جمہوریت اب آئے گی!

حیرت ہوتی ہے کہ حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتیں جمہوریت کے لیے بظاہر تو سنجیدگی دکھا رہی ہیں مگر عملاً اس کے بر عکس ہیں۔ ان کی تنظیموں میں اختلاف رائے کی آزادی نہیں اور نہ ہی ان میں اہم عہدوں پر کارکنوں کو تعینات کرنے کا رواج ہے۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جمہوریت لفظ عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے !
یہ کہنا بھی نا مناسب نہ ہو گا کہ ان دو جماعتوں نے جو جمہوریت پسندی کی گردان الاپنا شروع کر رکھا ہے مہذب ممالک کو یہ تاثر دینا ہے کہ وہ جمہوری اقدار کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔ مگر مقتدر حلقے انہیں ایسا کرنے سے روک رہے ہیں؟
معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ دونوں جماعتوں کے سربراہوں نے اب تک نظام مساوات کے لیے کوئی سرگرمی نہیں دکھائی وہ دولت اور اختیارات کا ارتکار اپنے ہاتھوں ہی میں کرتے آئے ہیں شاید انہوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ اگر کوئی دوسرا جماعت کی کمان کرتا ہے تو ان کے پروگراموں پر عمل در آمد نہیں ہو پائے گا کسی کارکن یا کارکن نما کو اپنی جماعتوں کے کُلی اختیارات نہیں تفویض کیے…. مگر یہ بات درست نہیں ثابت ہو سکی کیونکہ عوام کی حالت جوں کی توں رہی بلکہ خراب سے خراب تر ہوتی گئی ….اس طرح جماعتی آمریت بھی تو انا ہوتی گئی جس کے نتیجے میں آج بد عنوانی کے سمندر جنم لے رہے ہیں جن کا انکشاف ہر گزرتے دن کے ساتھ ہو رہا ہے۔بہر حال یہ دونوں بڑی جماعتیں عوام دوست ہیں نہ جمہوریت پسند ان کے کرتا دھرتا تو آپس میں بھی ایک دوسرے کی حاکمیت کو ٹیڑھی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور چاہ رہے ہوتے ہیں کہ کسی طرح وہ سیاست ہی سے دستبردار ہو جائے اور وہ سنجی گلیوں میں تنہا پھرے لہٰذا جمہوریت ایک ڈھونگ ہے۔ جب تک لوگوں کو بنیادی حقوق نہیں دے دیے جاتے انصاف سستا، سہل اور عام نہیں کر دیا جا تا تب تک یہ کہنا کہ ہم جمہوریت کے لیے کوشاں ہیں ایک دھوکا ہے۔ میں اس موضوع پر کھل کر بہت پہلے کئی کالم لکھ چکا ہوں۔
مذاق بنا رکھا ہے ان لوگوں نے جمہوریت کو ، جمہوریت کا آغاز اس وقت ہو گا جب عوام خوشحال ہوں گے بدعنوانی کا خاتمہ ہو گا سرکاری ادارے میرٹ کے راستے پر گامزن ہوں گے پھر عدم برداشت کا مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوگا۔ چند روز پہلے ایک مقامی ہوٹل میں اس حوالے سے ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا برادرم نواز کھرل نے دعوت نامہ بھیجا تھا۔ مقررین اچھی اچھی باتیں کر رہے تھے مگر انہوں نے نظام حیات سے متعلق بہت کم گفتگو کی کہ اگر یہ ٹھیک ہو جاتا ہے تو عام زندگی میں ٹھہراﺅ آ جاتا ہے تعلیم مفت بھی فراہم کر دی جائے تو معاشی بد حالی اور انصاف کے مہنگا اور اس تک رسائی نہ ہونے سے سماج کے اندر نفرت اور دوسروں کے وجود کو تسلیم نہ کرنے کا رجحان تقویت پکڑتا رہے گا۔ پھر یہ کہ اگر ہم اس نکتے کو قبول کر اور سمجھ لیتے ہیں کہ ہر بیج میں شوق نمو ہے اور اس کی اہمیت ہے تو برداشت کا توازن بگڑنے نہیں پائے گا مگر اس پہلو پر ابھی تک ریاست نے نہیں سوچا اور شور مچا رہی ہے کہ یہ ہمیں کیا ہو گیا ۔۔؟
