ سے فوج کو گالیاں نہ نکالی جائیں۔
ہمارے دشمن تو چاہتے ہیں اور اسی کوشش میں ہیں کہ پاکستان کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک فوج کے خلاف کیا جائے بلکہ ہوسکے تو لوگوں میں فوج سے ٹکراو¿ کی کیفیت پیدا کی جائے۔ افغانستان چاہتا ہے کہ افغان سرحد پر تعمیر ہونے والی باڑ کو ہر صورت روکا جائے۔ تاکہ دہشت گردوں کو باآسانی پاکستان میں داخل کیا جا سکے۔ افغانیوں کی واپسی کا عمل روکا جائے۔ افغانیوں کی بھیس میں دہشت گردی کی جائے۔ سرحدی علاقوں میں فوجی چیک پوسٹوں کی تعداد کم یا ختم کی جائے تاکہ دہشت گردوں اور جاسوسوں کے لیے نقل و حرکت میں آسانی ہو۔ تحریک طالبان پاکستان کے احسان اللہ احسان کو سزا جبکہ کل بھوشن کو رہا کرایا جائے۔ کیونکہ دونوں بھارت اور افغانستان کے پول کھول رہے ہیں۔ دشمن کا مقصد ہے کہ پاک فوج کا مورال گرانے کے لیے ان کے خلاف مختلف طرح کی قانونی کاروائیاں کی جائیں۔اگر یہ سب ہو تو پاکستان میں ہاری ہوئی پراکسی کو دوبارہ جیتا جا سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ غیر معروف تنظیمیں کیسے وجود میں آتی ہیں اور ان کے پیچھے کون کون سی درپردہ قوتیں کام کرتی ہیں؟کیا یہ محض اتفاق ہے کہ پی ٹی ایم کا ایجنڈا بالکل دشمنوں کی خواہشات سے مطابقت رکھتا ہے۔ مثال کے طورپر یہ تحریک پاک فوج بلکہ اب پاکستان کے خلاف بھی پشتونوں میں نفرت پھیلا رہی ہے۔ منظور پشتین نے ایک بار بھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگائی جائے تاکہ وہاں سے دہشت گرد پشتون علاقوں میں داخل نہ ہو سکیں۔ الٹا اس کے ساتھی باڑ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ منظور پشتین نے ایک بار بھی افغانیوں کی وطن واپسی کا مطالبہ نہیں کیا۔ البتہ اس کے ساتھی اس کی مخالفت ضرور کر رہے ہیں۔ چیکنگ کو تذلیل کا نام دے کر چیک پوسٹوں کے خلاف عوام کو ابھارا جا رہا ہے۔ حالیہ جلسے میں یہ بھی اعلان کیا کہ ہمارے آئندہ کے مطالبات احسان اللہ احسان کی پھانسی اور پرویز مشرف کو سزا دینے کے ہونگے۔ لیکن کل بھوشن کا نام بھول کر بھی نہیں لیا۔ نہ کبھی وزیرستان کی سرحد پر موجود ان انڈین کونسل خانوں کے بارے میں سوال اٹھایا جہاں سے پشتونوں کے قاتل بھیجے جاتے تھے۔
پاکستان سے محبت کا دعویٰ کرنے والے منظور پشتین کیا اپنے جلسے میں پاک پرچم کی توہین کا جواب دے سکیں گے۔ صوابی میں پی ٹی ایم کے جلسے میں قومی پرچم لے کر آنے والوں کو جلسہ گاہ سے نکال دیا گیا۔ جلسے میںلال ٹوپی پہنے ٹولہ پرچم والوں کو دھکے دیتا اور بدتمیزی کرتا رہا۔پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا پرچار کرنے والے منظور پشتین کا ایجنڈا پھر سے بے نقاب ہوا ہے۔ جلسے میں پاک فوج کے حق میں نعرے لگانے والوں سے بھی بدتمیزی کی گئی اور دھکے دئیے گئے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.