اہم خبرِیں

عید مبارک

جزیرہ اس خشکی کے ٹکڑے کو کہتے ہیں جس کے چاروں طرف سمندر ہو اور جزیرہ نما خشکی کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جس کے تین اطراف میں سمندر ہو اور ایک طرف برابر چوتھا حصہ خشکی ہو۔ پاکستان میں امارت ایک جزیرہ ہے اوراس کے چاروں طرف غربت کا سمندر ہے۔ غربت کا یہ سمندر کہیں بہت گہرا ہے جو بندے کو دورنہیں نکلنے دیتا بس موت ہی موت ہے۔ جبکہ کہیں کہیں گہرائی کم اور کہیں کافی کم ہے۔ یعنی بندہ غربت کے سمندر میں زندہ تو نہیں بچ سکتا مگر مرنے میںکچھ وقت لگ سکتا ہے۔ بندہ سمندر کی گہرائی میں مرتا ہے جہاں بندہ ہر لحاظ سے بے بس ہو جاتا ہے۔ گہرائی پر بات بعدمیں ہو گی پہلے سمندر کی لمبائی اور چوڑائی کی پیمائش آپ کے آنکھوں کے سامنے کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ کو غربت کے سمندر کا صحیح طورپر ادراک ہو سکے۔

ساہیوال سے لے کر راوالپنڈی تک ایک جزیرہ ہے۔ پاکستان میں یہ علاقہ امارت کے آثار رکھتا ہے یعنی اس علاقہ میں معیار زندگی معقول حد تک بہتر ہے۔ زمینداروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں، صنعت کاروں اور چھوٹے بڑے کاروباری طبقے کے علاوہ وہ تمام آدمی بھی اپنی گزر بسر میں مشکلات کا شکار نہیں ہے۔ ایک عام آدمی بھی تقریباً 20000 روپے سے 30000 روپے تک ماہانہ کماتا ہے۔ کمائی کا یہ معیار طبقے کے نچلے درجے پر فائز مزدور کا ہے۔ اور مزیہ یہ کہ گھر میں ایک آدمی کی آمدنی کی صورتحال بیان کی گئی ہے۔ اگر کسی گھر میں دو افراد یا اس سے زیادہ کام کرنے والے ہوں تو آمدنی کا اندازہ افراد کی تعداد اوران کے کام کی نوعیت سے لگایا جا سکتا ہے۔ امارت کے اس جزیرے میں پاکستان کے جو اضلاع شامل وہ ساہیوال، اوکاڑہ، قصور، ننکانہ، شیخوپورہ، فیصل آباد، چنیوٹ، حافظ آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، منڈی بہائو الدین، جہلم، راولپنڈی، چکوال، سرگودھا اور اٹک کو اس جزیرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان اضلاع میں غربت کے بھی آثار پائے جاتے ہیں مگر معیار زندگی اتنا نحیف نہیں ہے۔ آپ لاہور کے متعلق ضرور سوال کریں گے کہ جزیرہ میں شامل اس ضلع کا کوئی ذکرنہیں کیا گیا۔ تو اس کے متعلق عرض ہے کہ لاہوراس جزیرہ میں ہی شامل ہے مگر معاشی، تعلیمی، عائلی، خانگی، معاشرتی اور اخلاقی لحاظ سے بالکل مختلف ہے۔ اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے باآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ دیگر تمام اضلاع کی لڑکی لاہور میں بیاہی جائے تو وہ آسانی سے Adjust ہو جاتی ہے۔ جبکہ لاہور کی لڑکی لاہور سے باہر کے اضلاع میں بیاہی جائے تو باآسانی Adjust نہیں ہو پاتی یا بالآخر Adjust نہیں ہوتی یہ ایک عام سی مثال ہے پیش کی گئی ہے۔ دیگر تمام مثالیں عام نہیں ہیں اس لئے جزیرہ کے اس ضلع پر بات پھر کسی وقت کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔

ساہیوال سے جنوب کی طرف سفر شروع کریں تو خانیوال، ملتان اورپھر اس کے آگے سندھ تک اور اندرونِ سندھ غربت کا گڑھ ہے۔ خانیوال اور ملتان سے غربت کے آثار شروع ہو جاتے ہیں۔ گرمی میں جھلسے چہرے اور میلے کچیلے ریگستانی لباس غربت اور پسماندگی کو ظاہر کرتے ہیں یعنی غربت کے سمندر کی گہرائی شروع ہو جاتی ہے۔ اندرون سندھ تک جاتے ہوئے اس سمندر کی گہرائی میلوں تک ہے۔ یعنی تھر اور گرد و نواح کے علاقوں میں بھوک اور پیاس سے بلکتے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کا کوئی معیار زندگی نہیں۔ ننگ ڈھڑنگ بچے خوراک پانی اوردوائی کے لئے ترستے ہوئے جان دے دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ سندھ کے دیگر اضلاع بھی اسی ملتی جلتی صورتحال سے دوچار ہے۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع صوبہ بلوچستان کے کوئٹہ کو چھوڑ کر تقریباً تمام اضلاع اور KPK کے پشاور اورمضافاتی علاقے چھوڑ کر پورا صوبہ غربت زدہ ہے۔ اس کے ساتھ شمالی علاقہ جات بشمول مری کے علاقے کوٹلی ستیاں وغیرہ کے مکین اپنے حالات کے ساتھ ہر وقت حالتِ جنگ میں ہیں۔ گرمیوں میں سیاح ان کی آمدنی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ باقی سال کے تمام مہینوں میں یہ لوگ فارغ ہی رہتے ہیں کوئی ذریعہ آمدنی کا نہیں ہے۔ آپ مری یا آگے نتھیا گلی اور کوٹلی ستیاں کے علاقہ میں جائیں تو آپ گاڑی کے ساتھ گر دا گرد مقامی فروت اور دیگر موروثی چیزیں اٹھا کر بھاگتے ہوئے بچے اور بڑے آپ کی امارت کو سلام کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں پر موجود مفلسی اور بے چارگی آپ کے رویے سے امید اورآس لگائے رہتی ہے۔ آپ اگر اپنی گاڑی کا شیشہ نیچے نہ کریں اور روانی میں گزر جائیں تو وہ دوڑتے ہوئے اپنے قدموں کو جب روک لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں تو ان کے چہروں پر بے چارگی کا جو منظر نمایاں ہوتا ہے وہ لفظوں میں بیان کرنا ہر گز ممکن نہ ہے۔ ادھر جنوبی پنجاب اور سندھی علاقہ میں انسانی زندگی بہت ارزاں ہے۔ جبکہ وڈیروں کے کتے بھی بہت قیمتی ہیں ان علاقہ کے لوگوں کو غریب رکھنا وڈیروں کی مجبوری ہے۔ اگر ان کو تعلیم دی تو روزگار ملے گا روزگار ملا تو شعور اور خوشحالی ملے گی شعور اور خوشحالی ملے گی تو غلامی سے بغاوت ہو جائے گی اور وڈیروں کی شان و شوکت کے محل زمین پرآ گریں گے۔

پاکستان کا تقریباً بیسوا ںحصہ کسی حد تک بہتر طر یقے سے زندگی گزار رہا ہے۔ باقی تقریباً پورا ملک غربت زدہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کہیںزندگی مجبور ہے اور کہیں انتہائی مجبور ہے مگر ان کو بھی عید کا دن معلوم ضرور ہے۔ وہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ نئے کپڑے نئے جوتے اور طرح طرح کے کھانوں کی تمنا کرتے ہیں۔ وہ بھی خیال کرتے ہیں کہ قریبی بڑے شہروں کے شاپنگ مالز میں جائیں یا بازاروں اور ماکیٹوں سے اپنی پسند کی اپنے بچوں کی شاپنگ کریں۔ وہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کے بچے چاند رات تک اپنی چیزیں پوری کریں اور رات کو عید کی پوری تیاری کے ساتھ سوئیں۔ مگران کے مقدر میں ایسی عید کہاں یہ تو پیدا ہی مفلسی اور بے چارگی کے لئے ہوئے ہیں۔ کتنی دکھ کی بات ہے کہ امیروں کاہر دن عیداورہر رات شب برات ہے۔ جبکہ غریبوں کے لئے عید کا دن مایوسی اور ماتم کا دن ہے۔ ایسے دن کے لئے میں ان ہزاروں، لاکھوں اور کروڑوں بہنوں، بھائیوں، بزرگوں اور بچوں کو اور تو کچھ نہیں دے سکتا مگر دعائوں کے ساتھ عید مبارک کہہ سکتا ہوں۔ میری طرف سے مزدوری سے تھکے ماندے چہروں، پائوں اور ہاتھوں کو عید مبارک۔ میری طرف سے اس ملک کے سرمایہ داروں کے منافع کا ذریعہ بننے والے کسانوں کو عید مبارک۔ اس ملک کے افسروں کے ان ماتحتوں کو میری طرف سے عید مبارک جو اپنے افسروں اور ان کے بیوی بچوں کی خوشنودی اور خوشحالی کے لئے کام کرتے ہوئے معطلی کا بار بار بوجھ اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ وطن پر نثار ہونے والے جوانوں کی نوجوان بیویوں، بچوں اور مائوں کو عید مبارک اور سلام۔ وطن کے ان معذوروں کو عید مبارک جو اپنی معذوری کے باوجود اپنے خاندان کی کفالت کا بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور اپنی معذوروی کو بھیک مانگ انسانیت کے سامنے شرمندہ نہیں کیا۔ ان بچاروں کو میری طرف سے دلی عید مبارک جو اپنی بیماری کے باعث اپنے گائوں اور شہر کی گلیوں میں پھرکنے کے قابل نہیں اور ان کی حسرت بیماری کی دوائوں کے بوجھ تلے جان بلب ہے۔ وطن کے ان جانثاروں کو دلی عید مبارک جو ملک عزیز کی سرحدوں پر پہرہ دے رہے ہیں اور دشمن کے عزائم اورآنکھوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے کھڑے ہیں۔ میری طرف سے وطن عزیز کے تمام دستکاروں اور قلم کاروں کو دل کی گہرائیوں سے عید مبارک جو وطن کی سلامتی کو اپنی زندگی کا مقصد گردانتے ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.