نظام کی شفافیت اور نیو لبرل ازم کا حکومتی ایجنڈا

عالمی سرمایہ دارانہ بحران اور امریکی سامرآج کی تاریخی زوال پذیری نے پوری دنیا میں حکمرانوں کی سیاست و ثقافت کو تہہ و بالا کیا ہے سویت یونین کے منتشر ہونے اور امریکہ کے واحد سپر پاور بننے کے بعد نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہو گیا ہے ریاستوں کی بجائے منڈی کی قوتوں نے اقتدار کو نئے مضبوطی کے ستون اور طریقہ کار فراہم کےے ہیں یہ نظام عوامی خدمات کی بجائے منافع پر یقین رکھتا ہے جس کی وجہ سے سوشل ڈیمو کریسی کا نظریہ گہناگیا ہے نئی نظریاتی اور شعوری صف بندی منڈی کی معیشت کے تناظر میں کی گئی ہے پہلے کیمو نیزم اور سوشل ازم کو انسانی آزادیوں کو سلب کرنے والے نظریات کہا جاتا تھا مگر اس میں مظلوم طبقات کےلئے کم از کم معاشی اور سماجی حقوق موجود تھے ،مگر اظہار رائے پر پابندیاں تھیں شخصی یا پارٹیوں کی آمریت قائم تھی اس نظریاتی ڈھانچے کی فصیلوں میں دراڑ پڑنے کے بعد اب لبرل ازم سے شروع ہونے والا سرمایہ دارانہ نظریاتی ارتقاءنیو لبرل ازم سے ہوتا ہوا( ILLIBERALISIM)ناقص لبرل ازم تک آن پہنچا ہے جہاں تک سوچنے کی مکمل آزادی ہے جس کی کوکھ سے جنم لینے والی سوچ آزادانہ انسانی حقوق دینے کے ساتھ معاشی حقوق اور منافع کی تقسیم کی تمام ذمہ داریاں منڈی کی قوتوں کو سونپ دیتا ہے جس سے طبقاتی تقسیم میں اضافہ ہوتا ہے یہ تمام نظام جمہوریت کے ذریعہ چلایا جاتا ہے جس میں پاپو لسٹ قیادتیں اتھارٹی حاصل کرنے کے بعد من من کرتی ہیں جس کی مثال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہے جو ہر وقت اپنے بیانات اور پالیسیوں سے دنیا کی مختلف قیادتوں کو للکارتا رہتا ہے یہ اپنے ملک میں انسانی حقوق کے منافی قوانین لاگو کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ میں دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنے اور ایک دوسرے کو معاشی اور عسکری محاذ پر نیچا دکھانے کا قضیہ ہے با اختیار پاپو لر حکمرانوں کے اقدامات جمہوری تناظر سے بر عکس ہوتے ہیں سرد جنگ کے دوران کئی با اثر شخصی حکومتیں سویت یونین کی حمایت سے قائم تھیں کچھ میں جمہوریت کا تاثر بھی ابھرتا تھا مگر عالمی معاشی طاقتوں میں ان ریاستوں کو نیو ورلڈ آرڈر کے راستے میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے ہٹا دیا شام میں بشار الاسد ایران اور ترکی کی مدد سے اقتدار بچانے میں کامیاب رہا اب ترکی بھی روس ، ایران کے گروپ میں شامل ہو گیا ہے جبکہ امریکہ ، سعودی عرب اور اسرائیل کی حمایت سے شامیوں کی مزاحمت جاری ہے اسی طرح کے نظام جمہوریت کے پردے میں فلپائن، پو لینڈ ، جنوبی افریقہ ، اور برازیل میں قائم ہیں چند ایک ممالک میں شفاف انتخابات ہوتے ہیں جہاں اتھارٹی پر مبنی اقتدار اعلیٰ قائم ہوتا ہے بعض ممالک میں انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے من پسند قیادتوں کو اقتدار دلایا جاتا ہے یا دلفریب نعروں اور منشور کے نام پر ووٹ حاصل کےے جاتے ہیں یہ زیادہ تر انفرادی اقتدار اعلیٰ ہوتا ہے جس میں پارٹی کی سیاستی اور پالیسیاں ایک ہی شخصیت کے گرد گھومتی ہیں جس کو مضبوط ریاستی ادارے ہدایات دیتے ہیں ۔
