اہم خبرِیں

عید ، ڈیمینشیا، ابنٹو اور ڈبنٹو

میرا شدید ڈیمینشیا عید سے متعلقہ  میرے تصورات کو ہمیشہ خلط  ملط کر  دیتا ہے۔ یاداشت پر جتنا بھی زور دوں یا د  نہیں آتا کہ عید کیا ہوتی ہے۔شائد یہ زبردستی خوشی منانے کی کوشش کرنے کی کوئی رسم تھی ، یا  کسی دن معاشرے کے اس حصے کو نوازنے کی روایت جو سارا سال ہمارے لیے کام کرتا ہے، ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزی  اور ہیرا پھیری سے بچنے والا کوئی روشن چمکدار دن ، اپنی ذات سے نکل کر دوسرے کا خیال کرنے کا  تصور یا پھر کسی ایک دن جھوٹ نہ بولنے اور اپنا کام  ایمانداری سے کرنے کا کوئی تہوار۔ کچھ تھا  ضرور۔عید اور خوشی اب دو متضاد تصورات لگتے ہیں۔مجھے  معاف کیجیےگا میں بادی النظر میں  آج بھی خاصی  پیضی مسٹک گفتگو کرتا نظر آ سکتا ہوں۔ ماضی میں ہم عید کو خوشی کے ساتھ  جوڑتے تھے ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہم چھوٹے اور بھولے تھے۔ہمارا عید کا زیادہ تر تصور” رچولز ”کے ساتھ  وابستہ تھا۔ آج بھی ہے۔ رمضان کے روزے رکھنے ہیں، موقع ملے تو نمازیں  پڑھنی ہیں،  نئے کپڑے سلانے ہیں،خوشبو لگانی ہے اور عید کی صبح  جلدی اٹھ کر عید کی نماز پڑھنی ہے، واپسی پر سب بڑے بزرگوں سے عیدی لینی ہے اور  صبح سے لے کر شام تک  کھانا پینا ہے، کزنز  اور دوستوں کے ساتھ موج مستی کرنی ہے۔بس یہی عید ہوتی تھی۔

پھر وقت کا  پہیہ گھوما۔ ہم بڑے ہو گئے اور عید کیا ہوتی ہے لگ پتا گیا۔شعور  نے تھوڑی آنکھ کھولی تو جانا اکثر بڑوں کا  عید کا تصور معاشی ساخت کے  پہیے تلے دبا ہوا ہے۔ یہ پہیہ جتنا  گھومتا ہے ، بڑے اس کے نیچے اتنا ہی دبتے چلے جاتے ہیں۔ یہ پہیہ جتنا تیز  گھومتا ہے، اپنے وزن تلے دبے ہوئے اشخاص کو اتنی ہی  شدت سے کچلتا  چلا جاتا ہے۔ ان میں سے اکثر افراد کا عید کے بعد بھی جی جانا حیران کن لگنے لگا۔ کچھ  زندہ دل بڑے  بوڑھے اسے ” عید نائٹ مئیر ” کے نام سے بھی یاد کرتے تھے شائد۔یہ وہ لوگ تھے جو  شائد خود تو  عید کے تقاضوں سے ۔۔۔نئے کپڑے، فریش کرنسی نوٹ کی کاپیاں،  گوچی  یا آرمانی کی خوشبو،  راڈو کی گھڑی، پراڈا کے جوتے،لنکن کی تصویر والے نوٹ۔۔۔ بری تھے مگر  کسی کا احساس ان  کے دلوں میں بہت تھا۔ موقع  بے موقع لوگوں کو نوازنا،  بہانے بنا کر کسی نہ کسی کوکچھ نہ کچھ تھما دینا،عید کے بعد  ہونے والی بچیوں کی شادیوں کا تمام تر بندوبست  خاموشی کے ساتھ کر دینا اور اس نوعیت کے پتا نہیں کون کون سے کام دوسرے ہاتھ کو خبر کیے بغیر  کر گذرنا ان کی گھٹی میں تھا۔ میرا  ڈیمینشیا  مجھے یاد کرنے نہیں دیتا وگرنہ مجھے اس ٹانک کا نام یقینا یاد آ جاتا  جو یہ لوگ  پیتے تھے تو ان میں اتنی طاقت  پیدا ہو جاتی تھی کہ وہ یہ سب اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کر گذرتے تھے اور مزید کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ بس یہ کم بخت ڈیمینشیا بھی نہ۔۔۔

لاک  ڈاؤن  کے بعد کوارنٹائن سے نکل کر ابھی کچھ دنوں پہلے عید کی شاپنگ کی غرض سے باہر  جانا ہوا۔ سبزی کی دکان سے  لیکر کپڑے کی دکان، چھوٹی دکان سے لیکر بڑے بڑے مالز تک جیسے ڈبنٹو بنانے کی ایک ریس سی لگی ہوئی ہے۔ پہلے بھی زیادہ سے زیادہ ڈبنٹو  اکٹھا کرنے کی کوشش کرنا ایک آرٹ کا  درجہ رکھتا  تھا، مگر اس کرونا نے  تو جیسے  انسان کی ذہنیت پر حملہ کر دیا ہے،ہر طرف مادہ پرستی کیایک جنگ لگ چکی ہے۔ہر شخص اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید نوعیت کے  رنگ برنگ اندیشوں کا قیدی بن چکا ہے۔ہر شخص کے نزدیک اب واحد سہارا ڈبنٹو ہی ہے۔چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑی سے  بڑی چیز پر  منافع اب سو سے ایک ہزار فی صد تک حاصل کرنے کی کوشش ہر جاء جاری ہے۔اس وبا  کے زمانے میں اس کا ڈائریکٹ شکار صارفین ہو رہے ہیں جنہوں نے روز مرہ کی یہ تمام اشیا ء خریدنی ہی خریدنی ہیں۔پیسہ بلا شبہ ایک عام انسانی ضرورت ہے ، مگر صرف اور صرف  پیسہ اس بات کا قطعی فیصلہ نہیں کرتی کہ لوگ کتنے خوش ہیں۔ اور ضرورت سے زیادہ مادیت پرستی انسانی خیالات ، اخلاقیات اور نفسیات پر  منفی اثرات مرتب کرتیہے۔ پیسہ اس وقت تک تو ٹھیک ہے جب تک انسان کا غلام ہے، مگر جب انسان  پیسے کا غلام بن جائے تو یہ تباہی کا پیش خیمہ بن جاتا ہے ۔

جتنی بھی عیدیں زندگی میں گذار چکا ہوں، یہ عید سب سے مشکل لگتی ہے۔باہر نکل کر  چہروں کا پھیکا پن، آ نکھوں کی اداسی  اور ماتھے کی شکنیں دیکھ کر  دل دہل سا جاتا ہے۔ لوگ  چلتے ہیں تو لگتا ہے جیسے خلا میں ہیں۔ حرکات و سکنات بے ربط ہیں،  گفتگو کرتے تو  ٹام کی ہیں مگر سوچ میں ہیری  کی فرضیت ہے۔ اور جب یہ کہتے ہیں کہ عید آ رہی ہے تو لفظوں  کا ہلکا پن ہائیڈروجن کے ہلکے پن کو مات دیتا نظر آتا ہے۔ جب تک عید کا تصور مالیات کے  جڑا رہے گا، یہ اینگزائٹی، یہ بے چینی جاری رہے گی۔ایک خاص مقام تک پیسہ ہونا آپ کے فلاح و بہبود کے لیے  کافی حد تک معاون ہے،لیکن اس نکتے سے زیادہ ، مزید رقم کا حصول  اس بات کو ضامن نہیں ہوتا کہ آپ کو خوشی حاصل  ہو گی۔ تاہم ، دھیان سے اور صحیح خرچ سے ،خاص طور پر کسی دوسرے کو خوشی دینے کے لیے  رقم خرچ کرنے سے  پوری خوشی خریدی جا سکتی ہے۔اس لیے آئیں اس عید اپنی خوشیاں اور مالی معاونت ان لوگوں کے نام  کر دیں جو پریشان ہیں۔آئیں اس عید اس سے تجارت کر لیں جو دنیا میں بھی ستر گنا سے زیادہ دینے کا وعدہ کیے ہوئے ہے۔سنا ہے کہ ہومیو پیتھی میں  ایک دوا ہے  کالی فاس کے نام سے جو یاداشت کے لیے  اکثیر  کا درجہ  رکھتی ہے۔ ایسے میں میں بھی  سوچتا ہوں کے اس کی بوتلیں لا کر رکھ چھوڑوں کہ عید اور خوشی کے تعلق اور باہمی ربط بارے  یاد کرنے میں مدد ملے  گی، شائد۔

 

 


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.