Daily Taqat

ہیلمٹ لازمی ، بغیر فٹنس سر ٹیفکیٹ اور ناقص سی این جی سلنڈر گاڑیوں سے زندگی محفوظ ؟

کسی بھی مہذب معاشرے میں قوانین عوام کی سہولت اور تحفظ کے لئے بنائے جاتے ہیں اور ان میں ترامیم بھی انہیں اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہے۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا ۔ یہاں قوانین میں ترمیم چند لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے کی جاتی ہے۔ کسی بھی مذہب ملک میں قانون کا احترام کروانے کے لئے پہلے آگاہی مہم شروع کی جاتی ہے اور اس پر حکومتی سطح پر بہت پیسہ خرچ کیا جاتا ہے اور قانون یا سزا کا تعین کرنے سے پہلے عوام میں آگاہی پیدا کی جاتی ہے لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔ کسی بھی قانون کے اطلاق سے پہلے اخبارات اور میڈیا میں اشتہار دیئے جاتے ہیں۔ اور ہیلمٹ والے کیس میں ایسا ہی ہوا ہے۔ ہائیکورٹ کی طرف سے حکم آیا کہ 23 ستمبر کے بعد ہیلمٹ نہ پہننے کی صورت میں موٹر سائیکل سواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے یہ بہت احسن اقدام ہے اور عوام کے حق میں ہے اس سے حادثے کے دوران ہیلمٹ ہونے کی وجہ سے بندہ شدید نقصان سے بچ جاتا ہے چونکہ دماغ انسانی جسم کا سب سے نازک عضو ہے سر پر چوٹ لگنے سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ 23 ستمبر سے پہلے یا بعد میں شعور پیدا کرنے کے لئے آگاہی مہم چلائی جاتی۔ سڑکوں پر ٹریفک وارڈن چالان کرنے کی بجائے بغیر ہیلمنٹ والے موٹر سائیکل سواروں کو روک کر ان کی آگاہی کرتے ہیں والدین بھی آگاہی پیدا کرتے کہ بچوں کو ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے کی اجازت مت دیں۔ پیٹرول پمپ والوں کو پابند کیا جاتا کہ بغیر ہیلمٹ والوں کو پیٹرول فروخت نہ کریں لیکن بد قسمتی سے یہاں تو شروعات ہی 1000 روپے کے چالان سے ہوئی ۔ تو نتیجہ یہ نکلا کہ موٹر سائیکل سواروں اور وارڈنز کے درمیاں مار پیٹ شروع ہو گئی ۔ موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے موٹر سائیکل کو آگ لگائی گئی۔ اپنے کپڑے پھاڑ کر نہروں میں چھلانگ لگانے کی کوشش کرنے کے واقعے ہونے لگے۔ اور ٹریفک وارڈن کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور امن جیسے ماحول کو شدید ضرب پہنچی۔ جبکہ ہمارے ہمسائیہ ملک میں بھی ہیلمٹ کا استعمال لازمی ہے اور بھارت میں موٹر سائیکل چلانے والے کے علاوہ ساتھ بیٹھنے والے پر بھی ہیلمٹ پہننا لازمی ہے اور بنگلہ دیش میں بغیر ہیلمٹ والون کو پیٹرول فروخت نہیں کیا جاتا ۔ بہر حال جو بھی ہوا اور جیسے بھی ہوا اب اس قانون پر عمل ہونا شروع ہو گیا۔ ہے لیکن دیکھنا یہ ہو گا کہ صرف ہیلمٹ سے ہی زندگی محفوظ ہے کیا روڈ کے اوپر بغیر فٹنس سر ٹیفکیٹ کے چلنے والی گاڑیاں مسافروں کے لئے خطر ناک نہیں ہیں۔فٹنس سر ٹیفکیٹ دینے کا مقصد ہوتا ہے کہ اسے چیک کیا جاتا ہے کہ یہ گاڑی روڈ پر چلنے کے قابل ہے یا نہیں ۔ تو کیا اس سے پہلے بنے ہوئے اس قانون پر عمل کیا جا رہا ہے کیونکہ گاڑی پشاور میں ہوتی ہے اور فٹنس سرٹیفکیٹ لاہور سے مل رہا ہوتا ہے یاد ہو کہ فیصل آباد سے سکول کے بچوں کے ٹرپ کو موٹروے پر حادثہ ہوتا ہے درجنوں بچے لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ اس گاڑی کو فٹنس سر ٹیفکیٹ نہیں ملا تھا۔ یعنی یہ گاڑی روڈ کے اوپر چلنے کے قابل نہیں ہے اگر اس قانون پر سختی سے عمل کیا جاتا تو جن مائوں کی گود اجڑی ہے شاید یہ المناک حادثہ نہ ہوتا اس طرح کے سینکڑوں حادثات قانون پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے ہو چکے ہیں جس میں بے گناہ لوگ مارے گئے ہیں۔ اسی طرح گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈر کے استعمال پر پابندی کے باوجود بسوں ، ویگنوں اور دیگر گاڑیوں کو چلانے کے لئے گیس سلنڈر استعمال کئے جا رہے ہیں۔ شہروں ، دیہاتوں میں گیس سلنڈروں والی گاڑیاں ہر جگہ موجود ہیں۔ لیکن ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں نے مسلسل آنکھیں بند کر رکھی ہیں رشوت اور سفارشی کلچر کامیابی سے فروغ پا رہا ہے آئے روز حادثات میں اموات ہو رہی ہیں۔ ملتان میں مسافر وین میں گیس سلنڈر دھماکے کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے سات افراد جاں بحق ہو گئے اور متعدد زخمی ہوئے ۔ اسی طرح لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں سلنڈر میں گیس بھرنے کے دوران بے احتیاطی کی وجہ سے زور دار دھماکہ ہوا قریبی گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچا بہت سارے لوگ زخمی بھی ہوئے اس طرح کے واقعات مختلف مقامات پر ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن متعلقہ محکموں کے ذمہ داران کوئی نوٹس نہیں لیتے اور نہ ہی عدلیہ کی طرف سے ہیلمٹ کی طرح کوئی سخت آرڈر آتے ہیں کیونکہ ہیلمٹ کے بغیر تو ایک جان کو خطرہ ہے لیکن یہاں درجنوں افراد کی جان کا معاملہ ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »