Daily Taqat

ڈی پی او بہاولپور اور رحیم یار خان انتظامیہ ، شتر بے مہار کیوں؟

ایک حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر کے چلتی بنی،نئی حکومت نے انتظامی امور کی باگ ڈور سنبھال لی تاہم ملکی حالات اور خصوصاً شعبہ صحت سے متعلق مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔پچھلی حکومت سے اچھی امیدیں وابستہ کی گئیں مگر نتیجہ حسب سابق صفر برآمد ہوا۔اب پی ٹی آئی کی حکومت کا آغاز ہے اوران کی جانب سے بلند و بانگ دعوے باندھے گئے ہیں اللہ کرے اس بار حکومت زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی اقدامات کرے جس سے پاکستان میں بسنے والے تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد سکون کا سانس لیں۔
مجھے آج کے کالم میں بہاولپور اور رحیم یارخان میں شعبہ صحت کے حوالے سے بات کرنی ہے۔بہاولپور میں اپنی نوعیت کا عجیب و غریب واقعہ پیش آیا جس کا مہذب معاشرے میں تصور بھی محال ہے۔پنجاب پولیس کی دھوم اور دھونس عوام کا بڑا پختہ ایمان ہے اور خلوص دل سے ان کی بڑی عزت کرتے ہیں ۔بس! وہ الفاظ مت پوچھیں جو ان کی توصیف میں بیان کیے جاتے ہیں۔میں ایک الگ سوچ کا انسان ہوں میری رائے میں پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہیں اور اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں۔
پچھلے دنوں نیوز چینلز اور اخبارات میں ڈی پی او بہاولپور کا بہاول وکٹوریہ ہسپتال کے ڈاکٹرز اورسربراہان ادارہ کو ہراساں کرنا اوران کے ساتھ تضحیک کرنے خبریںدیکھنے اور پڑھنے کو ملیں۔ میں قارئین سے روزنامہ نوائے وقت کی ایک خبر شیئر کرنا چاہوں گا جو 21ستمبر2018کونامہ نگار بہاولپور کی کریڈٹ لائن سے شائع ہوئی۔”میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بہاول وکٹوریہ ہسپتال ڈاکٹرعزیزالرحمن نے انسپکٹرجنرل پنجاب پولیس کوایک خط تحریرکیاہے جس میں ان کی توجہ بہاولپورکے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈاکٹراقبال کے ہسپتال کے ڈاکٹروں سے نارواسلوک کی طرف دلائی ہے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے کہاکہ ڈی پی اوکاسلوک ناقابل وضاحت ہے انہوںنے کہاکہ اگرچہ پولیس اورڈاکٹروں کاآپس میں چولی دامن کاساتھ ہے اوردونوں باہمی طورپردوستانہ
ماحول میں کام کرتے ہیں لیکن موجودہ ڈی پی او کارویہ بہاول وکٹوریہ ہسپتال کے ڈاکٹروں میں بہت زیادہ بے چینی پیداکررہاہے جوڈاکٹروں کے وقار کے منافی ہے جس کااظہارڈاکٹروں کی طرف سے پریس کانفرنس میں کیاجاچکاہے اورانہوںنے ڈی پی او کی غیرقانونی مداخلت روکنے کامطالبہ کیاہے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے وجہ نزاع بننے والے تمام واقعات سے آئی جی پنجاب کوآگاہ کیاہے اورکہاہے کہ ڈی پی او نے ڈاکٹروں کیخلاف روزانہ50 ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکی دی اورمجھے گرفتار کرکے اپنے روبرو پیش کرنے کیلئے اے ایس آئی حضور بخش اودیگر نفری کو2 گاڑیوں پرمیرے دفتربھجوادیا جس نے دفترمیںد ہشت پھیلادی ایم ایس نے آئی جی پنجاب سے درخواست کی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں آزادانہ تحقیقات کرائیں اورامن وامان کی صورتحال کوخراب ہونے سے بچایاجائے“۔
ڈی پی او بہاولپور کا بہاول وکٹوریہ ہسپتال کے ڈاکٹرز اورسربراہان ادارہ کو ہراساں کرنا اوران کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ اختیار کرنا انتہائی شرمناک عمل ہے۔مذکورہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے غیر ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے اور اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ڈاکٹری کا شعبہ ایک انتہائی مقدس پیشہ ہے اس سے وابستہ افراد کے فرائض میں انسانی زندگی کو بچانا اولین ترجیح ہوتا ہے ۔ان پیشہ ورانہ مہارت کے حامل اور قابل احترام افراد کو ڈرانا،دھمکانا اور ان پر سرکاری عہدے کی دھونس جمانا کہاں کی انسانیت ہے؟ میں تقریباً تین دہائیوں سے میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ہوں اور اہم عہدوں پر تعینات رہا ہوں مگر یہ واقعہ اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے جس میں ڈی پی او بہاولپور ڈاکٹر اقبال نے سرکاری قوانین کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے قابل احترام مسیحاﺅں کو ڈرانے دھمکانے اور ہراساں کرنے کی ایک نئی اور تاریخی مثال رقم کی ہے جس سے پولیس ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ بقول شاعر
کشتی اعتبار توڑ کے دیکھ
کہ خدا بھی ہے نا خدا ہی نہیں
دوسرا واقعہ شیخ زیدہسپتال رحیم یارخان کا ہے جسے سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔واقعہ یوں ہے کہ رحیم یارخاں شیخ زیدہسپتال ایمرجنسی کے چلڈرن وارڈمیں رات کی ڈیوٹی سرانجام دینے والی خاتون ڈاکٹراپنے کمرے میں موجودتھی اسی دوران خاکروب علی حسن نے اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی، لیڈی ڈاکٹرکے شورمچانے پرہسپتال انتظامیہ اورڈیوٹی پرمعمورگارڈزنے ملزم کوپکڑلیااور جسمانی گو شمالی کے بعدپولیس کے حوالے کردیا۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پرینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن کے پیٹرن ان چیف ڈاکٹر شبیر احمد وڑائچ، صدر ڈاکٹرامجدعلی، چیف کوارڈینیٹرپنجاب ڈاکٹر عبدالغفار نے کہاکہ انتظامیہ ڈاکٹروں کوتحفظ دینے میں ناکام نظرآتی ہے، رات کی ڈیوٹی پرمعمورلیڈی ڈاکٹرکے ساتھ پیش آنے والایہ واقعہ قابل مذمت ہے ۔
اس پہلے سے بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہے ہیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ ہسپتال میں کسی قسم کی بدمعاشی کی اجازت نہ ہو، لیڈی ڈاکٹرز کی عزت و عصمت کا تحفظ کرنا حکومت کا کام ہے ۔لیڈ ی ڈاکٹرز کے لیے الگ روم مہیا کیا جائے،رات 12بجے کے بعدآو¿ٹ سائیڈرزکوہسپتال کی حدودمیں داخل نہ ہونے دیاجائے ۔مبینہ تفصیلات کے مطابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹرغلام ربانی کو اس واقعے پر عارضی طور معطل کر دیا گیا تھا وہ بعد میں بحال ہو گئے تاہم میری معلومات کے مطابق اس واقعے میں مقامی انتظامیہ ملوث تھی اور انہوں نے ایم ایس ڈاکٹر غلام ربانی پر دباﺅ ڈالا کہ اس واقعہ کی خبر باہر نہ نکلے۔جس کی بنا پر انہیں مصلحت کے تحت مقامی انتظامیہ کی بات ماننی پڑی تاہم اس معاملے کو دبانے کے اصل کردار مقامی انتظامیہ میں موجود ہیں۔میڈیکل کالجز اور ہسپتالوں میں مکمل طور پر بند کی جائے۔ جس طرح بہاولپور میں ڈی پی او نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور قابل احترام ڈاکٹرز کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔جس کا ذکر میں نے کالم کے ابتدائی حصے میں کیا۔
میرا قارئین سے ایک سوال ہے کہ کیا کوئی فرد کمشنر،ڈی سی او ،یا ڈی پی او کے دفاترمیں کسی اعلیٰ سرکاری آفیسر یا ادنیٰ ملازم کا گریبان پکڑتا ہے؟ یا گتھم گتھا ہوتا ہے؟ یا ہاتھا پائی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے؟ ہر گز نہیں! تو پھر یہ ہرزہ سرائی محکمہ صحت اور شعبہ طب سے کیوں؟میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو ڈاکٹرزاور پیرا میڈیکل اسٹاف کو مکمل تحفظ فراہم کرنا چاہئے۔وہ دوسروں کی زندگیاں بچانے اور ان کی تکالیف دور کرنے کے لیے ڈیوٹی کر رہے ہوتے ہیں ۔ان کی عزت کرنا اور معاشرے میں انہیں معاشرے میں مقام دینا پاکستان کے ہر شہری کا فرض ہے۔وطن عزیز میں عجب تماشا دکھائی دیتا ہے ۔کبھی کوئی شتر بے مہار ڈی پی او ،سرکاری ہسپتال کے ایم ایس کے دفتر پر دھاوا بول دیتا ہے تو کہیں بے لگام خاکروب لیڈی ڈاکٹر کی عزت تار تار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اور تو اور مریضوں کے لواحقین ہسپتالوں میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز نا صرف زبانی بد تمیزی کرتے ہیں بلکہ نوبت دست و گریبان تک جا پہنچتی ہے اور ایسے شر پسند اور امن شکن عناصر کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ہمارے ہاں عوام میں شعور آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں رہا۔ مریض جب تک مرگھٹ کے قریب پہنچتا ہے تب اسے ہسپتال لایا جاتا ہے اور ڈاکٹرز سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ جادو کی چھڑی گھمائیں اور مریض بھلا چنگا ہو جائے۔ایسی نازک صورت حال کا حامل مریض اگر چل بسے تو لواحقین ڈاکٹرز سے توتکار شروع کر دیتے ہیں حالانکہ ڈاکٹرز کا زندگی بچانا ہے کسی کی جان لینا ہر گز نہیں۔میں یہاں یہ بات بھی لازمی کہوں گا کہ ڈاکٹرز بھی انسان ہیں ان کسی کوتاہی یا غلطی پر کوئی شخص قانون اپنے ہاتھ میں نہ لے ۔البتہ تمام قانونی راستے اس کے لیے کھلے ہیں ۔وہ چاہے تو ان کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے اور پسند کرے تو متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام کو ان کی شکایت کرے۔
میری صوبائی وزیر صحت اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے عاجزانہ التماس ہے کہ سیاست کو اداروں سے دور رکھا جائے۔ مقامی انتظامیہ کا مسائل کے حل تلاشنا ہوتا ہے ۔مسائل میں اضافہ کرنا ہرگز نہیں! کوئی بھی شخص خواہ وہ کسی سرکاری عہدے پر فائز ہو اسے حق نہیں پہنچتا کہ وہ اداروں کے اندرونی معاملات پر اثر انداز ہو۔ اس حوالے سے تحریری ہدایات جاری کی جا سکتی ہیں جس میں انہیں اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ غیر ضروری اور غیر متعلقہ معاملات میں کسی صورت مداخلت نہ کریں۔ ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے والے افراد کے خلاف بلا تخصیص سخت سے سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »