اہم خبرِیں
مریخ پر پانی سے بھرے سمندرکبھی نہیں تھے، سائنسدان گلوکار بلال سعید نے مسجد میں گانے کی ریکارڈنگ پر معافی مانگ لی ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کی جائے، عرب ممالک بل گیٹس نے پاکستان کی کورونا کے خلاف کامیابی کو تسلیم کر لیا کورونا سے نمٹنے میں پاکستان دنیا کے لیے مثال ہے، اقوام متحدہ مسجد وزیرخان میں گانے کی عکس بندی، منیجر اوقاف معطل چمن، بم دھماکہ 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی حب ڈیم، پانی کی سطح میں ریکارڈ اضافہ لاک ڈاؤن کے بعد کراچی میں تفریحی مقامات کھل گئے سپریم کورٹ کا کراچی سے تمام بل بورڈز فوری ہٹانے کا حکم پاکستان کو اٹھارویں ترمیم دی اس لیے مقدمات بن رہے ہیں، ، زردار... وفاق کے اوپر کوئی وزارت نہیں بن سکتی، اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان پوسٹ آن لائن سسٹم سے منسلک اختیارات کا ناجائز استعمال، چیئرمین لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ر... موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوارکم ہوئی، وزیراعظم اسٹاک مارکیٹ، کاروباری حجم 4 سال کی بلندترین پرپہنچ گیا سائنسی انقلاب، مرے ہوئے شخص سے "حقیقی ملاقات" ممکن آمنہ شیخ نے دوسری شادی کرلی؟ آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری افغانستان لویہ جرگہ، 400 طالبان کی رہائی کی منظوری

آیا صوفیہ مسجد میں اذانیں

24 جولائی 2020ء بروز جمعة المبارک جب ترکی کی عظیم الشان آیاصوفیہ مسجد میں مسلسل اذانوں کی گونج سنائی دے رہی تھی اور اس کے وسیع و عریض میدان میں صدر طیب اردوان سمیت نمازیوں کا ہجوم انتہائی عقیدت واحترام کے ساتھ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے موجود تھا تو یہ دن نہ صرف ترکی کے عوام کے لیے بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک تاریخ ساز دن کی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ صدر مملکت کی اس عظیم دن مسجد میں خود موجودگی اور تلاوت قرآن حکیم کا ورد کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ نہ صرف دین اسلام کے سچے خدمت گار ہیں بلکہ انہیں ترکی اور اس کے عوام سے بے پناہ محبت ہے۔ عالم اسلام کی اس عظیم مسجد کا نئے سرے سے افتتاح ہونا مسلمانوں کے لیے خوشی کی بات ہے مگر زیادہ غیر مسلم اقوام اپنی ہی آگ میں جل رہی ہیںکیونکہ یہ مسجد قدیم دور میں آیا صوفیہ گرجا گھر کے نام سے موسوم تھی۔ ماضی میں اس کے مختلف نام رہے ہیں جن میں سیکولر جسٹین جامع کیتھڈرل اوردور عثمانیہ ۔ میں عثمانی مسجد شامل ہیں۔ 10جولائی 2020ء کو صدر مملکت ترکی جناب طیب اردوان کے حکم پر اسے دوبارہ مسجد کے طور پر بحال کیا گیا اور 24جولائی 2020ء کو ایک جم غفیر نے یہاں خدائے بزرگ وبرتر کے حضور سربسجود ہو کر جمعہ کی نماز انتہائی جوش وخروش اور مذہبی جذبے سے ادا کی۔
