Daily Taqat

معذور افراد کے لیے علیحدہ وزارت ہونی چاہیے (2)

قومی بحالی و روزگار برائے معذوراں ایکٹ 1981ءمیں معذور افراد کے لیے نوکریوں میں 3 فیصد کوٹہ، علاج کی مفت سہولتیں اور ان کے اعضاءکی بحالی کے اقدامات کو شامل کیا جائے اس کے علاوہ معذور افراد کے بچوں کی سرکاری اداروں میں 75 فیصد جبکہ پرائیویٹ اداروں میں 50 فیصد فیس معاف کی جائے اور روزگار کی فراہمی بھی اس قانون کا حصہ ہیں۔،مگر ان پر کتنا عمل ہوا اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اکثرمعذور افراد کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے یہاںپر بڑی غور طلب با یہ ہے کہ معذور افراد کے لیے علیحدہ وزارت بھی ہونی چاہیے تاکہ ان کے مسائل حل ہوسکیں، اور معذور افراد کے لیے مختص بجٹ بڑھانا چاہیے۔ ء1981کے حالات اور موجودہ حالات میں بہت فرق ہے لہٰذا اب معذوروں کے حوالے سے قانون میں تبدیلی ہونی چاہیے ،جب معذوروں کی بحالی کے لیے کوئی منصوبہ بندی کی جاتی ہے تو اس میں معذور افراد کو بھی شامل کیا جائے لیکن ایسا نہیں کیا جاتا اور یہی وجہ ہے کہ مسائل حل نہیں ہوپاتے،معذوری کا دکھ صرف معذورافرادیاان کے اہلخانہ محسوس کرسکتے ہیں،یہاں پر بڑی غور بات ہے کہ معذور افراد کے لیے مختص 3فیصد کوٹہ پر ملازمت نہ دینے والے کو جرمانہ کیا جاتا ہے، مالکان جرمانہ ادا کردیتے ہیں مگر معذور افراد کو نوکری نہیں دیتے جس کی وجہ سے بہت سے معذور افراد بے روزگار ہیں جو لوگ معذور افراد کو کوٹہ پر ملازمت دینے کے بجائے جرمانہ ادا کر دیتے ہیں، اگر ان کے خاندان کا کوئی فرد معذور ہو تو انہیں احساس ہوگا کہ وہ کتنا بڑا ظلم کررہے ہیںلہٰذا جرمانے کے بجائے سخت سزا مقرر کی جائے تاکہ 3 فیصد کوٹہ پر عملدرامد ہوسکے اور اگر حکومت صحیح معنوں میں ان کی مدد کرنا چاہتی ہے، تو انہیں 50ہزار سے 5لاکھ روپے تک کا قرض حسنہ فراہم کیا جائے تاکہ وہ کاروبار کے ذریعے اپنا روزگار کما سکیں اورمعذور افراد کے لیے ہیلتھ کارڈ کے اجراءکے ساتھ ساتھ سفری کرائے میں رعایت بھی یقینی بنانی چاہیے، معذور افراد کو تنہائی کا شکار بنانے کے بجائے معاشرے میں ضم کرنا ہو گا۔ غور بات ہے کہ معزور افراد کے حقوق کی پاسداری کا حکم قرآن پاک میں بھی ہے، ہم ان افراد کوجو معاشرے میں خصوصی مقام کے مستحق ہیں انکے حقوق کیلئے جدوجہد کریں یہ خصوصی افراد عالمی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کر رہے اسلام نے معذور افراد پر کسی طرح کا معاشی بار نہیں رکھا ہے،اورترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان میں بھی موٹر سائیکل اور موٹر کار کمپنیاں معذور افراد کے لیے مقامی سطح پر موٹر سائیکل اور گاڑیاں ڈیزائن کرکے نہ صرف اپنے صارفین کی تعداد بڑھا سکتی ہیں بلکہ لاکھوں معذور افراد کو متحرک بھی کرسکتی ہیںاور اگر حکومت غریب معزور افراد کو پرانی گاڑیاں در آمد کرنے میں ٹیکس کی چھوٹ دے دی جائے تو بھی ان افراد کی سفری مشکلات میں کافی حد تک کمی آ سکتی ہے ،دنیا بھر میں اس طبقے کو خصوصی افرادکا نام دیا گیا ہے، تاکہ ان کا احساس محرومی ختم ہوسکے مگر صرف انہیں یہ نام دینا کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے حقیقی معنوں میں خصوصی اقدامات زمانہ عصر کی حقیقی ضرورت ہے۔ معذور افراد معاشرے کا حسن ہیںاور یہ حسن ہمارے تعاون اور احساس کے بغیر ناممکن ہے۔اس لیے ضرورت اِس امر کی ہے کہ معذور افراد سے اظہار و ہمدردی ، محبت اور شفقت کے جذبے کو پروان چڑھانے کیلئے مثبت اقدامات فی الفور بروئے کار لائے جائیں جس میں حکومت کے ساتھ ساتھ بہت ساری تنظیموں اور معاشر ے کو ان کی بحالی کے لیے مثبت کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ وہ بھی سکون کی زندگی گزار سکیں۔یہاں پربڑی غورطلب بات یہ ہے کہ حکو مت خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کرے ،کسی ایک طبقے کو پاکستان کی ترقی و ارتقاءکے عمل اور تعلیم وصحت کی بنیادی سہولیات سے محروم نہیں رکھا جانا چاہئے، جسمانی معذور افراد میں زبردست ٹیلنٹ موجود ہے اور اسے نظرانداز کرکے پاکستان کو ترقی نہیں دی جاسکتی، ملک بھر میں معذورافراد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے ان کے مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات بہت ضروری ہیں۔ یہاں پر بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ جب ہائی کورٹ نے وفاقی اور صوبائی سطح پر ڈیٹا اکٹھا کیا تو حیران کن نتائج سامنے آئے اور معلوم ہوا کہ معذوروں کی بحالی کے حوالے سے قانون پر عملدرامد ہی نہیں ہورہا، حقیقت یہ ہے کہ معذوروں کے لیے مختص کوٹہ کی ہزاروں نشستیں خالی پڑی ہیں اور ان پر بھرتیاں ہی نہیں کی گئیںجبکہ نصف سے زائد بھرتیاں سفارشی ہیں اور ان پر وہ لوگ بھرتی کیے گئے ہیں جن کا اس کوٹہ پر کوئی حق ہی نہیں ہے ،معذور افراد کسی بھی معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں ،معذور افراد ملک کا سرمایہ ہیں انہیں سہولیات دے کر معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جا سکتاہے معذورافراد کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کے بارے میں قانون سازی اور کسی واضح پالیسی کا نہ ہونا ہے معذور افراد کو نوکریاں فراہم کرنے میں انہیں ہر سطح پر نظرانداز کیا جاتا ہے اس حوالے سے وفاقی حکومت کی کارکردگی پنجاب سے بھی بدتر ہے معذور افراد کے لئے تعلیم، صحت، نوکری اور قومی و صوبائی اسمبلی میں نشستیں مختص کی جائیں ،اگر معذور افراد کے لئے سرکاری اداروں میں روزگار کی فراہمی کوٹے کے تحت یقینی بنا دی جائے ،غور طلب بات یہ ہے کہ معذور افراد کے لیے علیحدہ وزارت قائم کی جائے،اور بجٹ کا بڑا حصہ معذوروں کو قرض حسنہ دیا جائے تاکہ وہ اپنے پاوں پر کھڑے ہوسکیں یہ پیسے منصفانہ طریقے سے معذوروں کی بحالی پر خرچ کیے گئے تاکہ وہ بھی سکون کی زندگی گزار سکیں۔میری حکومت پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، چیف جسٹس پاکستان اور چا روں وزیراعلی صاحبان سے اپیل ہے کہ معزور افراد کے کوٹہ والے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے اورمیری اپیل ہے ان تما م پرائیوٹ اداروں سے کہ وہ معزور افراد کی ملازمت کے لیے اپنے اندر احساس پیدا کریں انہیں حیرت کی نظر سے نہ دیکھیں تاکہ معزور افراد بھی عام آدمی کی طرح اپنی زندگی گزار سکیں اور زمانے کے لیے مثال بن جائیں ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »