عیدالضحیٰ کی خوشیاں اور5اگست کا غم؟

ایک طرف پوری دنیا میںعید الضحیٰ پورے جوش و خروش سے منائی جارہی ہے تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر ،فلسطین ، برما جیسے علاقوں میں مسلمانوں کو بے دردی سے کاٹا جارہا ہے ۔ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں پر بھارت کی طرف سے ہر طرح کا ظلم و ستم جاری ہے لیکن وہ ان تمام مظالم کے خلاف جذبہ شہادت سے سرشار ہیں اور ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں جیسا کہ وہ پچھلی 7دہائیوں سے مسلسل قربانیاں دیتے آئے ہیں ۔ ویسے تو کشمیر ہو یا فلسطین، افغانستان، یا برما، شام ہو یاپھر عراق ہر جگہ مسلمانوں کے خون سے دریا بہا ئے جا رہے ہیں، لیکن جمو ں وکشمیر ظلم و ستم کی ایسی نظر بن چکا ہے جہاں کی مٹی کا کوئی ایسا ٹکڑا نہیں جس شہید کا خون شامل نہ ہو،وہاں کوئی ندی نالہ ایسا نہیں بہتا جس میں کشمیری مسلمانوں کا خون نہ بہتا ہو، وادی کا کوئی ایسا گھر نہیں جس میں کوئی مسلمان شہید نہ ہوا ہواور کوئی ایسا شخص زندہ نہیں جو غاصب فوج کے ہاتھوں تشدد کا شکار نہ ہوا ہو۔بچوں کی قربانیاں دیکھیں تو واقعہ کربلا یاد آتا ہے، ہندو کے تمام تر ظلم اور درندگی کے باوجود کشمیری مسلمان آج بھی یک زبان، یک جان ہو کر سبز ہلالی پرچم ہاتھو ں میں تھامے پاکستان زندہ باد کے کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ہندو تواکا منحوس وجود کسی قیمت جنت نظیر جموں و کشمیر میں قبول نہیں، جموں و کشمیر کے مسلمانوں نے اپنے جذبوں سے آزادی کی ایسی تحریک برپا رکھی ہے جس کی مثال شاید ہی تاریخ انسانی میں کہیں ملتی ہو، کشمیری مسلمانوں نے تو استقامت کی نئی نئی داستانیں رقم کر دیں، کشمیری عوام کوئی جنگ پسند قوم نہیں ہے۔بلکہ یہ بھارت ہے جس نے 1947 ء میں جموں کشمیر میں زبردستی اپنی فوجیں اتار کر ایک نہتی قوم کو جبری طور اپنا غلام بنایا ہے جس کے نتیجے میں آج تک لاکھوں انسانی زندگیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔بھارتی فوجیں بڑے پیمانے پر کشمیریوں کے انسانی حقوق پامال کررہی ہیں بھارت نے ریاستی دہشت گردی کے ذریعے وادی کو ایک فوجی چھاونی میں تبدیل کیا ہوا ہے اور گزشتہ 1سال سے کشمیر میں تاریخ کا طویل ترین کرفیو نافذ کیا ہوا ہے ۔وادی میں کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو دبانے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے استعمال ہورہے ہیں، مگر کشمیری مسلمان کبھی بھی بھارت کے ظلم وجبر کے آگے سرینڈر نہیں کریں گے اور وہ اپنی مبنی بر حق جدوجہد کو ہر قیمت اور ہر صورت میں جاری وساری رکھے ہوئے ہیں۔کشمیری مسلمان اس دن کی امید میں بھارتی فو جی کا جرات مندی سے مقابلہ کر رہے ہیں جس دن کشمیر کی حسین وادیاں ان کے ساتھ ملّی اور قومی نغموں میں اپنے سریلے اور رسیلے راگ شامل کر رہی ہونگی۔ اس کے علاوہ آج عید الضحیٰ کے موقع پر کشمیر میں خوشیوں کے بجائے چیخوں کی آواز سنائی دیتی ہے ، کشمیر میں اس وقت درندہ صفت بھارتی فوج معصوم کشمیریوں کو شہید کررہی ہے ، اس صورتحال میں ہمیں بھی عید منانے کا کوئی حق حاصل نہیں ، جب ہمارے بھائی بہنیں مقبوضہ وادی میں تحریک آزادی کشمیر کیلئے ذبح ہورہے ہیں ایسی صورتحال میں کیا ہمارا عیدمنانا بنتا ہے؟ بالکل نہیں ، ہماری عید تب ہی ہوگی جب وادی جموں و کشمیر میں کشمیری آزاد فضاء میں سانس لیں گے۔اس کے علاو ہ عید الضحیٰ کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے تمام مسلم امہ کو عید الاضحی کی مبارکباد دیتے ہوئے کشمیریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شہداء اور نظر بندوں کے اہلخانہ کی طرف خصوصی توجہ دیں۔سید علی گیلانی نے اپنے ای”’ٹویٹ’ ‘میں کہا کہ کشمیری شہداء نے اپنا آج دیگر کشمیریوں کے بہتر مستقبل کیلئے قربان کیا اور وہ اس با ت کے مستحق ہیں کہ انہیں عید کے پر مسرت موقع پر یا د رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ عید الاضحی سے ہمارے اندر قربانی کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے ایک انٹریو میں جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما بلال صدیق نے بھی سرینگر میں ایک بیان میں مقوضہ کشمیر کے لوگوں کو عید الاضحی کی مبارکباد دی ۔مفتی ناصر الاسلام نے کشمیری عوام پر زور دیا کہ وہ پانچ اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں کیونکہ مودی کی سربراہی میں قائم فسطائی بھارتی حکومت نے گزشتہ برس اس روز عالمی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔قابض انتظامیہ نے مقبوضہ علاقے میں تیز رفتار انٹرنیٹ سروس فور جی پر جاری پابندی میں 19اگست تک توسیع کر لی ہے۔ علاقے میں فور جی انٹرنیٹ سروس گزشتہ برس پانچ اگست سے بند ہے۔دریں اثنا تحریک حریت جموں وکشمیر نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں پارٹی چیئرمین محمد اشرف صحرائی کی گرفتاری اور ان پر کالا قانون ”پبلک سیفٹی ایکٹ” لاگو کرنے کی مذمت کی۔ بیان میں کہا گیا کہ اشرف صحرائی کو صحت کی خرابی کی وجہ سے جموں خطے کی ادھمپور جیل سے رہا کیا جانا چاہیے یا پھر انہیں سرینگر منتقل کیا جائے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ پوری دنیا میں مسلم قوم کو ظلم و ستم کا نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے، کبھی کشمیر میں تو کبھی فلسطین میں کبھی افغانستان، برما، شام، عراق میں اور اب ہم تمام مسلم قوم کو ان سنگین حالات میں بیدار ہونے کی اشد ضرورت ہے اگر اس سنگین حالات کا ادراک نہ کیا گیا، اب ہم بیدار نہ ہوے تو پھر یقینا مسلم امت خسارے اور گھاٹے کا سودا کرے گی کیونکہ پہلے ہی بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35Aکو ختم کرکے ایک بہت بڑی سازش رچائی ہے ، تاکہ کشمیر میں ہندو آباد ہوں اور مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے ، اور جب مسلمان اقلیت میں ہوجائے تو کشمیر میں ریفرنڈم کروایا جائے ، یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش ہے ۔اور ایسا خدا راہ کبھی نہ ہونے دینا اب تمام مسلمان ایک ہو جاؤ ں پھر کوئی غیر مذہب قوت مسلم قوم کا کچھ نہیں بھگاڑ سکے گی اس میں ہر مسلم ممالک کے حکمرانوں کو بھی ایک ہو کر جدوجہد کرنی ہو گی، جتنا مسلمان بہادر اور طاقتور ہے اتنا کوئی ہور ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ جتنی طاقت اور بہادری اللہ پاک نے مسلمان کو بخشی ہے وہ کسی غیر مسلم کو نہیں بخشی ، بس یقین کرنے کی ضرورت ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.