Latest news

بدترین حالات میں بھی نہتے کشمیریوں کا حوصلہ بلند ہے

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذکئے ہوئے 15 روز ہوگئے ہیں اورابھی تک گلی محلوں میں قابض فوج کا گشت جاری ہے۔ وادی کی صورتحال یہ ہے کہ کشمیری مکین گھروں میں محصور اور ان کا کھانے پینے کا سٹاک ختم ہو گیا ہے۔ ننھے بچے دودھ کیلئے بلکنے لگے۔گھروں میں پانی اور ادویات تک میسر نہیں۔ کشمیر میں لوگ ہسپتا ل نہ جا سکنے کے باعث گھروں میں دم توڑ رہے ہیں۔ کشمیری مائیں اور بیٹیاں گھروں میں مقید، سورج کی روشنی دیکھنے کو ترس گئی ہیں۔ کرفیو کے باعث خواتین اور بچے نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ گویا کشمیر میں ہر لمحہ سسکتی زندگی ہے۔
ان حالات میں بھی نہتے کشمیریوں کا حوصلہ بلند ہے۔ بھارت جبر و ظلم سے کشمیریوں کو پتھر کے دور میں دھکیلنے والا بھارت عوام کے حوصلے توڑنے میں ناکام رہاہے۔ گھروں سے نکلنے سے قاصر کشمیری پر عزم ہیں کہ بھارت سے مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی بے عزتی کا بدلہ لیں کر رہیں گے ۔ گھروں میں بند کشمیریوں کی ایک ہی آواز ہے کہ بھوکے مر جائیں گے لیکن اپنا حق نہیں چھوڑیں گے۔
گزشتہ روز بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کرنے کا ڈرامہ کیا اور کچھ دیر کیلئے کرفیو نرم کرنے کے بعد دوبارہ کرفیو نافذ کردیا گیا۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے کالے قانون کے تحت اب تک 4 ہزار کشمیری گرفتار کرچکے ہیں۔ قید خانوں میں گنجائش کم پڑ گئی لہذا گرفتار افراد کو کشمیر سے باہر منتقل کرنا پڑا۔ کرفیومیں نرمی کے دوران قابض بھارتی فوج نے سری نگر مظاہرین پر فائرنگ، پیلٹ گنز اور شیلنگ کا بے دریغ استعمال کیا جس کے نتیجے میں ایک کشمیری نوجوان محمد ایوب شہید اور 24 افراد زخمی ہوگئے۔ ایوب کی تدفین کردی گئی جبکہ سری نگر کے علاقے بمنہ میں بھارتی فوج نے گھروں کی تلاشی کے دوران شہریوں پر تشدد کیا اور گھروں میں توڑ پھوڑ بھی کی۔ مظاہرین نے پاکستانی پرچم اٹھائے ”گو انڈیا گو“ اور آزادی کے نعرے لگائے۔
بھارتی فوجیوں اور سیاستدانوں کی اخلاقی گراوٹ کا یہ حال ہے کہ کرفیو کے دوران گھر گھر تلاشی اور سرچ آپریشن کے دوران متعدد خواتین و بچیوں کوعصمت دری کا نشانہ بنا ڈالا۔ حقوق انسانی گروپ نے یہ رپورٹ کشمیر بھر میں سینکڑوں متاثرہ افراد سے گفتگو کے بعد تیار کی تاہم گروپ کا کہنا ہے کہ تمام لوگ کیمرے کے سامنے بولنے سے بہت خوفزدہ تھے۔
کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت کے کچھ سیاسی رہنماو¿ں نے کشمیری خواتین کے بارے میں متنازعہ بیانات دئیے تھے۔ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے ایک رہنما نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بھارتی جوان ‘گوری کشمیری لڑکیوں’ سے بیاہ رچا سکتے ہیں۔اس بیان پر سوشل میڈیا پربھارتی حکمران جماعت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔سکھوں کے اکال تخت جتھیدار ہرپریت سنگھ کا کہنا تھا کہ خدا نے تمام انسانوں کو برابر کے حقوق دئیے ہیں اور کسی بھی انسان کے خلاف اس کے مذہب، جنس اور ذات کی وجہ سے ناروا سلوک کرنا جرم ہے۔ کچھ منتخب کردہ رہنماو¿ں کی جانب سے کشمیری خواتین کے حوالے سے دئیے جانے والے بیانات نہ صرف نفرت انگیز ہیں بلکہ ناقابلِ معافی بھی ہیں۔کشمیری خواتین ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں اور ان کی عزتوں کی حفاظت کرنا ہمارا فریضہ بھی ہے اور ہماری روایات بھی۔دہلی میں سکھ کارکن ہرمندر سنگھ نے مہاراشٹرا میں پھنسی 34 کشمیری خواتین کو سری نگر پہنچانے کے لیے 4 لاکھ روپے کی خطیر رقم جمع کی۔ یہ رقم سری نگر کے ٹکٹ خریدنے کے لیے جمع کی گئی ہے۔ہرمندر سنگھ اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ ان خواتین کو خود سرینگر پہنچانے کے لیے نکل پڑے ہیں تاکہ انہیں بحفاظت ان کے آبائی گھر پہنچایا جاسکے۔ سکھوں کے مذہبی ادارے اکال تخت نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ آگے بڑھیں اور کشمیری ماو¿ں بہنوں کی عزت کی حفاظت کو اپنی مذہبی ذمہ داری سمجھیں۔
حکومت کی طرف سے پرائمری جماعت تک تعلیمی ادارے کھولے جانے کے اعلان کے باوجود کسی سکول میں کوئی تدریسی عمل شروع نہیں ہو سکا۔ سڑکوں، گلیوں، چوراہوں پر لگے پولیس اور فوج کے ناکے بدستور موجود ہیں اور شہریوں کو ان ناکوں سے گزرنے کے لیے کڑی پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بھارت کے ایک مقتدر اخبار میں یہ خبر اس سرخی کے ساتھ شائع کی گئی کہ ‘استاد تو سکول آئے لیکن بچے نہیں۔’ شہر میں 190 پرائمری سکول ہیں اور ان میں سے صرف نصف درجن سکول میں چند بچے ہی دیکھے گئے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم پر اپنے ہی نہیں پرائے بھی یہ بات کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ دنیا میں اس وقت کشمیر میں جو مظالم ہورہے ہیں اس کی تاریخ ماضی میں نہیں ملتی۔آسٹریلیا کے معروف کالم نویس سی جے ورلیمان نے مقبوضہ کشمیر پر اپنی رپورٹ ہوشربا حقائق کا انکشاف کیا ہے کہ ہر 10 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے ۔ 6 ہزار سے زیادہ اجتماعی قبریں دریافت ہوچکی ہیں ۔ یہ ان لوگوں کی قبریں ہیں جنھیں بھارتی فورسز نے “غائب” کیا تھا۔ کشمیری اپنے ان پیاروں کی تلاش میں کئی برس ہوگئے ہیں ادھر ادھر کے دھکے کھارہے ہیں۔80 ہزار سے زائد بچے یتیم ہوچکے ہیں۔مسلسل ظلم و ستم اور تناو¿ کے باعث 49 فیصد بالغ کشمیری پی ایس ٹَی ڈی نامی دماغی مرض کا شکار ہوچکے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن متنازعہ علاقوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں جنسی تشدد کی شرح سب سے زیادہ ہے۔مقبوضہ کشمیر میں 7 ہزار سے زیادہ زیر حراست ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔
ویسے تو بھارت شروع دن سے ہی کشمیر کومختلف بہانوں سے اپنے زیر نگین رکھا ہوا تھا اس کے نزدیک یہ پاکستان کو کمزور کرنے کا ایجنڈ ا ہے۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود کشمیریوں کے استصواب کے حق کو تسلیم نہ کیا ۔یہ بھارت ہی تھا جو اپنی بدنیتی اور توسیع پسندانہ عزائم کی بنیاد پر کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہی منحرف ہو گیا اور اپنے آئین میں ترمیم کرکے دفعہ 370 کے تحت مقبوضہ وادی کو باقاعدہ بھارتی ریاست کا درجہ دے دیا جسے اب خود ہی منسوخ کر دیا۔
پاکستان کا شروع دن سے یہی موقف رہا ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور یواین قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام نے خود اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہے۔ اسی بنیاد پر پاکستان نے آج تک آزاد جموں و کشمیر کو پاکستان میں شامل نہیں کیا اور یواین قراردادوں کی روشنی میں اسکی الگ حیثیت برقرار رکھی ہوئی ہے جبکہ آزاد کشمیر ہی نہیں‘ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کرچکے ہیں اور بھارتی تسلط سے جلدازجلد خلاصی چاہتے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.