ہاں تو بات ہو رہی تھی جمہوریت کی تو یہ کسی کے کہنے اور سوچنے سے نہیں آ سکتی یہ تو اس وقت آئے گی جب ہم خلوص نیت سے اس کو لائیں گے یعنی اس کے تمام تقاضوں کو پورا کریں گے لہٰذا اپنے لیے تو اس کی ضرورت کا واویلا کرنا مگر عوام کو اس کے ثمرات سے محروم کرنا انصاف نہیں۔ اور یہی نا انصافی ہر ایک کو رُلا رہی ہے رسوا کر رہی ہے اور ذلیل بھی۔
میں تو یہ کہتا ہوں کہ ہمارے حکمران طبقے نے اگر اس کو پچاس فیصد بھی نافذ کر دیا ہوتا تو اس وقت جو منظر ہاو¿ ہو، پکڑ دھکڑ اور تحقیق و تفتیش ابھرا ہے نہ ابھرتا۔ خود احتسابی جاری رہتی غلطیوں اور کوتاہیوں کا انبار نہ لگتا مگر کسی نے بھی نہ سوچا بس چلتے رہے کہ اسی طرح ہی چلنا ہے مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ کہ باغ اجڑتا رہے اور مالی کے ماتھے پر پسینہ نہ آئے اور اس کی آنکھیں نمناک نہ ہوں۔ عوام کو اجڑتے باغ پر دکھ اور افسوس ہونا ہی تھا لہٰذا انہوں نے دہائی دینا ہی تھی اور اس پر رد عمل بھی ظاہر ہونا تھا۔ سو وہ ہو چکا ریاستی ادارے متحرک ہو چکے ہیں اور وہ پوچھ گچھ کی دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے سوال کر رہے ہیں۔ کہ بھاری رقوم کے تم مالک کیسے بن گئے کہ لوگ زندگی کو غربت و نا انصافی کی وجہ سے ایک بوجھ محسوس کرنے لگے ہیں مگر وہ جواب میں کہتے ہیں کہ آپ کو اس سے کیا غرض۔ وہ کیوں بتائیں انہیں سینہ زوری کی انتہاءہے یہ۔ یہ سینہ زوری ہی تھی کہ ان کے عہد میں کمزور ، بے بس ، مجبور اور لاچار عوام کے جائیدادیں ان کے ہاتھوں سے نکل گئیں ان پر بد معاشوں غنڈوں ، اشتہاریوں اور قانون شکنوں نے قبضہ کر لیا۔ اب تک وہ مارے مارے پھرتے ہیں۔ میری عمران خان سے در خواست ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے وقت نکالیں زمینوں جائیدادوں اور مکانات پر قابض افراد کی خبرلیں۔ اس کے لیے میں ایک الگ سے تحریک چلانے والا ہوں۔ کیونکہ میں بھی متاثرین میں سے ہوں۔۔!!
بہر حال موجودہ حکومت کو داد دینی چاہیے کہ اس نے بد عنوانی جو غیر جمہوری رویوں کی پیدا وار ہے کے خلاف کئی برس سے اعلان جنگ کر رکھا ہے اور لگ رہا ہے کہ وہ اس کو منطقی انجام تک پہنچا کر ہی دم لے گی۔ اگرچہ اسے تنقید کا سامنا ہے کہ دیکھیں جی اس کے اندر بھی تو کچھ لوگ قابل احتساب ہیں انہیں بھی پوچھا جانا چاہیے ، عمران خان وزیر اعظم نے کب کہا ہے کہ انہیں قانون کے کٹہرے میں نہیں کھڑا کیا جا سکتا وہ تو خود کہتے ہیں کہ احتساب سب کا ، یقین جانئے یہی جمہوریت ہے جو اب تک یہاں نہیں آ سکی کہ لوٹ مار کا بازار گرم رہا۔ اور ریاست کی بقا و سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے جسے بچانے کے لیے اہل خرد اور ذمہ داران نے اپنا کردا ادا کرنے کا آغاز کر دیا ہے اب جہاں جہاں بد عنوان اور ان کے ہمدرد چھپے بیٹھے ہیں وہ ضرور پکڑے جائیں گے چاہے وہ کتنا ہی خود کو دبیز چادروں کی بکلوں میں چھپا ئیں، دیکھنے والی آنکھیں انہیں ڈھونڈ نکالیں گی کیونکہ انہوں نے ملک کے ہر شعبے میں بد عنوانی کا زہر داخل کر کے اس کے وجود کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ سماجی بربادی کو ممکن بنایا مگر اب ایسا نہیں ہو گا۔ احتساب ہو گا اور حقیقی جمہوریت آئے گی جو ہر دُکھ کو سُکھ میں بدل دے گی!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.