اہم خبرِیں

عیدالفطر

تحریر : پیرسید محمد حبیب عرفانی چشتی

مختلف مذاہب اور قوموں میں مختلف انداز میں تہوار منائے جاتے ہیں ۔ جو کہ ایک خوشی کا مظہر ہوتے ہیں ۔مسلمان سال میں اور مختلف تہواروں کے ساتھ ساتھ دو مشترکہ تہوار عیدالفطر اور عیدالاضحی مناتے ہیں ۔عیدالفطر ماہ رمضان کے روزوں کے بعد یکم شوال کو ایک تہوار کی صورت میں منائی جاتی ہے جس میں مسلمان سورج نکلنے کے بعد شہر کی مرکزی جگہ پر اکٹھے ہوتے ہیں ۔ اور دو رکعت نماز عیدالفطر خطبے کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ عید کا لغوی معانی بار بار لوٹ کے آنا یا بار بار واپس پھرنا اور خوشی کا دن اور تہوار ہے ۔ قرآن مجید میں یہ لفظ سورہ المائدہ کی آیت نمبر 144 میں کچھ اسطرح سے آیا ہے ۔
” حضرت عیسیٰ ابن مریم نے گزارش کی کہ اے ہمارے پروردگار ! تیار کھانا اتار دیا کر تاکہ ہمارے ہر فرد کی عید ہو جایا کرے او ر خود تیرے ہاں سے ایک نشانی بن کر رہے ۔ جبکہ فطر روزہ کھولنے کے معانی میں آتا ہے ۔ چونکہ اس دن یعنی یکم شوال کو روزوں کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور اس روز اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو روزہ او ر عبادات ِ رمضان کا ثواب عطا فرماتا ہے ۔ اس لئے اس کو عید الفطر کہتے ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب عیدالفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام آسمانوں پر” لیلة الجائزہ ” یعنی انعام کی رات ہے اور جب صبح عید طلوع ہوتی ہے تو حق تعالیٰ جل شانہ فرشتوں کو تمام بستیوں میں بھیجتا ہے اور وہ روئے زمین پر اتر کر تمام کوچوں اور شاہ راہوں کے سروں پر ایستادہ ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جسے جنات اور انسانوں کے سوا ہر مخلوق سماعت کر لیتی ہے پکارتے ہیں کہ ” اے امت محمدیہ اس کریم رب کی بارگاہ کرم میں چلو جوبہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے ، جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو رب العزت جل شانہ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کر چکا ہو ؟ وہ عرض گزار ہوتے ہیں کہ ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری اور اجرت پوری پوری عطا کر دی جائے تو مالک کون ومکاں جل شانہ ارشاد فرماتا ہے کہ ” اے فرشتو ! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطا فر ما دی اور بندوں سے خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اے میرے بندو! مجھ سے مانگومیری عزت و جلال اور بلندی کی قسم آج کے دن اپنے اجتماع میں اپنی آخرت کے بارے میں ، جو سوال کروگے عطا کروں گا ، دنیا کے بارے میں جو سوال کروگے اُس میں تمہاری مصلحت پر نظر رکھوں گا ، میرے عزو جلال کی قسم میں تمہیںمجرموں اور کافروں کے روبہ رو رسوا نہ کروں گا میں تم سے راضی ہو گیا ۔ فرشتے اس اجرو ثواب کو دیکھ کر جو عید الفطر کے روز امت محمدیہ کے لئے ارزاں کر دیا جاتا ہے مسرور و شادماں ہوتے ہیں اور فرحت و انبساط کے ساتھ خوشیاں مناتے اور کھل جاتے ہیں ۔

احکاماتِ روزہ اور انعامات ِ روزہ
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : جو لوگ رمضان کے روزے ایمان و احتساب کے ساتھ رکھیں گے ان کے سب گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اور ایسے ہی جو لوگ ایمان واحتساب کے ساتھ رمضان کی راتوں میں نوافل ( تراویح و تہجد ) پڑھیں گے ان کے بھی سب پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ، اور اسی طرح جو لوگ شب قدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ نوافل پڑھیں گے ان کے بھی سارے پہلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ۔
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : روزہ اور قرآن دونوں بندے کی سفارش کریں گے ( یعنی اس بندے کی جو دن میں روزے رکھے گا اور رات میں اللہ کے حضور میں کھڑے ہو کر اس کا پاک کلام قرآن مجید پڑھے گا یا سنے گا )روزہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! میں نے اس بندے کوکھانے پینے اور نفس کی خواہش پورا کرنے سے روکے رکھا تھا ، آج میری سفار ش اس کے حق میں قبول فرما ( اور اس کے ساتھ مغفرت و رحمت کا معاملہ فرما ) اور قرآن کہے گا کہ : میں نے اس کو رات کو سونے اور آرام کرنے سے روکے رکھا تھا ، خداوند ! آج اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما ( اور اس کے ساتھ بخشش اور عنایت کا معاملہ فرما ) چنانچہ روزہ اور قرآن دونوں کی سفارش اس بندہ کے حق میں قبول فرمائی جائے گی ( اور اس کے لئے جنت اور مغفرت کا فیصلہ فرما دیا جائے گا ) اور خاص مراحم خسروانہ سے اس کو نوازا جائے گا ۔
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : جو آدمی روزہ رکھتے ہوئے باطل کلام اور باطل کام نہ چھوڑے ، تو اللہ کو اسکے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔
نبی کریم ۖ نے فرمایا : کتنے ہی روزے دار ہیں جن کو ان کے روزے سے سوائے بھوک ،پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔اور کتنے ہی شب بیدار ہیں جن کو ان کی شب بیداری سے سوائے بیداری اور بے خوابی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔
روزے کے پورے لوازمات پر عمل پیرا نہ رہنے کی وعید ایک دوسری حدیث مبارک میں ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے کہ جس شخص نے روزہ میں بری بات کرنا ، اور اس پر عمل نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کو ایسے شخص کے کھانے پینے کے چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول ۖ نے فرمایا ! اللہ عزوجل کا فرمان ہے جس کے اعضا ء حرام کاموں سے نہیں رکتے اس کا میری خاطر نہ کھانے اور نہ پینے کی کوئی ضرور ت نہیں ۔
الصوم لی وانا اجزی بہ ” روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ”
عید الفطر درددل کا پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ اسلام معاشرتی اور سماجی فلاح کا سب سے بڑا داعی ہے ۔ وہ آسودہ حال مسلمانوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ معاشی طو ر پر بدحال مسلمانوں کا سہارا بنیں ۔ اپنے لئے تو سب جیتے ہیں ، جینا وہ ہے جو دوسروں کی خاطر ہو ۔

عید الفطر کے مبارک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو ارشادات اگر ہماری زندگی کے لئے مشعل راہ بن جائیں تو واقعی ہماری عید ہوجائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” مخلوق اللہ کی عیال ہے اور اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے جو اس کی عیال سے محبت کرے ” اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” خدا کی قسم وہ مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوک سے کروٹیں بدلتا رہے ”۔
اسلام اپنے ماننے والوں میں اجتماعیت کا احساس شدت سے پیدا کرتا ہے ۔ ضرورت پڑنے پر انفرادیت کو اجتماعیت کی خاطر قربان کرنے کی ہدایت کرتا ہے ۔
خالق اور مخلوق کے درمیان ایک روحانی رشتہ ہے جو مخلوق کو نظرکرم سے نہیں دیکھتا ، خالق بھی اس پر ابر کرم نہیں برساتا ۔
عید الفطر کے مقدس دن ہمیں دکھی انسانیت کا بھرپور خیال رکھنا چاہیے ۔ غریبوں ، یتیموں ، بیوائوں اور مسکینوں اور دکھ درد میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو تلاش کر کے ان کو اس قابل بنانا چاہے کہ وہ عید کی مادی خوشیوں میں شریک ہو سکیں ۔یہی ہے عبادت ، یہی ہے دین و ایمان اور یہی پیغام عید ہے ۔
اس عید الفطر کے جشن کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ جو چیز (فطرہ ) حقوق العباد سے متعلق ہے وہ حقوق اللہ (دو گانہ نماز ) پر مقدم ہے ، فطرے کی ادائیگی ، نماز کی ادائیگی سے پہلے کی جائیگی جسکی سخت تاکید اور اصرار ہے ۔ مقصد یہ کہ آج اپنی عسرت کے باعث کوئی بھی اس خوشی میں شریک ہونے سے نہ رہ جائے ۔ آج کوئی بھی محروم نہ رہ جائے ۔
عید الفطر کے دن غرباء مساکین کی امداد و تعاون کرنا ، بیماروں کی مزاج پرسی کرنا ، دوستوں سے اظہار محبت کرنا ، اپنے سے کمتروں اور زیر دستوں کا خیال کرنا ، بچوں سے شفقت و نرمی سے پیش آنا ، بڑوں کی تعظیم کرنا ، نرمی ، رواداری اور بھائی چارہ کا رویہ اپنانا یہ سب ہماری دینی اور اخلاقی ذمے داریاں ہیں جن سے عہدہ برآہو کر ہم اپنا دامن نہیں جھاڑ سکتے ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” عید کے دن غریبوں کو خوشحال اور غنی کرو ” ۔ اس لئے صدقہ فطر کو آپ ۖ نے عیدالفطر کا جزو لاینفک قرار دیا ۔ آپ ۖ نے فرمایا ” روزوں کی عبادت اس وقت تک زمین و آسمان میں معلق اور بارگاہ ایزدی میں قبول نہیں ہوتی جب تک ہر وہ شخص صدقہ فطر ادا نہیں کر دیتا ،جو صاحب نصاب ہو ”۔
عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے ہر صاحب استطاعت مسلمان مرد و عورت پر صدقہ فطر یا فطرانہ ادا کرنا فرض جو کہ ماہ رمضان سے متعلق ہے ۔ مندرجہ ذیل چند باتیں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں ۔
صدقہ فطر نماز عید سے قبل ادا کرنا چاہیے ورنہ عام صدقہ شمار ہو گا ۔
صدقہ فطر ہر مسلمان مرد ،عورت ، آزاد ، غلام ، چھوٹے ، بڑے سب پر فرض ہے ۔
صدقہ کی مقدار ایک صاع ہے جو پونے تین سیر یا ڈھائی کلو گرام کے برابر ہے ۔
گیہوں ، چاول ، جو ، کھجور ، منقہ یا پنیر میں سے جو چیز زیر استعمال ہو وہی دینی چاہیے ۔
صدقہ فطر ادا کرنے کا وقت آخری روزہ افطارکرنے کے بعد شروع ہوتا ہے لیکن نماز عید سے پہلے تک ادا کیا جا سکتا ہے ۔
صدقہ فطر اس شخص پر واجب ہے جس پر زکوٰة فرض ہے یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اسکی قیمت اس کی ملکیت میں ہو یا اگر سونا چاندی اور نقد رقم نہ ہو اور ضرورت سے زائد سامان موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی بن سکتی ہو تو اس پر بھی صدقہ فطر واجب ہے ۔ زکوٰة فرض ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مال نصاب پر چاند کے حساب سے ایک سال گزر جائے لیکن صدقہ الفطر واجب ہونے کے لئے یہ شرط نہیں ہے ۔ اگر رمضان کی تیس تاریخ کو کسی کے پاس مال آ گیا جس پر صدقہ الفطر واجب ہو جاتا ہے تو عیدالفطر کی صبح صادق ہوتے ہی اس پر صدقہ فطر واجب ہو جائے گا ۔
صدقہ کے مستحق بھی وہی لوگ ہیں جو زکوٰة کے مستحق ہیں یعنی ایسے غریب لوگ جن کے پاس اتنا مال نہیں ہے جس پر صدقہ فطر واجب ہے ۔صدقہ دینے میں اپنے غریب رشتہ داروں اور دینی علم کے سیکھنے سکھانے والوں کو مقدم رکھنا افضل ہے ۔جن لوگوں سے یہ پیدا ہوا ہے جیسے ماں ، باپ ، دادا ، دادی ، نانا ، نانی ، اور اسی طرح جو اس کی اولاد ہے جیسے بیٹا ، بیٹی ، پوتا ، پوتی ، نواسا ، نواسی ، اس کو صدقہ فطر نہیں دے سکتے ۔ ایسے ہی بیوی اپنے شوہر کو اور شوہر اپنی بیوی کو بھی صدقہ نہیں دے سکتا ۔ ان رشتہ داروں کے علاوہ جیسے بھائی ، بہن ، بھتیجا ، بھتیجی ، بھانجا ، بھانجی ، چچا ، چچی ، پھوپھا ، پھوپھی ، خالہ ،خالو ، ماموں ، ممانی ، ساس ، سسر ، سالہ ، بہنوئی ، سوتیلی ماں ، سوتیلا باپ سب کو صدقہ فطر دینا درست ہے ۔
عید الفطر کا تہوار وسیع پیمانے پر اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے ۔اور عید کے اجتماعات امت مسلمہ کی اخوت و اجتماعیت اور عالم گیر مسلم برادری کا دل کش اور عملی منظر پیش کرتے ہیں ۔ چناں چہ ان اجتماعات میں حاکم و محکوم ، دولت مندو حاجت مند ، غنی و گدا ، تاج دار و چوب دار ، فرماں رواو بے نواز ، نیاز مند و دردمند عالم و عامی مسلمان خواہ اس کا تعلق کسی قوم یا قبیلہ سے ہو ایک ساتھ شریک عبادت ہے سجدہ ریز ی میں مصروف ہے اس موقع پر حاکم و محکوم کا کوئی امتیاز ہی نہیں رہتا دوسری طرف نماز کی ادائیگی سے قبل صدقہ فطر کی تقسیم کا حکم ہے تاکہ تنگ دست اور مفلوک الحال بھی ضروریات زندگی کی تکمیل کے ساتھ عید کی خوشیوں اور مسرتوں میں شریک ہو سکیں کیوں کہ حقیقی خوشی کا حاصل غم زدوں کی زندگیوں میں خوشیوں کو عام کرنا ہے اور انہیں مسرتوں سے مالا مال کرنا ہے گویا یہ بھی اخوت و اجتماعیت کا اظہار ہے کہ امیر و غریب کے سارے امتیاز کا خاتمہ ہو جائے ۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی اپنی تصنیف ” غنےة الطالبین ” میں عید کا مقصد حقیقی اور جوہر اصلی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
”عیدان کی نہیں جنہوں نے عمدہ لباس سے اپنے آپ کو زیب تن کیا بلکہ حقیقتاً عید تو ان کی ہے جو خدا کی وعید اور پکڑ سے ڈر گئے ۔ عیدان کی نہیں جنہوں نے بہت سی خوشبوئوں کا استعمال کیا عید تو ان کی ہے جنہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور اس پر قائم رہے ۔ عید ان کی نہیں جنہوں نے بڑی بڑی دیگیں چڑھائیں اور بہت سے کھانے پکائے ۔عید تو ان کی ہے جنہوں نے قدر استطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور نیکی کی راہ پر گامزن رہے ۔ عیدان کی نہیں جو آفاق میں گم ہو گئے بلکہ عید ان کی ہے جن میں آفاق گم ہو گئے ۔ بندہ آفاق نہیں صاحب آفاق بن گئے اور تقویٰ کی روش اختیار کی ۔ عیدان کی نہیں جنہوں نے اپنے مکانوں کی آرائش و زیبائش کی بلکہ عید تو ان کی ہے جو دوزخ کے پل سے بخیر و عافیت گزر گئے ۔”
عید صرف ایک رسمی تہوار نہیں بلکہ ایک عبادت ہے ، دین داری میں دنیا داری ہے ۔ اپنی خوشیوں کے ساتھ دوسروں کی خوشیوں کا سامان کرنا ہی عید کا حقیقی مقصد ہے ۔اس سلسلے میں ہمیں وہ واقعہ یاد رکھنا چاہیے جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عید ادا کرنے کے بعد واپس تشریف لا رہے تھے ،آپ ۖ نے دیکھا کہ بہت سے بچے عید کی خوشی میں کھیل کود رہے ہیں ، لیکن ایک بچہ ان سب سے الگ غم کی تصویر بنا ادا س بیٹھا ہے ۔ آپ ۖ نے اس بچے کو دیکھا اور اس بچے کے قریب تشریف لے گئے ،شفقت سے سر پر ہاتھ پھیرا اور پوچھا کہ بیٹے کیوں رو رہے ہو ؟اس لڑکے نے جواب دیا میرے سرپر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں ہے ، بچے کے اس جواب کو سن کر آپ ۖ کی آنکھیں پرنم ہو گئیں ، آپ ۖ نے فرمایا میرے والد بھی بچپن میں انتقال کر گئے تھے ،آج سے میں تمہار ا باپ ہوں ،آپ ۖ اس کو اپنے ساتھ گھر لائے ،اچھا لباس پہنایا ، وہ بچہ اچھے کپڑے پہن کر باہر نکلا تو لوگوں نے پوچھا کہ یہ سب کہاں سے آیا ہے ؟تو اس نے جواب دیا کہ آج سے میرے سرپرست حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ہم سب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصول کو اپناتے ہوئے یتیموں ،بیوائوں ، غریبوں اور مسکینوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے ۔ جس کے بغیر عید کا حقیقی مقصد حاصل نہیں ہوتا ۔ جو بندگان خدا کے ساتھ مہربانی سے پیش آتے ہیں خدا ان پر مہربان ہوتا ہے ۔ خدمت خلق عیدالفطر کی روح رواں ہے ۔ اس کے بغیر عید کا تصور ایسا ہے جیسے پھول بغیر خوشبو کے ، جسم بغیر روح کے ۔

یوم عید اور معمولات نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :
عید کے موقع پر خوشی کا اظہار اللہ تعالیٰ کو پسند ہے یہی وجہ ہے اس دن روزہ رکھنا اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے اور اللہ تعالیٰ کی معافی سے اعراض کی وجہ سے حرام ہے ۔
اچھے کپڑے پہننا :
امام شافعی اور امام بغوی نے امام جعفر بن محمد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا : ” رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر عید کے موقعہ پر دھاری دار یمنی کپڑے کے لباس زیب تن فرمایا کرتے ”۔
امام حسن سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا ہم عید کے روز جہاں تک ہو سکے عمدہ کپڑے پہنیں اور عمدہ خوشبو لگائیں ۔
غسل عید :
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحی کے موقعہ پر غسل فرماتے ۔
نماز عید الفطر سے پہلے کچھ کھانا :
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ مبارک معمول بھی ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ نہ کچھ تناول فرما کر نماز عید الفطر کے لئے تشریف لے جاتے اور عید الاضحی کے موقعہ پر نماز ادا فرمانے کے بعد تناول فرماتے ۔
عبدالفطر کے لئے تشریف لے جاتے تو پہلے طاق کھجور یں تناول فرماتے ۔
شیخ ابن حبان اور حاکم نے حضرت انس کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” عید الفطر کے موقع پر پانچ ، سات یا کم و بیش کھجور تناول فرما کر نماز کے لئے تشریف لے جاتے ۔
کھلے میدان میں نماز ادا کرنا :
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں نماز عید ادا نہیں فرمایا کرتے تھے بلکہ کھلے میدان میں نماز عیدالفطر و عید الضحیٰ ادا فرماتے ۔
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر اور عیداالضحیٰ کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید گاہ میں تشریف لے جاتے ۔
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید کے روز عید گاہ کی طرف تشریف لے جاتے آپ کے آگے صحابی نیزہ اٹھا کر چلتے ، جب آپ عید گاہ میں پہنچ جاتے تو آپ کے سامنے گاڑ دیا جاتا ، آپ اسے سترہ بنا کر نماز پڑھاتے ۔اس لئے کہ عید گاہ کھلے میدان میں تھی اور اس میں سامنے کوئی پردہ یا دیوار نہ تھی ،
پیدل چل کر جانا :
حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم سے منقول ہے ۔ نماز عید کے لئے پیدل جانا سنت ہے ۔ حضرت سعدالقرظ سے مروی ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عید کے لئے پیدل تشریف لے جاتے ۔
آمدورفت میں راستہ بدلنا :
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید کے لئے جس راستہ پر تشریف لے جاتے واپسی اس پر نہ ہوتی بلکہ دوسرے راستہ کو شرف بخشتے ۔حضرت جابر سے مروی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عید کے لئے تشریف لے جاتے تو واپس دوسرے راستہ سے تشریف لاتے ۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک معمول تھا جب آپ ۖ عید کے لئے تشریف لے جاتے تو اُس راستے پر واپسی نہ ہوتی بلکہ کسی دوسرے راستے سے واپس آتے ۔
شیخ ابن قیم اس مقدس معمول کی حکمتیں بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں ۔ تاکہ دونوں راستہ والوں کو سلام کا شرف بخشیں ، بعض نے کہا تاکہ دونوں اطراف کے لوگوں کو برکت حاصل ہوجائے ، بعض کے نزدیک اس کی وجہ یہ تھی تاکہ ہر کوئی اپنی حاجت عرض کر سکے ،بعض نے کہا تاکہ تمام راستوں میں شعائر اسلامی کا غلبہ ہو جائے ، بعض نے کہا تاکہ مسلمانوں کی عزت دیکھ کر اہل نفاق جل اٹھیں ،بعض نے کہا تاکہ کثرت کے ساتھ مقامات گواہ بن جائیں کیونکہ مسجد و عید گاہ کی طرف ہر قدم اٹھانے پر گناہ کی معافی اور درجہ کی بلندی ہوتی ہے
عید گاہ میں نماز عید سے پہلے اور بعد میں نمازنہ پڑھنا :
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید گاہ میں فقط نماز عید ادا فرماتے اس سے پہلے اور بعد میں کوئی نماز ادا نہ فرمایا کرتے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عید کی فقط دور رکعتیں ادا فرماتے ۔ ان سے پہلے اور
بعد میں کوئی نماز نہ پڑھتے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.