ہمارے اپنے خود کش بمبار

خود کش بمبار دو قسم کے پائے جاتے ہیں ۔ ایک قسم وہ ہے جس میں بمبار اپنے جسم کے ساتھ بارودی مواد باندھ کر اور خود کش جیکٹ پہن کر کسی اجتماع میں گھل مل جاتا ہے اور اپنے مخصوص ٹارگٹ پر پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں دھماکے کی زد میں آنے والے لوگ موت کا شکار ہو جاتے یا شدید زخمی ہو جاتے ہیں ۔ ایسے بمبار باقاعدہ تربیت یافتہ ہو تے ہیں اور اپنی تربیت کے قواعد و ضوابط کے مطابق انسانیت کے احساس سے بلکل عاری ہوتے ہیں ۔ یہ بمبار مخصوص علاقوں میں رہتے ہیں جو کار وائی کی غرض سے(جنت کے حصول کیلیے ) ہمارے درمیان آتے ہیں اور لاشوں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں ۔ خود کش بمبار کے متعلق ایک رائے تو یہ ہے کہ لوگ ایجنسیوں سے بھاری رقوم لیتے ہیں ۔ جو اپنے لواحقین کو رقوم دے کر خود دھماکے میں ختم ہو جاتے ہیں ۔ جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ دہشتگرد گروپ سادہ لوح لوگوں کو مذہبی تربیت دیتے ہیں اور جنت کی ” بشارت” دے کر اس لائن پر چڑھا دیتے ہیں ۔ یو ں یہ سادہ لوح لوگ جنت کی جستجو میں جہنم کا ایندھن بن جاتے ہیں ۔ دوسری قسم ہمارے درمیان پائی جاتی ہے جو ہر وقت ہمارے ارد گرد موجود ہے ہم ان کو دیکھتے ہیں انکی کاروائیوں کا شکار ہوتے ہیں مگر ان کا سد باب نہیں کرتے ۔ یہ خود کش بمبار موٹر سائیکل سوار ہیں جو ہمارے سامنے سڑکوں پر لہراتے پھرتے ہیں ۔ اور اپنے ساتھ دوسرے مسافروں کیلیے بھی نقصان کا باعث بنتے ہیں ۔ ان خود کش بمباروں پر بات کرنے سے پہلے دنیا کے ماحول پر بات کرتے ہیں ۔
جو موٹر سائیکل ہمارے ملک میں پائی جاتی ہے اس سے ملتی جلتی مو ٹر سائیکل انڈیا اور بنگلہ دیش میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان دونوں ملکوں کی مو ٹر سائیکل وزن اور بناوٹ کے لحاظ سے ہم سے پہتر ہے ۔ اس کے علاوہ پوری دنیا میں یہ موٹر سائیکل آپ کو نہیں مل سکتی ۔ یورپ میں سکوٹی ٹائپ جو پرانی ویسپا موٹر بائیک کی ہم شکل ہے پائی جاتی ہے ۔ یا ہیوی بائیک پائی جاتی ہے لیکن ان دونوں کیلیے باقاعدہ ٹریننگ لینا پڑتی ہے جب تک ڈرائیونگ ادارہ کسی کو سرٹیفیکیٹ نہیں دیتا وہ شخص سکوٹی یا ہیوی بائیک کو لے کر روڈ پر نہیں آ سکتا ۔ ڈرائیونگ ادارہ کے سرٹیفیکیٹ کے بعد لائسینس اتھارٹی سے رجوع کرنا پڑتا ہے ۔ جس پر لائسینس اتھارٹی باقاعد ہ عملی طور پر ڈرائیونگ کا ٹیسٹ لیتی ہے پورے اطمنان کے بعد لائسنس جاری ہوتا ہے ۔ تب یہ لوگ سکوٹی یا ہیوی بائیک لے کر روڈ پر چڑھ سکتے ہیں ۔ لائسنس پر جاری کرنے والے اور عملی ٹیسٹ لینے والے کے دستخط ہوتے ہیں ۔ جب کوئی شخص روڈ پر نا تجربہ کاری اور غیر عمدہ تربیت کا مظاہرہ کرتا ہے تو لائسنس اتھارٹی کے ذمہ داران کو بھی جرمانے یا سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ چائینہ ، کوریا، جاپان، انڈونیشیا وغیرہ میں بائیسکل اور سکوٹی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ انکی ڈرائیونگ کیلیے بھی تربیتی ادارے موجود ہیں ۔ جو افراد کو باقاعدہ بائیسکل کی بھی تربیت دیتے ہیں اور بائیسکل کی ڈرائیونگ کے اصول سمجھائے اور سکھائے جاتے ہیں ۔ ان ممالک میں پہلے تو حا دثات کی شرح بہت کم ہے ۔ اگر حادثات ہوتے ہیں تو وہ سائیکل اور سکوٹی کی وجہ سے نہیں ہوتے ۔ جبکہ ہمارے ہاں 80%حادثات موٹر سائیکل کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔ ہمارے ہاں موٹر سائیکل کس قدر عام ہے اور حادثات کا سبب کیسے بنتے ہیں آئیے دیکھتے ہیں ۔
ہمارے ملک میں موٹر سائیکل کی کوئی تربیت گاہ موجود نہیں ۔ بلکہ موٹر سائیکل تو کیا بڑی گاڑیوں کی ڈرائیونگ کا کوئی باقاعدہ ادارہ موجود نہیں کچھ پرائیویٹ سنٹر ز موجود ہیں جو عوام سے بھاری فیسیں وصول کرکے ڈرائیونگ کی تربیت دیتے ہیں ۔ مگر یہ کار وغیرہ کی ڈرائیونگ کیلیے ہے ۔ جبکہ موٹر سائیکل کی ڈرائیونگ کیلیے کسی تربیت گاہ کا تصور بھی نہیں ہے ۔ ہمارے بچے اور نوجوان دیکھتے دیکھتے موٹرسائیکل پر سوار ہو جاتے ہیں جو اسی طرح روڈ پر بھی چڑھ جاتے ہیں ۔ آپ اپنی گاڑی میں جارہے ہیں یا ویسے روڈ پر کھڑے ہو جائیں تو روڈ پر بارہ سے سولہ سالا نا بالغ موٹر سائیکل سواروں کی کافی تعداد نظر آئے گی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک بچہ موٹر سائیکل چلا رہا ہے اور اس کے پیچھے ایک یا دو مرد یا عورتیں بیٹھی ہوئی ہیں اور بچہ روڈ پر پوری سپیڈ سے ڈرائیونگ کر رہا ہے ۔ ایسے کم عمر موٹر سائیکل ڈرائیور روڈ کے قواعد و ضوابط سے آشنا نہیں ہوتے ۔ ڈرائیونگ کے اصول کے مطابق کراسنگ ہمیشہ دائیں طرف سے کی جاتی ہے ۔ جبکہ یہ ڈرائیور دائیں یا بائیں طرف کا خیال نہیں رکھتے ۔ بلکہ انھیں جہاں سے جگہ ملے گزر جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ زیادہ تر رش میں خوف کی وجہ سے بائیں طرف سے کراسنگ کر جاتے ہیں جس کی وجہ سے حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ آگے والی گاڑی کا ڈرائیورکراسنگ کیلیے اپنے پیچھے والی گاڑی پر بائیں طرف سے نظر رکھتاہے ۔ مگر جب کوئی گاڑی یا موٹر سائیکل اچانک بائیں طرف پہ آ جاتا ہے تو آگے والی گاڑی کا ڈرائیور مشکل میں پڑ جاتا ہے اور حادثے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے ۔ یہ عادت نہ صرف بچوں میں پائی جاتی ہے بلکہ بڑوں کی اکثریت بھی روڈ پر ایسی ہی تیزی دیکھاتی ہے ۔ کسی بھی روڈ پر موٹر سائیکل والوں کیلیے لازم ہے کہ وہ سب سے نیچے والی لائن پر رہیں اور اپنی سپیڈ دوسری گاڑیوں سے کم رکھیں جبکہ ان کا دستور یہ ہے کہ یہ سب سے اوپر والی لائن پر رہتے ہیں اور سپیڈ ایسی کہ کاروں اور بسوں کو کراس کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں ۔ بعض بڑی گاڑیاں ان موٹر سائیکل سواروں کی رفتار اور لائن کی وجہ سے اپنا بیلنس کھوجاتی ہیں اور کئی گاڑیاں ایک ہی وقت میں حادثہ کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ بعض منچلے موٹر سائیکل سوار جو ون ویلنگ کرتے یا گاڑیوں کے درمیان Zig Zag بناتے ہیں یقینی حادثے کا باعث بنتے ہیں ۔ یہ تمام قسم کے موٹر سائیکل سوار خود کش بمبار ہیں ۔ جو نہ تو اپنی جان کی پرواہ کرتے ہیں نہ ہی دوسروں کی جانوں کا خیال کرتے ہیں ۔ ایسے منچلے نوجوان ، کم عمر بچے اور بے شعور نوجوان سڑک پر سرے عام جارہے ہوتے ہیں مگر ان کو کوئی روکنے اور پوچھنے والا نہیں ہوتا ۔ ہر روز کئی افراد ان خود کش بمباروں کی وجہ سے مالی اور جانی نقصان کا شکار ہوتے ہیں مگر ان کا سد باب نہیں ہورہا ۔ اور حیرت اس بات پر ہے کہ کئی موٹر سائیکل سوار موت یا معذوری کا سامنا کرتے ہیں مگر دوسرے اس سے سبق حاصل نہیں کرتے اور اسی طرح بلکہ نئے طریقے اور انداز سے ون ویلنگ یا زگ زیگنگ کرتے ہیں ۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ روڈ پر ون ویلروں کے پیچھے موٹر سائیکلوں پر نوجوان لڑکیوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔ جو ون ویلروں کے خطر ناک کرتب سے لطف اندوز ہو رہی ہوتی ہیں ۔ جبکہ ہماری طرح کئی دیکھنے والے کی پیشانیوں پر پسینہ آ جاتا ہے ۔ یہ اس خطر ناک کھیل میں ” خوبصورت ” اضافہ ہے ۔ جو کہ دن بدن ان خود کش بمباروں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ جوکہ لمحہ فکریہ ہے ۔ اس پر ہماری قومی اور انفرادی ذمہ داریوں کا انحصار بھی ہے ۔ جن کا ہمیں احساس نہیں ۔
قومی سطح پر موٹر سائیکل کی ڈرائیونگ کیلیے عمر اور تربیت کا تعین ضروری ہے ۔ اس کیلیے باقاعدہ تربیتی ادارے ہونے چائیں جو فرد ان تربیتی اداروں سے فارغ التحصیل ہو ان کو لائسنس جاری ہو اور ایسے افراد ہی روڈ پر موٹر سائیکل چلانے کے مجاز ہوں ۔ جن افراد کے پاس موٹر سائیکل ڈرائیونگ کے لائسنس کے نہ ہوں انھیں جرمانے یا سزا دی جائیں ۔ اورجو بچے ڈرائیونگ کرتے ہوئے پائے جائیں ان کے والدین کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے ۔ ون ویلروں کے موٹر سائیکل اپنی ہیت سے دیکھائی دیتے ہیں ۔ ایسی موٹرسائیکلوں کے سواروں کے ساتھ ان کے والدین کو بھی سزا کا حق دار قرار دیا جانا چاہیے ان کے بچے ایسی موٹر سائیکلیں گھروں میں رکھتے ہیں تو ان کے والدین ان کے کرتب سے واقف ہوتے ہوئے بھی ان کی نیک تربیت نہیں کرتے ۔ ان خود کش بمباروں کو ہم نے خود پال رکھا ہے اور خود ہی ان کا شکار ہوتے ہیں ہماری انفرادی ذمہ داریاں بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہم ان کی مناسب تربیت کریں اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں تو ہم 80%حادثات سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ بصورت دیگر یہ خود کش بمبار اپنے شوق میں ہمیں ابدی نیند یا معذوری دیتے رہیں گے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.