Daily Taqat

فیصلے نہیں ٹیم بدلیں

خان صاحب کی سیاسی مشکلات میں اچانک اضافہ ہونے لگا ہے نہ ایم این اے قابو میں ہیں نہ ایم پی اے قابو میں آرہے ہیں، ادھار لیے ہوئے ”الیکٹ ایبل “اب جان کو آرہے ہیں۔ نہ حکومت کسی کے کنٹرول میں ہے نہ حکومت کا کسی پر کنٹرول نظر آ رہا ہے۔
خان صاحب کو کسی نے سمجھایا تھا کہ خان صاحب” الیکٹ ایبل“ لے لیں” الیکٹ ایبل “نہیں لیں گے تو آپ کبھی وزیراعظم نہیں بن سکیں گے۔ خان صاحب نے آو¿ دیکھا نہ تاو¿ دھڑا دھڑ” الیکٹ ایبل“ لے لیے۔ آج وہی ان کی جان کو آئے ہوئے ہیں۔
اوریہ وہ لوگ ہیں جو صرف اس کشتی پر سوار ہونا پسند کرتے ہیںجس کی منزل اقتدار ہوتی ہے جو اپنے علاقے کے ہر شریف اور بدمعاش آدمی کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے۔اسی کی وجہ سے شریف بھی قابو میں رہتے ہیںجو بدمعاش سے لوگوں کو تنگ کرواتا ہے اور شریفوں کی کی بدمعاش سے جان چھڑا کر انہیں اپنی حمایت میں رکھتا ہے۔ اپنے ووٹر اور سپوٹر کے ہر جائز اور ناجائز کام کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے اسی لیے لوگ آنکھیں بند کر کے اسے ووٹ دیتے ہیں کسی پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے” الیکٹ ایبل“ پچاس فیصد ووٹ اپنے گھر سے لے کر چلتا ہے ۔ خان صاحب کے پاس ایسے لوگوں کی تعدا د ستر فیصدہے جو الیکٹ ایبل کہلاتے ہیں۔ اب وہ کسی بدمعاش کے پیچھے کھڑے نہیں ہوں گے اسکی سفارش نہیں کریں گے تو اور کیا کریں گے ؟ایم این اے کرامت کھوکھر منشا بم کی سفارش نہیں کرے گا تو کس کی کرے گا؟
یہ بات تو خان صاحب کو الیکٹ ایبل لینے سے پہلے سوچنی چاہئے تھی مگر اس وقت انہیں سامنے صرف وزیراعظم کی کرسی نظر آرہی تھی یہ کام نوازشریف بہتر طریقے سے کرنا جانتے تھے۔ اس لیے ان کے اراکین اسمبلی تلملاتے تھے کہ میاں صاحب گھاس نہیں ڈالتے اب تو گھاس کا میدان کھلا پڑا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں توگھوڑا گھاس نہیں کھائے گا تو کیا کھائے گا۔ خان صاحب نے ”الیکٹ ایبل “لئے ہیں تو اس کے نتائج تو بھگتا پڑیں گے۔دوسری طرف خان صاحب کے دھرنوں اور لانگ مارچوں کے پرانے ساتھی ان پر نواز حکومت گرانے کی سازش کا الزام لگا رہے ہیں۔ حکومت پر کارکردگی کے حوالے سے تو تنقید ہو ہی رہی تھی کہ اچانک” گڑے مردے“ بھی زندہ ہو گئے ۔سوال یہ ہے کہ حکومت جسے آئے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے اس قدر تضادات اور مشکلات کا شکار کیوں ہو رہی ہے؟۔ حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ” اسٹیٹس کو“ کو تحفظ دینے والی قوتیں ان کے خلاف جمع ہو رہی ہیں جبکہ انکے سیاسی مخالفین کا دعویٰ ہے کہ حکومت اپنے دعووں پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اور جن قوتوں کے بل بوتے پر خان صاحب حکومت میں آئے ہیں وہ قوتیں بھی حکومت کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت چلانے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی یا پالیسی نہ دینے پر بھی مقتدر حلقوں میں بھی مایوسی پائی جاتی ہے جو جلد فیصلہ کن اقدامات کیے جانے کے منتظر ہیں۔ خان صاحب کو اقتدا رمیں لانے کے لیے جتنی محنت کی گئی اور جتنی بدنامی سہی گئی اس کے ثمرات کہیں نظر نہیں آرہے اسی لئے دباو¿ دونوں طرف محسوس کیا جا رہاہے۔تناو¿ کے اس ماحول میں سابقہ حکومت گرانے کی سازش کا الزام اور اس پر کمیشن بنانے کے مطالبات سے خان صاحب دباو¿ میں آسکتے ہیں۔ ابھی تو حالیہ الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کا آغاز نہیں ہوا تو ایک اور ”مدا “حکومت پر ڈال دیا گیا ہے۔ جس سے بہت سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں کہ کیا یہ سب کچھ موجودہ حکومت پر دباو¿ ڈالنے کے لیے تو نہیں ہے اور یہ دباو¿ اس لیے ڈالا جا رہا ہے کہ” ہنی مون پیریڈ “جلد ختم ہو اور دوبارہ کام شروع کیاجائے۔ تحریک انصاف نے پہلے 100 دن میں اہم نتائج دینے کا چیلنج لے رکھا ہے اور اسی چیلنج کی وجہ سے انہیں عوام میں بہت پزیرائی بھی حاصل ہوئی تھی۔
لیکن 100 دن کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے جو پیشرفت کی جا رہی ہے اس کی رفتار خاصی سست ہے اس رفتار کو تیز کرنے کے لیے ”انجیکشن “کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ گمان یہی کیا جا رہا ہے کہ یہی سستی جہانگیر ترین کے” اہل “نہ ہونے کی راہ میںرکاوٹ بنی ہے حکومت کے بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ” الٹی گنتی“ شروع ہونے کا وقت ہوا جاتا ہے اور لگتا یوں ہے کہ حکومت کو فوری ”آن ٹوز آنا “پڑے گا اور اپنے کاموں کی رفتار کو تیزکرنا پڑے گا ۔تحریک انصاف کے ایک رہنماءفیصل واوڈا فرماتے ہیں کہ انکے پاس حکومت ہے اقتدار نہیں ہے تو سوال یہ ہے کہ اقتدار کس کے پاس ہے کیا انکے پاس ہے جو آپ کو لے کر آئے ہیں۔اگر اقتدار کسی اور کے پاس ہے تو وہ دکھائی کیوںنہیں دیتے ۔
اب کونسی ایسی نادیدہ مخلوق ہے جس کے پاس اقتدار ہے اور آپ کے پاس صرف حکومت ہے، اگر آپ کو حکومت اور اقتدار دونوں درکار تھے تو حکومت میں کیوں بیٹھ گئے لات مار کر حکومت سے باہر آجاتے اور مطالبہ کرتے کہ ہمیں حکومت بھی دو اور اقتدار بھی دو۔
حکومت بھی آپ کی ہے اور اقتدا ربھی آپ کا ہے اگر اس وجہ سے قانون سازی نہیں کر سکتے کیوں کے آپ کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے تو جو قانون موجود ہے اس پر عمل تو کرا سکتے ہیں۔ کون سا قانون ہے جو مجرموں کو تحفظ دیتا ہے اگر دیتا ہے تو پھر وہ قانون نہیں ہے۔
یا پھر یہ مان لیں حکومت چلانے کے لیے جو صلاحیت درکار ہے آپ میں وہ صلاحیت نہیں ہے۔آج کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس حکومت ہے اقتدار نہیں کل یہ کہیں گے کہ ہمارے پاس حکومت بھی نہیں ہے ہم توسیر کرنے آئے تھے۔
اگلی بات یہ کہ حکومت نے سعودی عرب سے تین ماہ کے لیے ادھار تیل مانگا ہے بعض حلقے اس پر بھی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ سعودی عرب سے تیل ہی ادھار لینا تھا تو کم از کم دو سال کے لیے تو ادھار لیا جا تا۔تین ماہ سے کیا ہو گا کیا تین ماہ بعد کہیں سے ڈالروں کی بارش ہونےوالی ہے ۔ اب تک تو کوئی ایسی معاشی پالیسی سامنے نہیں آئی جس کی وجہ سے تین ماہ بعد سعودی عرب کو ادھار بھی واپس کردیا جائے اور آئندہ کیش پر تیل خریدا جائے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت با لاآخرآئی ایم ایف کے پاس جا رہی ہے؟ اور اگلے دو تین ماہ ادھار کے تیل پر گزارہ کیا جائے گا۔ بادی النظرمیں حکومت معیشت کی بحالی کے لیے شارٹ ٹرم یا لانگ ٹرم کوئی پلان دینے میں ناکام رہی ہے۔ اور اسی وجہ سے حکومت پر دباو¿ بڑھ رہا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دباو¿ بڑھتا رہے گا ۔تجربات کرنے کا وقت بھی گزر چکا ہے اب نتائج کی توقع کی جا رہی ہے اور خدانخواستہ نتائج نہ ملے تومایوسی بڑھے گی۔دباو¿ اور مایوسی کا شکار حکومت بھی کچھ نہیں کر سکے گی۔ لگتا یوں ہے کہ خان صاحب نے ایسے لوگ ساتھ ملا لیے ہیں جو انجوائے تو کر سکتے ہیں لیکن ڈلیور کرنے کے قابل نہیں ۔خان صاحب کا اصل مسئلہ اچھی ٹیم کی تشکیل نظر آتا ہے اگر مشکلات سے نکلنا ہے تو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کی بجائے اپنی ٹیم پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔
آف دی ریکارڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »