Latest news

دوحہ، افغان امن مذاکرات اورپاکستان

افغانستان میں امن اور امریکی افواج کے انخلاءکے لئے جمعرات سے دوحہ ،قطر میں طالبان اورامریکہ میں مذاکرات کے نویں دور کا آغازہوگیا،اٹھارہ برس کی طویل لڑائی کے بعدمہینوں سے جاری بات چیت کے بعد امریکہ اور طالبان میں سمجھوتے کے امکانات ہیں۔جس کے تحت طالبان اورغیرملکی افواج کے درمیان جنگ بندی کے بعد غیرملکی افواج کا انخلاءہوگااورطالبان سیکورٹی کی ضمانت دیں گے۔ افغانستان میں تقریباً 20,000غیرملکی افواج میں زیادہ تعدادامریکی فوجیوں کی ہے۔یہ افواج ایک مشن کے تحت افغان افواج کو تربیت،معاونت اور رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔زلمے خلیل زاد طالبان سے مذاکرات کی قیادت کررہے ہیں۔طالبان سے مذاکرات کے بعد وہ کابل جائیں گے۔منگل کے روز امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے کہا تھاکہ 18برس لڑائی کے بعد وہ افغانستان میں موجودامریکی افواج میں کمی لائیں گے اورامریکی افواج کو محض “پولیس فورس” کے کردار سے نکالیں گے۔رائیٹرز نے مشروط طور پرامریکی اہلکار کے حوالے سے بتایاہے کہ افغان نژاد امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد امن سمجھوتے کے متعلق بڑے افغان رہنماﺅں کو اعتمادمیں لیں گے اورجنگ بندی کے اعلان کو حتمی شکل دیں گے۔وائٹ ہاﺅس سے بھی ایک بیان میں یہ کہاگیاہے کہ جنگ بندی کے خاتمے کے لئے طالبان سے مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں لیکن مذاکرات کی نوعیت کیاہے اس بارے میں کچھ نہیں بتایاگیا۔قبل ازیں عیدالاضحی سے پہلے امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے کا قوی امکان تھامگر12اگست کو مذاکرات کے آٹھویںدورکااختتام دوحہ،قطرمیں مزیدمشاورت پراتفاق سے ہوا۔امریکی صدرسے نائب صدرمائیک پینس ،خارجہ کے وزیرپومپیو،ڈیفنس منسٹرمارک ایسپر،نیشنل سیکورٹی کے ایڈوائزرجان بولٹن ،زلمے خلیل زاد،جنرل ڈنفرڈ اور ڈائریکٹر سی آئی اے گینا ہسپال نے بھی افغان مفاہمت پربات چیت کی اورقومی سلامتی کے مشیروں نے بات چیت کو خوشگوارقراردیا۔12اگست کو افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایاتھاکہ مذاکرات میں اگلے مرحلے کے لئے فریقین میں اپنے اپنے رہنماﺅں سے مشاورت پر اتفاق ہوا ہے۔افغانستان کے صدر اشرف غنی کو افغان طالبان اورامریکہ کے درمیان طے پانے والے مجوزہ امن معاہدے کے مسودے کے ملنے کی اطلاعات ہیں ، افغان صدر کے ترجمان صادق صدیقی نے افغان امن معاہدے کے مسودے کے ملنے یانہ ملنے کے بارے میں کچھ بتانے سے گریزکیاہے۔اطلاعات کے مطابق افغان صدراشرف غنی نے افغان امن معاہدے کے مسودے میں لفظ”امارات” پراپنے تحفظات ظاہرکئے ہیں۔یہ اصطلاح طالبان اپنی تحریک کے لئے استعمال کرتے ہیں۔”امارات اسلامیہ”کی اصطلاح ریاست کے ہم معنی ہے۔افغانستان میں جاری 18سالہ جنگ کے خاتمے پراوسلو میں ناروے کے وزیرخارجہ سے بھی زلمے خلیل زاد نے مفاہمتی عمل کی کامیابی کے لئے تبادلہ خیال کیاتھا۔زلمے خلیل زاد نے اپنے ایک ٹویٹ میں افغان مفاہمتی عمل میں ناروے کی مددحاصل ہونے کابھی دعویٰ کیاتھا۔عالمی سطح پرسفارت کار مذاکرات کے اس دور کو نتیجہ خیز سمجھ رہے ہیں اوربتارہے ہیں کہ دونوں فریقین میں زیادہ ترمعاملات پر اتفاق ہوگیاہے اورافغان معاہدے کی کامیابی کے قوی امکانات ہیں۔پاکستان میں سیکورٹی صورتحال کی بہتری اورمعیشت کی ترقی کے لئے افغانستان میں قیام امن انتہائی ضروری ہے۔پاکستان نے ہمیشہ امن کے لئے دنیابھرمیں اہم کرداراداکیاہے۔اس سلسلہ میںافواج پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔پاکستانی آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے خطے میں امن کے لئے خصوصی کاوشیں کی ہیں اوران مذاکرات کے آغازاورکامیابی کے لئے بھرپورکرداراداکیاہے جسے پوری دنیامیں سراہاگیاہے۔ان مذاکرات کی کامیابی میں چین اور روس کاکرداربھی بہت اہم ہے۔اس کے برعکس انڈین لابی ان مذاکرات کو سبوتاژ کرناچاہتی ہے جبکہ پوری پاکستانی قوم افغانستان میں قیام امن کے لئے دعاگوہے۔اس سے افغان عوام کی مشکلات کم ہونگی اورپاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کاعمل بھی شروع ہوگااورپاکستان کی معیشت پربوجھ بھی کم ہوگا۔باہمی تجارت کو فروغ حاصل ہوگااورمغربی سرحدپردفاعی اخراجات میں کمی ہوگی۔افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاءکے بعدانتہاپسندانہ رحجان میں کمی آئے گی نیز افغان امن مذاکرات کی کامیابی سے ناصرف خطے بلکہدنیابھر میںسیکورٹی کی صورتحال بہترہوگی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.