اپنا گھر”خواب سے تعبیر تک“

تحریر: ڈاکٹر مرینہ مریم خان
پاکستان میں مڈل کلاس کی زندگی کا ایک بڑا مقصد سرکاری نوکری کے اختتام پر ملنے والی پینشن سے اپنا ذاتی گھر بناناہے۔ بہت سے سفید پوش لوگ تمام عمر اپنی جمع پونجی اسی کام کے لیے وقف رکھتے ہیں تاہم اس میں سے بھی بہت کم شرح ایسے لوگوں کی ہے جو اس ڈور دھوپ کے نتیجے میں اپنا گھر بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ اکثر ملازمین اور غریب لوگ اس تمام عمل کے دوران کسی نا گہانی آفت ، شادی بیاہ یا دوسری ضروریات کی وجہ سے وہ پیسہ خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور تمام زندگی بغیر چھت کے ہی عمر گزار دیتے ہیں۔ ان تمام حالات کے بیش نظر غریب اور اوسط طبقہ کے لیے حکومت کی سرکاری سکیمیں آتی رہتی مگر ان کا طریقہ کار اس قدر پیچیدہ ہوا کرتا تھا کہ کوئی عام انسان ان سے مستفید نہیں ہو سکتا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف نے جہاں غریب عوام کے لیے بہت سے فلاحی پروگرام شروع کیے اور نادار لوگوں کے لیے وقتی طور پر پناہ گاہیں بنائیں، وہی وزیر اعظم نے مستقبل بنیاد پر لوگون کو اپنا گھر بنانے کے لیے امداد فراہم کرنے کا بھی ارادہ کیا، نیا پاکستان ہاوسنگ سکیم اسی سوچ کا مظہر ہے جس میں غریب دوست وزیر اعظم نے عوام کے لیے اپنے گھر کا ادھورا خواب پورا کرنے کا سنہری موقع فراہم کیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے اس شعبہ زندگی میں جو نئی سکیمیں متعارف کرائی ہیں وہ بلاشبہ ایک انقلاب بر پاکر دیں گے۔ اس سے نہ صرف غریب لوگوں کو اپنے گھر کی نعمت مہیا ہو سکے گی بلکہ تعمیرات کے شعبہ میں کام بڑھنے سے یہ ایک باقاعدہ صنعت کی حیثیت حاصل کرے گا۔ اگراس سکیم کا بغور تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیر اعظم پاکستان کا یہ قدم بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اُمید کی کرن ہے۔ جہاں تعمیرات کے شعبے میں نئی نوکریاں اور روزگار کے مواقع ملیں گے وہاں اس سے متصل دوسرے شعبوں میں بھی روزگار کے نئے مواقع جنم لیں گے۔ تعمیرات کے ایک حصے سے کئی دوسرے ادارے اور صنعتیں جڑی ہوتی ہیں۔ گھر صرف اینٹ اور مٹی یا سریے سے ہی نہیں بن جاتا ۔ دیگر شعبے بھی اس میں شامل ہوتے ہیں جس میں لکڑی ، پلاسٹک ، پینٹ، لوہا، سیمنٹ، الیکٹرک اور نکاسی آب نمایاں ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہاوسنگ سے تقریباً 40شعبے بلاواسطہ جڑے ہیں جس کا مطلب ان تمام شعبوں میں بھی ترقی ہے۔
پچھلی حکومتوں کے برعکس پی ٹی آئی حکومت نے نہ صرف یہ سکیم متعارف کرائی ہے بلکہ اس کا نمایاں کارنامہ اس سکیم سے لوگوں کو بہتر طور پر آگاہ بھی کرنا ہے تاکہ وہ اس سے اچھی طرح واقف ہوں اور وہ لوگ جن تک عام طور پر ایسی پرکشش سکیموں کے بارے میں رسائی کم ہوتی ہے وہ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کا اصل مقصد غریب عوام کی مدد ہے تاکہ انکی پہنچ میں وہ تمام سہولیات ہوں جن کا وہ خواب دیکھا کرتے تھے۔
عوام کی بہتر آگاہی کے لیے میڈیا پر اس سکیم کو اُجاگر کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کی رفادیت کا پتا چل سکے۔ مزید براں حکومت نے تمام بڑے بینکوں سے بھی اسان طریقوں پر قرضے جاری کرنے کی واضع ہدایات دی ہیں۔ چونکہ بیشتر اوقات عوام کو پیسے اور قرضے کے حصول میں بینکوں سے رابطہ کرنے اور آسان اقساط حاصل کرنے میں شدید دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اکثر عوام کو بینکوں کے طریقہ کار سے بھی واقفیت نہیں ہوتی جس سے ان کے لیے ایک بہت بڑی رکاوٹ کھڑی ہو جاتی ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایات پر بینکوں نے اس تمام کام کو انتہائی سہل بنا دیا ہے اور دو سے تین دن کے دوران اسانی سے قرضہ حاصل کر کے مکان کی تعمیرشروع کی جاسکتی ہے۔
نیا پاکستان ہاوسنگ سکیم نہ صرف گھر بنانے والوں کے لیے آسانیاں لے کر آئی ہے بلکہ اس میں سرمایہ کاروں کے لیے بھی نمایاں سہولیات موجود ہیں جس میں آسان اور سادہ رجسٹریشن ، ٹیکس کی بلڈرزکے لیے چھوٹ اور ذاتی رہائش کے لیے تعمیراتی سامان پر بھی رعایت اور ٹیکس سے اسثنیٰ شامل ہیں۔ مزید براں پہلے ایک لاکھ گھروں پہ تین لاکھ روپے فی گھر سبسڈی کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
حکومتی اقدامات کو تمام شعبہ پائے زندگی میں سرایا گیاہے، خاص طور پر تعمیرات کے شعبہ میں اس سے خوشی کی لہر آتی ہے۔ نجی ہاوسنگ سکیموں نے بھی اس سکیم کا خیر مقدم کیا ہے کیونکہ اس سے ان کے کاروبار میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں سال 2020میں کرونا کی وجہ سے معیشت کو بہت نقصان پہنچا وہاں وزیر اعظم کی نیا پاکستان ہاوسنگ سکیم ایک روشن خیال منصوبہ ہے جو تمام شکل حالات کے باوجود پاکستانی قوم اور حکومت کے استقلال اور حوصلہ مندی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ پاکستان نہ صرف اس سے معاشی طور پر مضبوط ہوگا بلکہ بے روزگاری کا خاتمہ بھی ہوگا اور ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہوگا۔ اِن شااللہ


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.