Latest news

پولیس کی غفلت سے حیوانیت کی انتہاتک

ضلع قصور پاکستان میںہی نہیں،بلکہ دنیا بھر میں ایک مشہور خطے کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں یہ شہر علم، ثقافت اور تاریخی حوالے سے بہت مشہور ہے، وہاں اس شہر پر نحوست کے ایسے سائے امڈ ائے کہ چھٹنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں، قصور میں ظلم وبربریت کا ایسا اندوہناک کھیل بار بار کھیلا جارہا ہے جس کے سد باب میں انتظامیہ بے بسی کی تصویر بنی نظر آتی ہے۔ ضلع قصور بچوں کے لیے بالکل غیر محفوظ ہوگیا ہے ،یہاں ویڈیو اسکینڈل اور زینب قتل کیس کے بعد ایک بار پھر بچوں کی زندگیوں سے درندگی کے ساتھ کھیلا جارہا ہے۔ گزشتہ دو ماہ میں چار بچے اغوا ہوئے جنکی تلاش کیلئے مختلف ذرائع استعمال کئے گئے،مگر سٹی چونیاں پولیس بلکل ناکام رہی،بعدازاں شہر کے مختلف مقامات سے اغواءہونے والے 3 بچوں کی لاشیں چونیاں انڈسٹریل زون کے قریب واقع کھنڈرات سے برآمد ہوئیں ،تینوں بچوں کو کپڑے اتار کر زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کیا گیا.،چونیاں شہر میں معصوم بچوں کے ساتھ بد فعلی کے بعد بے دردی سے قتل ہونے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی جس کی وجہ سے پورے شہر سمیت ضلع قصور کی عوام خون کے آنسو رو رہے ہیں ہر طرف کہرام مچا ہوا ہے ہر آنکھ اشکبار ہو گئی ہے۔
یہ ہماری من حیث القوم بے بسی اوربے حسی کی انتہا نہیں تو کیا ہے کہ ہم اپنے بچوں تک کی بھی حفاظت نہیں کر پارہے ہیں۔ چونیاں قصور میں تین بچے اغوا کے بعد قتل کر دیئے گئے، اس پر شہریوں کا مشتعل ہو کر تھانے پر دھاوا بول کر توڑ پھوڑ کرنا غیر فطری نہ تھا کہ وہ ایسے زخم 2008ءسے برداشت کر رہے ہیں۔ اسی علاقے کے گاﺅں حسین والا میں 2015ءمیں لگ بھگ 300بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی وڈیوز بنا کر ان بچوں کے والدین کو بلیک میل کرکے لاکھوں روپے بھی بٹورے گئے۔ اس وقت کچھ لوگوں نے الزام بھی لگایا تھاکہ واقعہ میں پولیس اور مقامی سیاستدان ملوث ہیں ،مگر اس کیس کوروز اوّل سے دبانے کی کوشش کی جاتی رہی، اس وقت کے صوبائی وزیر داخلہ نے ایسے کسی واقعہ سے ہی انکار کر دیاتھا، عدلیہ کمیٹی بنائے جانے کی بھی بات ہوئی، لیکن سیاسی حالات کے باعث معاملہ دب کر رہ گیا۔اس کے بعد جنوری 2018ءمیں زینب قتل کیس نے ملک بھر کو ہلا کر رکھ دیا، زینب کی لاش کوڑے کے ڈھیر سے ملی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ نے جنسی درندگی کا پتا دیا، عوامی اشتعال بڑھا تو پولیس نے گولی چلا دی جس سے دو افراد جاں بحق ہوگئے، پولیس اور خفیہ اداروں کی مشترکہ ٹیم نے ملزم علی عمران کو گرفتار کیا جسے 17اکتوبر 2018ءکو پھانسی دے دی گئی، لیکن اب سفاک قاتل کون ہے؟ عوام الناس کا کہنا ہے کہ اصل میںپچھلی حکومت نے کریڈٹ لینے کی خاطر جلد بازی کرتے ہوئے عمران کو تو پھانسی دے دی، مگر پس پردہ اصل کردار اور سیاسی لمبے ہاتھ جو عمران سے یہ کام لیتے تھے، انہیںبچا لیا گیا ،یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ ابھی تک درندگی کرنے میں ہچکچاہت محسوس نہیں کرتے ہیں،کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قانون کے ہاتھ طاقت ور مافیا کے سامنے کمزور ہیں ،ہمیشہ کی طرح پھر کسی غریب کو قربانی کا بکرا بنا کر مجرم ثابت کردیا جائے گا ۔ اسی علاقے سے تین بچوں کے قتل پر پولیس افسران کو محض معطل کرنا کافی ہے،احکام بالا کب تک معطلیوں سے عوام کو بے وقوف اور خود کو دھوکہ دیتے رہیں گے ۔

پولیس کا محکمہ سیاست کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے ،یہاں تعیناتی سے لے کر ترقی وتبادلے سیاسی پشت پناہی کی بدولت ہوتے ہیں ،ایک اہلکار سے لے کر پولیس آفیسر تک کے کندھے سیاسی بوجھ سے دبے ہوئے ہیں ،اس لیے تھانے سے لے کر آفس تک میں عوامی مسائل کے حل کی بجائے سیاسی کاری گروں کی خوشنودی میں پولیس اافیسرزشب روز مصروف نظر آتاہے ۔محکمہ پولیس کو سیاسی دباﺅ سے آزاد کرنے کے سب حکومتی دعوئے زبانی کلامی ہیں ،کیونکہ حکمرانوں کی جیت کے پیچھے بھی محکمہ پولیس کی کاکرکردگی کار فرما ہے ،اس لیے پولیس رفارمز محض عوام کو بے وقوف بنانے کا نیا فارمولہ ہے جس کے زیر اثر عوام کو بہلایا جائے گا۔ چونیاں قصور میں تین معصوم بچوں کا قتل پولیس کی نااہلی اور غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے، حکومت کو اس واقعہ پر دکھاوا اور سیاست چمکا نے کی بجائے سخت ایکشن لینا پڑے گا، اس بارمجرموں کی فوری گرفتاری کے ساتھ ساتھ اس قبیح فعل میں ملوث افراد کا ہمیشہ کیلئے ناطقہ بند کرنے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔
بلا شبہ معصوم بچوں کے ساتھ بد فعلی کے بعد بے دردی سے قتل کرنے کا واقعہ پرہر صاحب اولاد کے رونگٹے کھڑے ہونا تو فطری امر ہے، لیکن مجموعی طور پر جوتصویر سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ علاقے میںانسان کے بھیس میں درندے داخل ہو گئے اور یہ علاقہ ان کے لیے آسان چراگاہ بن گیا ہے ،جہاں کم سن یا نوعمر بچے اُن کا خصوصی شکار ہیں۔

ضلع قصور میں بچوں کی زیادتی کے کیس تسلسل سے سامنے آ رہے ہیں۔ درندہ صفت مجرم جب ،جس کو چاہتے ہیں اُچک لیتے ہیں اور ہوس پوری کر کے نہایت سنگدلی کے ساتھ قتل کر کے پھینک دیتے ہیں۔ اگر زینب کیس میں مجرم کے ساتھ پس پردہ حقیقی مجرموں کو سرِعام پھانسی دے کر عبرت کانشان بنایا جاتا تو ایسے واقعات رونما ہونے سے روکے جا سکتے تھے۔ افسوس تو یہ ہے کہ لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت جن کی ذمہ داری ہے،اُنہوں نے ہمیشہ نااہلی اور غفلت کا ثبوت دیا ہے،کیونکہ ان کی ترجیحات عوام کی بجائے سیاستدان ہیں۔معصوم تینوں بچوں کی لاشیں ایک ہی جگہ ملنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام واقعات کے پیچھے ایک ہی ملزم یا ملزمان کا ہاتھ ہے۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے اور ملزموں کا جلد سراغ لگانے کی ہدایت کی ہے،تاہم متعلقہ پولیس کا بھی سختی سے محاسبہ کیا جاناضروری ہے ،کیونکہ محافظ کی ناہلی اور غفلت کے باعث حیوانیت کی انتہا بڑھ رہی ہے۔اس صورت حال میں عوامی نمائندوں کے ساتھ اعلیٰ حکام کو مقتول بچوں کے والدین سے ملنا اور ان کی دل جوئی کرنا اور اُنہیں یقین دلانا ہو گا کہ سفاک ملزموں کا جلد ہی سراغ لگا کر نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا۔ حکومت اس سانحہ کو محض مقامی واردات نہ سمجھے،، بلکہ یہ ایک ہولناک المیہ ہے،جس کا سنجیدگی سے مکمل سدباب عوام کا مطالبہ اور وقت کی اہم ضرورت ہے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.