کورونا اور عوامی رائے۔ ایک سروے

کورونا اور عوامی رائے۔ ایک سروے

جنید منصور

کورونا وائرس انتہائی شدت سے پوری دنیا پر حملہ آور  ہوا ہے۔کچھ ملک شدید متاثر ہوئے  ہیں ، کچھ  میں اس کی تباہی تھوڑی کم ہے۔ تاحال خبروں کے مطابق اب تک دنیا کے تقریبًا ۱۹۰ کے لگ بھگ ملک اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہمارا ملک بھی اس کی تباہ خیزیوں کا شکار ہوا ہے۔  اس کے اثرات  کو جاننے کے لئے میں نے ایک سروے کیا  ” آپ کے مطابق کرونا کیا ہے؟ ” اس کے جوابات کی روشنی میں آئیں دیکھیں کہ ہماری عوام اور اعلی عہدیدار  کرونا  اور اس کے اسباب کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہٰیں:

حکومتی ترجمان: یہ گذشتہ حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے!

اپوزیشن رہنما: یہ موجودہ  حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے!

وزارت خارجہ: حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کس  طرح   موڈیز کی رینکنگ ، عالمی معاشی دباؤ   اور وار آن ٹیرر کی تزویراتی حقیقت کے مدنظر  ہمسایہ ممالک  کی طرف سے کی جانے والی جانے والی کاروائیوں کے نتیجے میں اس ” یونی پولر ورلڈ” میں اس واقعے کا وقوع پذیر ہونا  اقوام متحدہ کے  آئین کی روشنی میں دئے گئے  بنیادی حقوق کی کس کس  شق کی خلاف ورزی ہے۔

وزارت داخلہ: حکومت نے ہر داخلی اور خارجی  راستے پر ناکہ بندی کے مؤثر ، جا مع اور مربوط  پلان کے تحت  ایک  سنٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھاررٹی قائم کر دی ہے جو  تما م عمو می و خصوصی حالات ، موسم اور  پبلک گیدرنگز کی ارتکاز پذیری اور  شعور  پیمائی کی منظم اور مربوط کوششوں کی کوشش کو یقینی بنانے کے لیۓ حکومت کو  مشورہ دینے کی   منصوبہ بندی  کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنانے کی فی الفور  تجویز دینے کی کوشش کرے گی۔

تاجر طبقہ: چائنہ کے بڑھتے ہوئے  تجارتی اثر و رسوخ  اور  ثقافتی و سماجی  نفوذ پذیری کے زیر احتمال  ایک جامع اور مؤثر پروگرام  کی تشکیل کے لئے تمام تاجر  تنظیموں کا ایک  ملک گیر اجلاس بلایا جائے گا  اور  ایک ملک گیر ہڑتال کی کال دی جائے گی۔

ٹریڈ یونین رہنما:یہ صرف اور صرف مزدور کے استحصال کی ایک کوشش ہے جو  سرمایاداروں کی ایک اجتماعی سوچ سے پیدا ہؤا ہے اور ہم تمام مزدور بھائی اس سازش کو ملکر ناکام بنائیں گے اور  اس کے پیچھے چھپے تما م  سازشی کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

ڈاکٹر:کروییا پیلیفورفک ” اینوی لوپ ” ذرات جس میں سنگل پھنسے ہوئے (مثبت احساس) آر این اے ہیں جو میٹرکس پروٹین پر مشتمل کیپسڈ کے اندر نیوکلیوپروٹین کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ” اینوی لوپ ” میں کلب کی شکل کے گلائکوپروٹین کے تخمینے ہیں جو  ہمارے  طریقۂ علاج اور سمجھ سے بالا تر ہیں۔

پڑھا لکھا طبقہ:جی یہ ایک انتہائی عمدہ ، نفیس، لذیذ اور  غلیظ قسم کا وائرس ہے جو ہمارے  جسم سے زیادہ ہماری نفسیات، ہمارے شعور، تحت الشعور اور لاشعور کی  لا منتہا اور  اتھاہ گہرائیوں  کے بین بین رہتے ہوئے  ہمارے عمل کے محرکات  کے جامد ہونے تک ساکن نہیں ہوتا اور  پرو ایکٹو لی یہ  سالمہ تمام تر  ڈی۔این۔اے  کے اندر حلول کرتے ہوئے  ہمارے جینیٹک  میک اپ کو شدت سے شیک اپ اینڈ ڈأون کر کے ان افراد  کو کیپچر کر لیتا ہے جو اٹلی۔ سپین یا فرانس سے زیادہ تر تشریف لائے ہیں۔

پولیس والا: یہ  لہو گرم رکھنے کا ایک ٹول ہے جو کھلی دکانوں کو بند کروانے اور اس کوشش میں پکڑے جانے والے لوگوں کو چھوڑنے کے صلے میں  ملنے والی  سلامی کا ضامن  بھی ہے۔

سبزی والا:”یہ نامراد  کیٹرا  صہیونی سازش ہے۔  وہ ۵۰ سال سے اس کی پلاننگ کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ کیڑا  کوکوکولا اور  پیپسی کی بوتلوں میں ڈال کر چھوڑا ہے۔

حجام: یہ عالمی امریکی سازش ہے۔یہ وائرس امریکہ نے  اسلامی دنیا  کو تباہ کرنے کے لیے  پھیلایا تھا  اور وہ تمام عالم اسلام  پر اپنا غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

گوالا:  کرو نا شرونا  کجھ وی نئیں ہے وے۔ ایویں ڈرامہ کیتا اے  اوام نوں  بے نقوف بنان دا۔ اہیناں نوں باروں فنڈ آوئندے نے، ہور کوئی چکر نیں ہے وے!

وکیل:   یہ تزویرات پاکستان کی دفعہ فلاں فلاں کے  تحت  بنیادی انسانی حقوق ، امن و امان اور نقص امن کی صورت حال کے پیش نظر  ہونے والی حالیہ تبدیلیوں  اور ایمرجنسی  سچؤیشن  میں ہونے والے واقعات کے تناظر  میں  کی جانے والی  بنیادی شقوں اور  پروونشل اٹانومی کے  تحت  صوبوں کو دئے گئے اختیارات کی  جانچ کی طرف ایک اہم قانونی قدم ہے۔

پروفیسر:  دراصل اس ”فینومی نن” کی  داغ بیل  کمیونسٹ  سوچ  ،  آئرن کرٹن کے زوال اور کولڈ وار کی  گرمی سے پیدا ہونے والے ان تمام  عناصر کی”  ڈی ٹانٹ” کے بنیادی فلسفہ  کی عمومی جزویات کو   کنزیومرزم  کی کشش اور اکنامک بلاکز کی  بڑھتی ہوئی کامیابی میں دیکھنے سے ہوئی جو رفتہ رفتہ  کارپوریٹ ورلڈ کی خیرہ کر دینے والی چکا چوند اور ڈالر کی ریل پیل  میں معدوم ہو گیا اور  دنیا   گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر  ایک نئے دور میں  ” وار آن ایررزم” کی سرد گرمی سے برسر پیکار ہو گئی۔

!عام آدمی:   میں پہلے بھی مر رہا تھا، میں اب بھی  مر رہا ہوں


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.