اہم خبرِیں

کرونا وائرس اور موجودہ تعلیمی صورتحال

دنیا بھر کی طرح کرونا وائرس کی وبا نے پاکستان کو بھی بری متاثر کیا ہے۔تازہ ترین اعداد و شمار کیمطابق اسوقت پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد چالیس ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ملک بھر میں ایک ہزار کے لگ بھگ افراد اس وبا کے نتیجے میں زندگی کی بازی ہار گئے ہیں، چین کے شہر وہان سے شروع ہونیوالی اس عالمی وبا نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ 60سے زائد ممالک میں پھیلے اس وائرس سے چین، امریکہ، اٹلی، برطانیہ جیسے ممالک بھی شدید متاثر ہوئے جہاں اموات کی تعداد لاکھوں میں ہے تاہم ایشیائی ممالک میں مغربی ممالک کی نسبت تاحال شرح اموات کم ہے۔کرونا وائرس سے بچاؤ اس وقت پوری دنیا کیلئے چیلنج بن چکا ہے۔پاکستان میں اس سے نمٹنے کیلئے حکومت نے ابتدائی طور سے ہی جزوی لاک ڈاؤن کی حکمت عملی بنائی اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین کی گئی۔ لاک ڈاؤن کے پیش نظر جہاں معیشت سمیت دیگر چیلنجز نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا وہیں تعلیمی شعبہ کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوا۔تعلیمی اداروں کی بندش کا مسئلہ تمام ممالک کیلئے یکساں ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ کرونا کے برعکس چھ ایسے ممالک بھی ہیں جنہوں نے تعلیمی اداروں کو ایک دن کیلئے بھی بند نہیں ان ممالک میں بیلا رس ترکمانستان، تاجکستان، گرین لینڈ،نکاراگوا،پاپوانیوگنی شامل ہیں حیران کن طور پر ایسے ممالک جہاں کرونا نے شدید متاثر کیا وہاں بھی جزو ی طور پر تعلیمی ادارے کھلے ہیں جن میں امریکہ، روس، چین، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ،جرمنی، جاپان وغیرہ شامل ہیں۔ مذکورہ تمام ممالک میں دنیا بھر سے زیادہ اموات دیکھنے میں آئی لیکن فروغ تعلیم کا سلسلہ نہ رک سکا، ترقی کے اعتبار سے چیمپئین ان ممالک نے شدید متاثرہ علاقوں میں بھی جزوی تعلیمی ادرے بند کئے مگر جہاں وائرس کی شد ت کم محسوس کی گئی وہاں بدستور تعلیمی اداروں میں کام جاری ہے۔یقینی طور پر تعلیم کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈ ی کی حییثیت رکھتی ہے جن ممالک میں اس اہم فریضے کو غیر معمولی حالات میں بھی ترجیج دی جاتی ہے وہاں امن سکون خوشحالی ترقی مقدر بن جاتی ہے۔ ان ممالک نے آن لائن نظام تعلیم موجود ہونے کے باوجود ایس او پیز اور حفاظتی اقدامات اٹھا کر تعلیمی ادارے کھولے جو انکی تعلیم سے متعلق اہمیت و زوایہ سوچ کی مثبت عکاسی کرتے ہیں۔پاکستان میں اسوقت سرکاری جامعات کے 180سے کمیپسسز ہیں جہاں لاکھوں طلبائ زیر تعلیم ہیں، اسی طرح کالجز اور سکولز میں زیر تعلیم طلبائ کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن گزشتہ دو ماہ سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے لاک ڈاؤن کے باعث بند ہیں۔حکومت کی جانب سے 15جولائی تک تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ نویں اور گیارہوں کلاسسز میں زیر تعلیم طلبائ کو بالترتیب دسویں اور بارہویں جماعت میں سابقہ نمبرز کی بنیاد پر بغیر امتحا نات پرموٹ کیا جائیگا اورجامعات کے طلبائ آن لائن امتحانات دینگے۔وفاقی حکومت کی جانب سے یہ اقدام اہل علم کے ذہنوں میں کئی سوال چھوڑ گیا ہے کہ اگر تعلیم ہماری بنیادی ترجیحات کا حصہ نہیں ہے تو تعلیمی تنزلی سے آنکھیں چرانا ہمارا شیوہ کیوں ہے، اگر ہم دنیائی ممالک سے اپنا موازنہ کریں تو کوئی بھی پاکستانی جامعہ دنیا کی بہترین 500جامعات کی فہرست میں شامل نہیں۔ حکومت نے متبادل نظام تعلیم کیلئے جامعات کی سطح پر آن لائن کلاسسز کا انتخاب کیا گیا، اس ضمن میں طلبائ کی جانب سے شدید رد عمل دیکھنے میں آیا جسکی بنیادی وجہ حکومت اور ہائیر ایجو کیشن کمیشن کی جانب سے میکنزم ترتیب نہ دیا جانا تھا کیونکہ ہم ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے اس کیلئے مکمل طور پر تیار نہ تھے۔مگر متعلقہ اداروں کی جانب سے طلبائ کو آن لائن نظام تعلیم کے تحت اپنی حاضری یقینی بنانا لازمی قرار دیا گیا تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے فیسوں میں کمی کا کوئی اعلان بھی سامنے نہ آسکا۔ گھروں میں قید متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے والدین کیلئے یہ مشکل مرحلہ ہے کہ وہ کسی طور اپنے بچوں کیلئے تعلیم کے دروازے بند نہیں کرسکتے مگر دوہ ماہ سے معاشی حالات کے باوجود کوئی رعایت بھی انکا مقدر نہیں بن سکتی۔اضطراب او ر بے چینی کی کیفیت میں والدین اور طلبائ دنوں پریشان ہیں کہ آخر کب تک ہم بیساکھیوں کے سہارے اپنے تعلیمی نظام کو چلا پائیں گے یا ہم کب تک عالمی سطح پر جاری بہترین ذرائع سے استفادہ کرنے کیلئے کوئی حکمت ترتیب دینگے۔کیونکہ دنیا بھر کے ماہرین اور حکومتیں کسی یقین کے ساتھ یہ نہیں بتا سکتے کہ ہم کب تک اس وائرس سے مکمل طور پر چھٹکارہ حاصل کرپائیں گے۔ کرونا وائرس سے متعلق عالمی طبی ماہرین دو قسم کی چہ مگوئیوں کررہے ہیں کہ شاید ہم اس سال کے اختتام تک اس وائرس کا علاج یا اس سے چھٹکارہ نہ پاسکیں یا دوسری صورت یہ ہے کہ ہمیں اس وائرس کی موجودگی میں جانے کب تک معمولات زندگی چلانا ہونگے، اس لحاظ کسی بھی مفروضے کو قائم کئے بغیر حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلہ پر مسلسل غور کرنا ہوگا کیونکہ موجودہ تعلیمی صورتحال کے پیش نظر کسی صورت میں لمبے عرصے کیلئے نہ تعلیمی ادارے بند کئے جاسکتے ہیں اور نہ ہی متبادل آن لائن سسٹم اتنی سکت رکھتا ہے کہ اسے طویل مدت کیلئے بروئے کار لایا جاسکے، اب جبکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد تمام مارکیٹس کو کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے وہیں تعلیمی اداروں سے متعلق ایس او پیز اور جامع پالیسی مرتب کرکے تعلیمی عمل جاری رکھا جاسکتا ہے، طلبائ اس معاشرے کا پڑھا لکھا طبقہ ہیں لہذا کالجز اور جامعات کی سطح پر طلبائ ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے حکومت کے معاون ممدن ثابت ہوسکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ طویل المدتی بنیادوں پر حکمت علمی بنا کر پاکستان کے مستقبل یعنی نوجوانوں بالخصوص طلبائ کو محفوظ مواقع فراہم کریں تاکہ وہ تعلیمی میدان میں اپنی کامیابیوں کے ذریعے ملک و ملت کی خدمت کرسکیں اور بطور شہری ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم مشکل کی اس گھڑی میں ریاستی اداروں اور حکومت کے ساتھ تعاون کریں، یہ وقت کڑا امتحان ہے کہ ہم ہجوم یا قوم کی تفریق میں فرق واضح کریں کیونکہ ان حالات کا سامنا فقط مل جل کر اور سماجی رویوں میں تبدیلی لاکر ہی ممکن ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.