Daily Taqat

معذور افراد کے لیے علیحدہ وزارت ہونی چاہیے (1)

معذور افراد کسی بھی معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں اور دیگر شہریوں کی طرح اپنی زندگی اچھے طریقے سے بسر کرنے کا حق رکھتے ہیں، دنیا بھر میں اس طبقے کو خصوصی افراد کا نام دیا گیا ہے تاکہ ان کا احساس محرومی ختم ہوسکے مگر صرف انہیں یہ نام دینا کافی نہیں ہے ،بلکہ ان کے لیے حقیقی معنوں میں خصوصی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں 60کروڑ افراد جسمانی طور پر معذور ہیں،جن میں سے 80فیصد کا تعلق ترقی پذیرممالک سے ہے، اوراقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی دس فیصد آبادی کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہے اورایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی تیس کروڑ آبادی معذور افراد پر مشتمل ہے جبکہ پاکستان میں ایک کروڑ80 لاکھ افراد معذور ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے ہمارے ملک میں معذور بچوں کی اسی فیصد تعداد مناسب سہولتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہتی ہے پاکستان میں کوئی ایسا سرکاری ادارہ موجود نہیں ہے ،جو معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرے اور انہیں تعلیم و ہنر سکھانے کے لیے سنجیدگی سے کام کرے اور ان کی زندگی کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہومعذور افراد کے بارے میں حکومت کی عدم دلچسپی پر مایوسی ہوتی ہے ،معذور افراد ملک کا سرمایہ ہیں انہیں سہولیات دے کر معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جا سکتا ہے، یہاںپر بڑی غور طلب با یہ ہے کہ معذور افراد کے لیے علیحدہ وزارت بھی ہونی چاہیے تاکہ ان کے مسائل حل ہوسکیں، اور معذور افراد کے لیے مختص بجٹ بڑھانا چاہیےپاکستان نے معذور افراد کی بحالی کے عالمی کنونشن بھی دستخط کیے ہوئے ہیں اور ریاست ان معذور افراد کی بحالی کی ذمہ دار ہے ،معذور افراد کے لیے حکومت کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں ہے ،حکومتی شخصیات معذوروں کی زندگی سنوارنے اور ان کے تمام حقوق دینے کے وعدے تو کرتی ہیں لیکن افسوس ان وعدوں کو وفا کرنے کا عملی مظاہرہ کسی بھی سطح پر نظر نہیں آتایہاں پربڑی غورطلب بات یہ ہے کہ معذورافراد کے لیے ملازمتوں کا کوٹہ بھی مخصوص کیا گیا جن کا اطلاق تمام سرکاری نیم سرکاری اور پرائیوٹ اداروں پر ہوتا ہے تاکہ معزور افراد کو ملازمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکیں لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے معزور افراد کے کوٹہ کا قانون صرف کتابوں تک ہی رہ گیا ہے، ہر ادارہ ملازمت کے حصول کے لیے اپنی مرضی سے کوٹہ بناتا ہے جبکہ کئی ادارے تو اس کو مناتے ہی نہیں اور معزور افراد کو ملازمت کے حصول کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھانی پڑ تی ہیں وہ بچارے تو پہلے ہی زمانے کے ستائے ہوئے افراد ہوتے ہیں، ادارے ان کیساتھ ایسا سلوک کرکے ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور وہ زمانے کے ستائے معزور افراد بھیک منگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اگر تمام قوانین اور حوصلہ افزائی صرف دکھاوا ہے تو ان افراد کے ساتھ اتنا بڑا مذاق کیوں کیا جاتا ہے، معذور افراد کو معاشرے میں اپنی جگہ بنانے اور ایک با عزت زندگی گزارنے میں ویسے ہی انتہاءدشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایسے میں حکومت وقت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ان معزور افراد کی دیکھ بھال اور نگہداشت میں اپنا حصہ ڈالے لیکن حکومت کی بے حسی کی وجہ سے معزور افراد کوان کے جائز حقوق نہیںمل رہے معزورافراد معاشرے کا اہم جزو ہیںان کے لیے روزگار کی عدم دستیابی،قانون ساز اداروں میں معذورافراد کی نمائندگی کا نہ ہوناجوکہ ان کے مسائل میں اور اضافہ کر رہے ہیںحکومت کو معزور افراد کی ملازمت کے لیے اپنے اندر احساس پیدا کرنا ہوگا،پاکستان میں معذور افراد اپیل کرتے ہے کہ حکومت ان کے حقوق کی طرف توجہ دے، انہیں بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی گزار سکیں،بدقسمتی سے پاکستان میں بحالی برائے معذوران ایکٹ 1981ءکے بعد افراد باہم معذوراں کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی قابلِ ذکر قانون سازی نہیں ہوسکی ہے،یہاںپر بڑی غور طلب با یہ ہے کہقومی بحالی و روزگار برائے معذوراں ایکٹ 1981ءمیں معذور افراد کے لیے نوکریوں میں 3 فیصد کوٹہ، علاج کی مفت سہولتیں اور ان کے اعضاءکی بحالی کے اقدامات کو شامل کیا جائے اس کے علاوہ معذور افراد کے بچوں کی سرکاری اداروں میں 75 فیصد جبکہ پرائیویٹ اداروں میں 50 فیصد فیس معاف کی جائے اور روزگار کی فراہمی بھی اس قانون کا حصہ ہیں۔،مگر ان پر کتنا عمل ہوا اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اکثرمعذور افراد کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے یہاںپر بڑی غور طلب با یہ ہے کہ معذور افراد کے لیے علیحدہ وزارت بھی ہونی چاہیے تاکہ ان کے مسائل حل ہوسکیں، اور معذور افراد کے لیے مختص بجٹ بڑھانا چاہیے۔ ء1981کے حالات اور موجودہ حالات میں بہت فرق ہے لہٰذا اب معذوروں کے حوالے سے قانون میں تبدیلی ہونی چاہیے ،جب معذوروں کی بحالی کے لیے کوئی منصوبہ بندی کی جاتی ہے تو اس میں معذور افراد کو بھی شامل کیا جائے لیکن ایسا نہیں کیا جاتا اور یہی وجہ ہے کہ مسائل حل نہیں ہوپاتے،معذوری کا دکھ صرف معذورافرادیاان کے اہلخانہ محسوس کرسکتے ہیں،یہاں پر بڑی غور بات ہے کہ معذور افراد کے لیے مختص 3فیصد کوٹہ پر ملازمت نہ دینے والے کو جرمانہ کیا جاتا ہے، مالکان جرمانہ ادا کردیتے ہیں مگر معذور افراد کو نوکری نہیں دیتے جس کی وجہ سے بہت سے معذور افراد بے روزگار ہیں جو لوگ معذور افراد کو کوٹہ پر ملازمت دینے کے بجائے جرمانہ ادا کر دیتے ہیں، اگر ان کے خاندان کا کوئی فرد معذور ہو تو انہیں احساس ہوگا کہ وہ کتنا بڑا ظلم کررہے ہیںلہٰذا جرمانے کے بجائے سخت سزا مقرر کی جائے تاکہ 3 فیصد کوٹہ پر عملدرامد ہوسکے اور اگر حکومت صحیح معنوں میں ان کی مدد کرنا چاہتی ہے، تو انہیں 50ہزار سے 5لاکھ روپے تک کا(جاری ہے)
قرض حسنہ فراہم کیا جائے تاکہ وہ کاروبار کے ذریعے اپنا روزگار کما سکیں اورمعذور افراد کے لیے ہیلتھ کارڈ کے اجراءکے ساتھ ساتھ سفری کرائے میں رعایت بھی یقینی بنانی چاہیے، معذور افراد کو تنہائی کا شکار بنانے کے بجائے معاشرے میں ضم کرنا ہو گا۔ غور بات ہے کہ معزور افراد کے حقوق کی پاسداری کا حکم قرآن پاک میں بھی ہے، ہم ان افراد کوجو معاشرے میں خصوصی مقام کے مستحق ہیں انکے حقوق کیلئے جدوجہد کریں یہ خصوصی افراد عالمی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کر رہے اسلام نے معذور افراد پر کسی طرح کا معاشی بار نہیں رکھا ہے،اورترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان میں بھی موٹر سائیکل اور موٹر کار کمپنیاں معذور افراد کے لیے مقامی سطح پر موٹر سائیکل اور گاڑیاں ڈیزائن کرکے نہ صرف اپنے صارفین کی تعداد بڑھا سکتی ہیں بلکہ لاکھوں معذور افراد کو متحرک بھی کرسکتی ہیںاور اگر حکومت غریب معزور افراد کو پرانی گاڑیاں در آمد کرنے میں ٹیکس کی چھوٹ دے دی جائے تو بھی ان افراد کی سفری مشکلات میں کافی حد تک کمی آ سکتی ہے ،دنیا بھر میں اس طبقے کو خصوصی افرادکا نام دیا گیا ہے، تاکہ ان کا احساس محرومی ختم ہوسکے مگر صرف انہیں یہ نام دینا کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے حقیقی معنوں میں خصوصی اقدامات زمانہ عصر کی حقیقی ضرورت ہے۔ معذور افراد معاشرے کا حسن ہیںاور یہ حسن ہمارے تعاون اور احساس کے بغیر ناممکن ہے۔اس لیے ضرورت اِس امر کی ہے کہ معذور افراد سے اظہار و ہمدردی ، محبت اور شفقت کے جذبے کو پروان چڑھانے کیلئے مثبت اقدامات فی الفور بروئے کار لائے جائیں جس میں حکومت کے ساتھ ساتھ بہت ساری تنظیموں اور معاشر ے کو ان کی بحالی کے لیے مثبت کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ وہ بھی سکون کی زندگی گزار سکیں۔یہاں پربڑی غورطلب بات یہ ہے کہ حکو مت خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کرے ،کسی ایک طبقے کو پاکستان کی ترقی و ارتقاءکے عمل اور تعلیم وصحت کی بنیادی سہولیات سے محروم نہیں رکھا جانا چاہئے، جسمانی معذور افراد میں زبردست ٹیلنٹ موجود ہے اور اسے نظرانداز کرکے پاکستان کو ترقی نہیں دی جاسکتی، ملک بھر میں معذورافراد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے ان کے مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات بہت ضروری ہیں۔ یہاں پر بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ جب ہائی کورٹ نے وفاقی اور صوبائی سطح پر ڈیٹا اکٹھا کیا تو حیران کن نتائج سامنے آئے اور معلوم ہوا کہ معذوروں کی بحالی کے حوالے سے قانون پر عملدرامد ہی نہیں ہورہا، حقیقت یہ ہے کہ معذوروں کے لیے مختص کوٹہ کی ہزاروں نشستیں خالی پڑی ہیں اور ان پر بھرتیاں ہی نہیں کی گئیںجبکہ نصف سے زائد بھرتیاں سفارشی ہیں اور ان پر وہ لوگ بھرتی کیے گئے ہیں جن کا اس کوٹہ پر کوئی حق ہی نہیں ہے ،معذور افراد کسی بھی معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں ،معذور افراد ملک کا سرمایہ ہیں انہیں سہولیات دے کر معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جا سکتاہے معذورافراد کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کے بارے میں قانون سازی اور کسی واضح پالیسی کا نہ ہونا ہے معذور افراد کو نوکریاں فراہم کرنے میں انہیں ہر سطح پر نظرانداز کیا جاتا ہے اس حوالے سے وفاقی حکومت کی کارکردگی پنجاب سے بھی بدتر ہے معذور افراد کے لئے تعلیم، صحت، نوکری اور قومی و صوبائی اسمبلی میں نشستیں مختص کی جائیں ،اگر معذور افراد کے لئے سرکاری اداروں میں روزگار کی فراہمی کوٹے کے تحت یقینی بنا دی جائے ،غور طلب بات یہ ہے کہ معذور افراد کے لیے علیحدہ وزارت قائم کی جائے،اور بجٹ کا بڑا حصہ معذوروں کو قرض حسنہ دیا جائے تاکہ وہ اپنے پاوں پر کھڑے ہوسکیں یہ پیسے منصفانہ طریقے سے معذوروں کی بحالی پر خرچ کیے گئے تاکہ وہ بھی سکون کی زندگی گزار سکیں۔میری حکومت پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، چیف جسٹس پاکستان اور چا روں وزیراعلی صاحبان سے اپیل ہے کہ معزور افراد کے کوٹہ والے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے اورمیری اپیل ہے ان تما م پرائیوٹ اداروں سے کہ وہ معزور افراد کی ملازمت کے لیے اپنے اندر احساس پیدا کریں انہیں حیرت کی نظر سے نہ دیکھیں تاکہ معزور افراد بھی عام آدمی کی طرح اپنی زندگی گزار سکیں اور زمانے کے لیے مثال بن جائیں ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »