اہم خبرِیں

درست انتخاب

عمران خان نے 2018میں برسر اقتدار آتے ہی غربت اور کرپشن کے خاتمے کو اپنا بنیادی ہدف قرار دیا۔ ”نیا پاکستان” کی اس منزل کے حصول کے لیے غربت میں کمی کی خاطر مارچ 2019میں ”احساس” پروگرام شروع کیاگیا۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر جو کہ صحت عامہ اور غربت سے مقابلے کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں انہیں اس پروگرام اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ذمے داریاں دی گئیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بہتری کی بہت گنجائش تھی۔
پیپلز پارٹی نے 2008میں اس پروگرام کا آغاز کیا جس میں خواتین کو نقد رقم کی منتقلی کی جاتی ہے۔ اس پروگرام میں مستحقین کی نشان دہی کے لیے انتہائی ناقص طریقہ کار اختیار کیا گیا اور ارکان اسمبلی کی سفارش پر نقد رقوم کے لیے نام اندراج کیے جانے لگے۔ اراکین اسمبلی نے حسب توقع زیادہ تر اپنے رشتے داروں، من پسند افراد، پارٹی کارکنان اور دوستوں کے نام فہرستوں میں شامل کروائے۔ اس بہتی گنگا میں بیوروکریسی کے کچھ ”مفلسوں” نے بھی ہاتھ دھوئے۔ اس پروگرام سے رقم حاصل کرنے والوں کی اکثریت کے ذاتی بینک اکاؤنٹ ہی نہیں تھے بلکہ ان میں ایک بڑی تعداد ایسی بھی تھی جن کے گھروں سے میلوں دور تک بینکوں کی شاخیں نہیں۔ دورافتادہ علاقوں میں بسنے والے چیک وغیرہ سے ناواقف ہوتے ہیں اس لیے ان لوگوں نے چیکوں کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا شروع کردیا۔ غربت میں کمی کے لیے کسی بھی پروگرام کے لیے قابلِ اعتمام ڈیٹا درکار ہوتا ہے اور اس تکنیکی مسئلے کو نادرا کی مدد سے بہ آسانی حل کیا جاسکتا ہے۔ حق دار افراد کی نشاندہی میں آج سب سے برا مسئلہ یہ ہے کہ تاحال 2017میں ہونے والی آخری مردم شماری کے نتائج کی سرکاری طور پر توثیق نہیں ہوسکی ہے۔ مزید یہ کہ ادراۂ شماریات نے سال 2018-19کے لیے لیبر فورس کا جو سروے کیا تھا وہ بھی عام نہیں کیا گیا ہے۔ مردم شماری، لیبر فورس سروے اور نادرا کا ڈیٹا یکجا کرکے بہ آسانی مستحق افراد کی شفافیت کے ساتھ نشان دہی کی جاسکے گی۔ جب جاری سروے مکمل ہوگا تو بی آئی ایس پی پروگرام کو مزید بڑھانا پڑے گا اور اس سے مستفید ہونے والوں کی تعداد بھی کئی گنا بڑھ چکی ہوگی۔
یہ معلومات ایسے ہی دیگر کئی پروگراموں میں بھی کارآمد ہوگی مثلا کورونا وائرس کے باعث پیدا شدہ حالات میں راش وغیرہ کی تقسیم کے لیے بھی یہ ڈیٹا مدد گار ثابت ہوگا۔ نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری(این ایس آر) مستقبل کے منصوبوں کے لیے سماجی و معاشی حالات کے اعتبار سے نچلی سطح پر ڈیٹا جمع کررہی ہے، یہ ایک جاری عمل ہے جس میں تازہ ترین معلومات شامل ہوتی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر طریقے بھی استعمال ہورہے ہیں۔ ‘احساس ایمرجنسی پروگرام” میں امداد سے مستفید ہونے والوں کی ایس ایم ایس کے ذریعے تصدیق کی گئی۔ کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے بحران میں کم زور طبقات کو بھوک سے بچانے کے لیے مالی مدد کا یہ پروگرام تشکیل دیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 20لاکھ خاندانوں میں 12ہزار روپے فی خاندان تقسیم کیے گئے اور اس کے لیے 144ارب روپے کی رقم مختص کی گئی۔
ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بی آئی ایس پی کے ڈیٹا بیس میں سے 8لاکھ 20ہزار 165 ایسے افراد کے نام نکالے جن کی طرز زندگی ”غربت” کی متعین کردہ تعریف پر پورا نہیں اترتی تھی۔ اس کے علاوہ احساس پروگرام میں صرف غیر مشروط مالی مدد فراہم کرنے سے دو قدم آگے بڑھ کر ‘کفالت’ کا اصلاحاتی پروگرام بھی شروع کیا گیا جس نے بی آئی ایس پی کو وظیفہ فراہم کرنے سے بڑھ کر خواتین کے ڈیجیٹل شمولیت کے پروگرام میں تبدیل کردیا ہے۔ ‘احساس’ کے تحت 29مختلف پروگرام شروع کیے گئے ہیں جن میں دیہاڑی دار مزدورں سے لے آن لائن تعلیم اور گاربیج رکشہ جیسے پروگرام شامل ہیں۔ ان میں سے کئی پروگرام اپنے ابتدائی مراحل میں ہیں اور کورونا وائرس کا بحران ان میں مزید تاخیر کا باعث بن رہا ہے۔ احساس پروگرام کے ساتھ ساتھ فنانس ڈویژن نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 200سے 215ارب روپے کی رقم احساس ایمرجینسی کیش پروگرام اور بینظر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے بھی مختص کی ہے۔ کورونا سے قبل کے آٹھ ماہ میں رقوم کی تقسیم سست روی کا شکار رہی تاہم وبا کا پھیلاؤ بڑھنے کے بعد حکومت ”احساس ایمرجینسی کیش پروگرام” کے تحت ان وسائل کو بروئے کار لارہی ہے۔
احساس پروگرام کی ابتدائی کام یابی میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی پُر خلوص کوششوں، منصوبہ بندی اور منظم انداز میں کیے گئے کام نے بنیادی کردار ادا کیا۔ صحت عامہ اور منصوبہ بندی کے شعبوں میں تجربہ کی وجہ سے ڈاکٹر ثانیہ قوم کے لیے کسی اثاثے سے کم نہیں۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ مقرر ہونے سے قبل ڈاکٹر ثانیہ 2013 میں نگران وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو کی کابینہ میں وفاقی وزیر کی ذمے داریاں بھی ادا کرچکی ہیں۔ انہیں سائنس ٹیکنالوجی، تعلیم، تربیت، آئی ٹی اور ٹیلی کوم کی ذمے داریاں دی گئی تھیں۔
ڈاکٹر ثانیہ نشتر پیشے کے اعتبار سے معالج ہیں۔ انہوں نے 1986میں خیبر میڈیکل کالج سے میڈیسن اور سرجری کی تعلیم مکمل کی اور سال کی بہترین گریجویٹ ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ رائل کالج آف فزیشن سے فیلو شپ حاصل کی اور کنگز کالج لندن سے پی ایچ ڈی کیا۔ 1999میں انہوں نے ”ہارٹ فائل” کے نام سے این جی او کی بنیاد رکھی۔ صحت کے شعبے میں معلومات جمع کرنے والی تنظیم سے اب اس موضوع پر ایک تھنک ٹینک کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ نظام صحت اس ادارے کی توجہ کا محور ہے۔ غریب مریضوں کی مدد کے لیے 2007میں ڈاکٹر ثانیہ نے ”ہارٹ فائل ہیلتھ فنانسنگ” کی بنیاد رکھی۔ نگران دور حکومت میں ڈاکٹر ثانیہ کو صحت کی ذمے داریاں بھی دی گئیں اور اسی دور میں انہوں نے وزارت صحت کو ان خطوط پر استوار کرنے کی کاوشوں کا آغاز کیا جن کا وہ پرچار کرتی آرہی تھیں۔ اپنی مدت پوری ہونے پر انہوں نے مکمل تفصیلات شایع کیں جو اگلے وزیر صحت اور ان کے عملے کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں تھیں۔
احساس پروگرام میں ڈاکٹر ثانیہ نے جس اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ان کی صلاحیتوں کو شعبہ صحت کے لیے بھی استعمال کرنا چاہیے۔ حالیہ وبا نے ہمارے نظام صحت کی کمزورویوں اور اس میں اصلاحات کی اشد ضرورت کو واضح کردیا ہے۔ اس نظام کی بہتری کے لیے آج تک ہمارے ہاں منظم اصلاحات کے بجائے وقتی اقدامات ہی سے کام چلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بعض اضلاع کے تباہ حال اسپتالوں کی بہتری کے لیے نجی و سرکاری شعبے کا اشتراک عمل شروع کیا گیا ہے۔ 2016میں حکومتی تعاون سے شروع ہونے والے ہیلتھ انشورنس کا پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ کیئر پروگرام اور تحریک انصاف کا صحت سہولت پروگرام پر تسلسل کے ساتھ عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔ درحقیقت حالیہ بحران سے یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم میں تعلیم کی طرح صحت کے شعبے کو بھی وفاق سے لے کر صوبوں کو دینے کے فیصلے پر نظر ثانی ہونی چاہیے۔ دوران حمل اور زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق ترجیحات کے تعین کے موضوع پر نیشنل ہیلتھ وژن 2016تا 2025کی رپورٹ میں پاکستان کے نظام صحت میں اصلاحات کے لیے دس نکات اجاگر کیے گئے تھے۔ یہ نفاذ اور نگرانی کے لیے جاری کردہ قومی پالیسی تھی۔ ثانیہ نشتر نظام حکومت، ٹیکنالوجی، غذائیت، طبی تعلیم و تربیت اور اس جیسے دیگر شعبوں کو سمجھتی ہیں اور ان میں کام کرنے کا تجربہ ، بصیرت اور حوصلہ بھی رکھتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر وہ عالمی ادارۂ صحت کی ڈائریکٹر جنرل منتخب ہونے کے قریب تھیں۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ان جیسی باصلاحیت شخصیت کی خدمات پاکستانی عوام کی صحت اور بنیادی معاشی ترقی کے لیے دست یاب ہیں۔
نظام صحت کی کم زوریوں اور نقائص کے باوجود پاکستان میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بہت حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ اس کام یابی میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا بہت بڑا حصہ ہے۔ کورونا وائرس آئندہ کچھ عرصے کے لیے بھی کہیں جانے والانہیں ابھی اس کی دوسری اور تیسری لہر آنا باقی ہے۔ آئندہ برسوں میں ہمیں اپنے عوام کو علاج معالجے اور ویکسین کی فراہم کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ حالیہ وبا سے ہمیں یہ بھی سکھایا ہے کہ بحران میں این ڈی ایم اے نے امدادی سرگرمیوں اور رسد کی فراہم میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے لیکن یہ ادارہ وبا سے نمٹ نہیں سکتا۔ اس لیے وبا، سیلاب یا زلزلے وغیرہ جیسی آفات کی صورت میں طبی شعبے اور انتظامی شعبے(این ڈی ایم اے) کو الگ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے نظام صحت میں مؤثر اصلاحات کے لیے ڈاکٹر ثانیہ نشترسے بہتر کون ہوگا۔ اسی طرح ہنگامی حالات کے طبی پہلو کو سنبھالنے کے لیے ڈاکٹر ظفر مرزا کو ایک خصوصی ٹاسک فورس بنانے کاطویل المیعاد ہدف دینا چاہیے۔ ہمیں ہر کام کے لیے موزوں افراد کی ضرورت ہمیشہ رہی ہے لیکن اس سے بڑھ کر موقعہ اور کیا ہوگا!
(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.