Latest news

ٹیکس کا بگڑا ہوا نظام اور ایمنسٹی سکیم کے اہداف کے حصول میں مشکلات

راقم کا تعلق قانون کے شعبہ سے ہے اِس کے ساتھ ساتھ راقم نے انکم ٹیکس لاءاور بزنس لاءپڑھایا بھی ہے۔راقم یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کی وصولی میں سب سے بڑی رکاوٹ اشرافیہ ہے۔ اشرافیہ نے جائیدادوں کے انبار لگا رکھے ہیں۔ سابق فوجی جرنیل سابق جج، سابق بیوروکریٹ، سرمایہ دار، سیاستدان، تاجر، کرپٹ صحافی اِس ملک کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ یوں جب عام طبقہ دیکھتا ہے کہ اشرافیہ کے لےے سب کچھ جائز ہے اور اشرافیہ ملک کے سارئے وسائل کوکھار رہی ہے۔ عام آدمی کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ عام آدمی کے لےے صحت، تعلیم نام کی کوئی شے پاکستان میں سرکار کی جانب سے مہیا نہیں کیجارہی تو اِن حالات میں پھر عام طبقہ بھی اشرفیہ کی طرح ٹیکس چوری کو اپنا حق سمجھتا ہے ۔اِس کے ساتھ ساتھ حکومتی مشینری خود ٹیکس چوروں کوٹیکس چوری کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ نیب کو سب سے پہلے نوکر شاہی کو پکڑنا چاہےے اِن کی جائیدادوں کو سراغ لگانا چاہےے۔ ایف بی آر کے کرپٹ افسران کو قانون کے کٹہرئے میں لانا چاہےے۔ اِس وقت صر ف تین سو افراد یا ادارئے ٹوٹل ٹیکس کا پچاس فی صد دے رہے ہیں۔اِن حالات میں حکومت کو چاہےے کہ انقلابی انداز میں کام کرئے کھانے پینے کی اشیا ءپر ٹیکس لگا کر غریب کے منہ سے نوالا نہ چھینے۔ بلکہ کرپٹ افراد کے پیٹ پھاڑ کا قومی دولت جو لوٹی گئی اُسے قومی خزانے میں لایا جائے۔ وفاقی کابینہ نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی باضابطہ منظوری دے کر اور اس کا نفاذ صدارتی آرڈیننس کے ذر یعہ سے کردیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سکیم کا مقصد محصولات اکٹھے کرنا نہیں بلکہ بے نامی جائیدادوں کو قانون کے دائرے میں لے کر آنا ہے۔
ایمنسٹی سکیم کے خدو خال یہ ہیںکہ ان افراد کے علاوہ جو عوامی عہدہ رکھتے ہیں کوئی بھی پاکستانی 30 جون تک اس سکیم میں حصہ لے سکتا ہے۔ اس سکیم سے وہ افراد استفادہ حاصل نہیں کر سکتے جو عوامی عہدے رکھنے والوں کے زیر کفالت ہیں۔چار فیصد ٹیکس دے کر بلیک منی کو وائٹ کیا جاسکتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر کسی کے پاس دس ہزار امریکی ڈالر کی بلیک منی ہے اور وہ اس رقم کی ڈاکومنٹیشن کروانا چاہتا ہے تو اس کو اس رقم پر چار فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا اس کے علاوہ اس پر یہ بھی شرط عائد ہوگی کہ وہ اس رقم کو پاکستانی بینکوں میں رکھوائے۔ اگر وہ شخص اس رقم کو پاکستانی بینکوں میں نہیں رکھوانا چاہتا اور اسے بیرون ملک ہی رکھنا چاہتا ہے تو وہ دو فیصد مزید ٹیکس ادا کرے گا۔ بے نامی جائیداد کو بھی قانونی شکل دینے کے لیے اس سکیم کے تحت اقدامات کیے گئے ہیں۔ سکیم کے تحت بے نامی جائیداد کی قمیت کا اندازہ ایف بی آر کے مقررہ کردہ نرخوں سے ڈیڑھ فیصد زیادہ لگایا جائے گا تاکہ اس جائیداد کی قیمت مارکیٹ ریٹ کے قریب رہے۔ اگر کوئی اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھائے گا تو پھر قانون حرکت میں آئے گا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی اور ان کی جائیدادیں ضبط کرلی جائیں گی۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس سکیم کا مقصد کسی کو ڈرانا دھمکانا نہیں بلکہ کاروباری طبقے کو اس جانب راغب کرنا ہے کہ وہ اس سکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بےنامی جائیدادوں کو قانونی شکل دیں۔س سکیم سے صدر،وزیراعظم، گورنر،وزائے اعلیٰ اور اراکین پارلیمنٹ فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے پیش کی جانے والی ٹیکس ایمنسٹی سکیم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں لائی جانے والی ایمنسٹی سکیم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اس سکیم میں کالا دھن سفید کرنے والوں کو ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا گیا تھا جبکہ موجودہ سکیم میں یہ لازمی ہوگا کہ وہ ٹیکس گوشوارے بھی جمع کروائیں۔ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سکیم میں ایسے افراد سے، جنھوں نے اپنی دولت ڈیکلئیر کی مگر کسی ملکی بینک میں جمع نہیں کروائی، کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی تھی جبکہ موجودہ حکومت کی سکیم میں اس شخص پر لازم ہوگا کہ اس نے جو رقم ڈیکلئیر کی ہے اس کو کسی بینک میں جمع کروائے اور اس پر ٹیکس بھی دے۔اس سکیم کے تحت مستفید ہونے والے افراد کے کوائف کو سامنے نہیں لایا جائے گا اور اگر کوئی سرکاری اہلکار ان کوائف کو سامنے لانے میں ملوث پایا گیا تو اسے ایک سال قید کے ساتھ ساتھ دس لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس سکیم کو دو ماہ پہلے متعارف کروانا چاہتی تھی تاہم متعدد وزرا کی طرف سے اس سکیم کی مخالفت کی وجہ سے اس معاملے(جاری ہے)


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.