ہم پاکستان کی موجودہ سیاست کا اسی تناظر میں تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ماضی میں غیر جمہوری اور نیم جمہوری فوجی آمرانہ اتھارتی کی حکومتیں تھیں جن میں صدر ایوب، یحییٰ خان ، ضیاءالحق اور صدر پرویز مشرف وغیرہ ایک منظم ادارے کی طاقت پر بر سر اقتدار رہے اپنے مفادات میں قانون سازی کی یا ریاستی اقتدار میں زیادہ پاور شیئرنگ کےلئے آئین کو تبدیل کیا ضیاءالحق اپنی سیاسی وراثت نواز شریف خاندان کو منتقل کر گئے جنہوں نے اتھارٹی کی Legacyکے ذریعے اقتدار میں اپنی خاندانی اور وراثت کو آگے بڑھایا ریاستی فیصلوں اور مفاد عامہ کے کاموںمیں پارلیمنٹ سے مشورہ لینے کے بجائے محض کچن کیبنٹ میں معاملات طے کےے اس طرح وہ اپنے ہی منتخب نمائندگان سے دور چلے گئے ، ذوالفقار علی بھٹو پا پو لر لیڈر تھے اور عملی طور پر عوام کے حقوق اور فلاح و بہبود کےلئے قانون سازی کی مگر وہ بھی اتھارٹی کی خاطر آئین میں ترمیم کرنے سے بعض نہیں آئے تھے جس سے ان کے حوالے سے عوام کا جمہوریت پر اعتماد کم ہوا اور بالا دست قوتوں کے انتقام سے دو چار ہوئے 1988سے 1999تک قائم ہونےو الی جمہوری حکومتیں پوشیدہ قیادتوں کے ہاتھوں میں کھیلتی باہمی محاذ آرائی میں مصروف رہیں 2008سے2013کے دوران آئین کی بحالی کا عمل مکمل ہوا فاٹا اصلاحات کی گئی گزشتہ دہائی میں حکومت کی کمزوریوں اور بالخصوص کرپشن کے ایشوز کو عمران خان کی تحریک انصاف نے خوب اچھالا اور 2000کے انتخابات میں تیسری سیاسی قوت کی گنجائش پیدا کر کے اقتدار میں جگہ حاصل کی آج وہ دو صوبوں اور وفاق میں بر سر اقتدار ہوتے ہوئے بھی خود کو اپوزیشن میں تصورت کرتی ہے حالانکہ اس کو اپنی ذمہ داریوں کے معروض میں سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن نیو لبرل ازم اور کارپوریٹ معیشت کی حامی ہیں ان کا با اثر ووٹ بینک بھی ملک کے امیر اور مڈل کلاس طبقات سے تعلق رکھتا ہے تحریک انصاف کی حکومت نے بر سر اقتدار آتے ہی تمام ماضی کی حکومتوں کو برائیوں کرپشن اور معاشی عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دینا شروع کیا تھا اور جلد بازی میں ایسے اعلانات اور فیصلے کےے جس کے بارے میں اس کو بعد میں پسپائی کا سامنا کرنا پڑا100 دن کا پلان جس میں اہم تبدیلیوں کے اعلان کےے گئے تھے بیرون ممالک سے یا عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے نہ مانگنے کا اعلان ہمیں ان باتوںکو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے بلکہ یہ محض سیاسی بیانات ہیں کیونکہ تحریک انصاف کو اقتدار پانچ سال کےلئے حاصل ہوا ہے اور اس کے پاس اپنے منشور پر عمل کرنے کےلئے خاصہ وقت موجود ہیں مگر بد قسمتی سے اس کی توجہ معاشی سدھار کی بجائے احتساب کی طرف ہے آج کل ریڈیو اور میڈیا پر بیرون ملک پاکستانیوں کے جائیداد کے تذکرے اور لوٹی ہوئی دولت کے بارے میں پروگرام ہو رہے ہیں حالانکہ کے سوچنے کی بات ہے کہ کیا پاکستان کے اندر لوگوں کے پاس ناجائز کمائی سے حاصل کی ہوئی جائیدادیں اور اکاﺅنٹس نہیں ہیں یہ معاملات سیاسی بیان بازی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دکھائی دیتے ہیں کہا جاتا ہے زرداری اور شریف خاندان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لینے سے ملکی معاشی مشکلات کم ہو سکتی ہیں یہ محض غلط فہمی ہی ہو سکتی ہے۔
احتساب اور نیب کی دھمکیوں کی وجہ سے سیاست دان ، تاجر ، صنعتکار ، سرمایہ کار ،چیمبر آف کامرس اور بیوروکریسی کے اہلکار دباﺅ میں ہیں افسران کسی منصوبہ کے شروع کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنے سے ڈرتے ہیں کہ آئندہ حکومت ان کی فائلیں نہ کھول دے ایسی صورتحال کا زرداری حکومت کو چیف جسٹس افتخار چوہدری سومو نوٹس کی وجہ سے سامنا تھا آج حکومتی عہدیداران کے اعلانات کے خوف سے سرمایہ کاری کا پہیہ رک چکا ہے نئی فیکٹریاں لگانا تو در کنار پنجاب میں پرانی فیکٹریاں بند ہونے جا رہی ہیں جس کی وجہ حکومت سے پکڑ دھکڑ حراسہ کرنے اور جیل بھیجنے کے اعلانات ہیں، پنجاب اور سندھ میں پرانے حکمرانوں کے خلاف احتساب کی کاروائیاں تیزی سے جاری ہیں اس ساری صورتحال میں سرمایہ کار گو بگو اور پریشانی سے دو چار ہیں جبکہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے بارے میں حوصلہ افزاءاعلان کرتی رہتی ہے ان اقدامات سے سب سے زیادہ نقصان معیشت کو ہو رہا ہے گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی نے زور پکڑ لیا ہے ڈالر روپے کے مقابلے میں مضبوط ہوا ہے مگر ان تمام مسائل کی وجہ سابق وزےر خزانہ اسحاق ڈار کی پالیسیوں کو قرار دیا جا رہا ہے سی پیک کے معاہدے کی مختلف شقوں کے بارے میں ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی جن کو اب من و عن مان لیا گیا ہے یاد رہے وسائل نہ رکھنے والے کمزور فریق کو امیر کو شرائط کو تسلیم کرنا پڑتا ہے وزےر اعظم نے بیرونی ممالک کے دوروں کے دوران پاکستان میں ہونے والی کرپشن کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے اور اس حوالے سے ملک کے بارے میں مثبت تاثر اجاگر نہیں کیا ہے یوں بھی ہمارے وزراءاور حکمران سیاسی مخالفین کے بارے میں چور اور ڈاکو کے الفاظ استعمال کرتے رہتے ہیں اور انہیں اس کا جواب اپوزیشن کی کڑی باتوں میں سنتا پڑتا ہے۔
موجودہ سیاسی منظر میں الزامات کا شور و غل سنائی دیتا ہے جس میں معاملات درست سمت کی طرف بڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں موجودہ حکومت جو کہ مڈل کلاس اور کارپوریٹ سیکٹر کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے اور انہی طبقات کے تعاون سے معاشی نظام میں منڈی کی معیشت کے میکا نزم میں تبدیلی لانا چاہتی ہے وہ عوام کی اقتدار اعلیٰ میں شرکت کی بجائے مخصوص طبقات کو نوازنے کےلئے اقدامات اٹھانا چاہتی ہے ،صنعتی اور تجارتی سر گرمیاں جاری نہ ہونے کی وجہ سے غیر ملکی قرضوں کی مالیت 98ارب ڈالر ہو چکی ہے حکومتی قرضوں کی وجہ سے ملکی بینکوں کے پاس صنعت کاروں اور تجارتی مقاصد کےلئے رقوم موجود نہیں ہےں، عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں80%آبادی غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے دیہاتوں میں مجموعی طور پر 62%سطح غربت سے نیچے ہے صرف چالیس فیصد آبادی بہتر زندگی بسر کر رہی ہے دیہاتوںمیں غربت میں اجافہ ہو رہا ہے چھوٹے زرعی یونٹس غیر منافع بخش ہوتے جا رہے ہیں ملک میںتیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے جو کہ جی ڈی پی کی شرح نمو کو نگل رہی ہے اس کو کنٹرول کرنے کی سخت ضرورت ہے ہر سال بیس لاکھ نوجوان محنت کی منڈی میں داخل ہو رہےہ یں بیروز گاری ہونے کی وجہ Capital incentiveسرمایہ کاری نہیں ہے تحریک انصاف کی حکومت کو آئی ایم اےف کے پاس جانا ہے کٹوتیوں اور عوام کو دلائے جانے والی جھوٹی تسلیوں سے معیشت نہیں سنبھلے گی آنے والے دنوں میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے مہنگائی14%تک جا سکتی ہے موجودہ حکمرانوںکو ناقص لبرل ازم کے تخت چلنے والے authorritativeاحتسابی اقدامات کے ساتھ سدھار کےلئے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرنا اور منفی بیانات سے ملکی آﺅٹ لک کو بگاڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے نیو لبرل ازم کے ایجنڈے کو قابل عمل بنانے کےلئے ملکی اداروں اور تمام طبقات کو دباﺅ سے آزاد کرنا ہوگا شخصی یا پاپو لسٹ اتھارٹی کے اقدامات تمام طبقات معیشت کی بہتری اور گڈ گورننس کےلئے ہونا چاہیے تا کہ اقتدار میں فرد کی حاکمیت کے بجائے جمہوریت میں عوام دوستی کا تاثر اجاگر ہو سکے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.