اس مسجد کی تعمیر رومی بادشاہ جیسٹین اول کے دور میں 537ء میںعیسائیوں کے گرجا گر کے طور پر ہوئی تھی۔ اس وقت یہ ایک ایسی جگہ قرار پائی جس کا پھیلائو دنیا کی کسی بھی مذہبی عبادت گاہ سے زیادہ تھا اور یہ پہلی مکمل طور پر محراب دار چھت رکھنی والی بازنطینی فنِ تعمیر کا شاہکار قرار پائی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مسجد سلطان محمد فاتح کے قسطنطنیہ کے فتح کرنے سے پہلے عیسائیوں کا ایک بہت بڑا مذہبی مرکز تھی۔ پانچویں صدی عیسوی میں عیسائی دوبڑی سلطنتوں میں تقسیم ہو گئے تھے جس کا ایک بڑا مرکز سلطنت مشرق میں تھا جو قسطنطنیہ میں واقع تھا اور اس میں بلقان، یونان ایشیائے کوچک ، شام، مصر اور حبشہ کے علاقے آتے تھے جب کہ دوسری بڑی سلطنت مغرب کی طرف واقع تھی جس کا مرکزا ٹلی کہلاتا تھا۔ جب 1453ء میں سلطنت عثمانیہ کے بادشاہ محمد فاتح نے قسطنطنیہ میں فتح حاصل کی تو آیا صوفیہ میں بیٹھے ہوئے عیسائیوں نے اسے پناہ گاہ بنا لیا لیکن سلطانی فوج فاتحانہ انداز میںمسجد کے اندرداخل ہوئی اور وہاں مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ مگر انہوں نے کسی بھی عام شہری کو نقصان نہیں پہنچایا ۔فتح کے بعد سلطان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں ظہر کی نماز ادا کی اور پھر جمعہ کی نماز بھی ہوئی۔ بعد ازاں سلطان کے حکم پر اسے باقاعدہ خرید کر مسجد میں تبدیل کر دیا گیا اوریہ جگہ جامع آیا صوفیہ مسجد کے نام سے موسوم ہو گئی۔ سلطان نے اس کی خوبصورتی اور میناروں میں مزید اضافہ کر دیا اور یہاں سلطنت عثمانیہ کے خاتمے تک تقریباً پانچ سو سال تک پانچ وقت نماز اور جمعة المبارک کی ادائیگی ہوتی رہی۔
آیا صوفیہ مسجد کے مقابل ایک خوبصورت باغ ہے اور اس کا ایک مرکزی دروازہ بھی ہے۔ جہاں دونوں اطراف نصب پتھر میں پہر ے دار کھڑے دکھائی دیتے ہیں، اس کے اندر ایک مربع شکل کا وسیع وعریض ہال ہے، جہاں چاروں کونوں میں اللہ ، محمدۖ ، ابوبکر، عمر،عثمان اور علی نہایت خوبصورت اندازمیں کندہ ہے۔ مسجد کی عمارت میں خوبصورت روشندان اور سنگ مرمر سے سجاوٹ کی گئی ہے۔
جہاں تک اس مسجد کی بحالی کا تعلق ہے تو کہا جاتا ہے کہ 31مئی 2014ء کو ترکی کے نوجوا نوں نے ”نوجوانانِ اناطولیہ” نامی تنظیم کے زیر سایہ مہم میں اسے مسجد کا درجہ دینے کی درخواست کی تھی جس پر عمل نہ ہو سکا لیکن بالآخر 10جولائی2020ء کو ترکی کی عدالت نے عجائب گھر آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کا حکم صادر فرما دیا جس پر طیب اردوان نے دستخط کروا دیئے اور بالآخر آیا صوفیہ مسجد روح پرور مناظر اور اذانوں کی گونج میں ملت اسلامیہ کے لیے ایک عظیم تاریخی ورثہ بن گئی اور تقریباً 86برس کے طویل عرصے کے بعد یہاں پانچ وقت نمازکی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ طیب اردوان نے ایک روز پہلے یعنی جمرات کو اس مسجد کو دورہ کیا اور نماز جمعہ کے لیے مسجد کو کھولنے کے انتظامات کا جائزہ لیا اور اگلے دن اس کے شاندار اور باقاعدہ افتتاح کے موقع پر وہ خود بھی مسجد میں موجود تھے جس سے عوام کو اور بھی زیادہ قوت ملی اور مسجد میں آنے والے نمازیوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ انتظامیہ کو باہر بھی نمازیوں کے لیے نماز کے اہتمام کا انتظام کرنا پڑا۔ جمعة المبارک کو اس عظیم الشان اجتماع سے پہلے مسجد میں خصوصی دعا کا انعقاد بھی کیا گیا اور نماز کے وقت لوگوں نے مسجد کی دیوار کے ساتھ سڑک پر مصلے بچھا لیے ۔ جو اس بات کی علامت ہے کہ ترکی اب تیزی سے بدل رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب جدید ترکی سلطنتِ عثمانیہ کی طرز پر اپنے لیے نئی راہیں متعین کرے گا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.