Daily Taqat

”پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ“ کو ”سروسز ہسپتال“ سے منسلک کرنا ،نامنظور

آج کل خبر گرم ہے کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہور کو سروسز ہسپتال سے منسلک کر نے کے اقدامات فائنل مراحل میں ہیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ فیصلہ حکومتی فیصلہ انتہائی احمقانہ ہے ۔ڈاکٹر یاسمین راشد کا تعلق میڈیکل کے شعبے ہیں انہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ اس قسم کے غیر معقول فیصلے کریں۔اگر ان سے کوئی مناسب فیصلہ نہیں ہو پاتا تو کسی صاحب علم سے مشورہ لے لیں! یہ قطعاً بے عزتی کی بات نہیں ہے۔انسان جہاں کسی معاملے اور مسئلے کو حل نہیں کر پاتا یا اس کو حل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا وہ کسی ماہر سے امداد طلب کر لیتا ہے اور مشورہ لینے والے کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔ایسے فیصلے جن کے اثرات لاکھوں افراد پر اثرانداز ہوں ان میں ماہرین کو شامل رائے کرنا لازم بھی ہے اور ضروری بھی۔
کبھی کبھی تو میں حیرانیوں کی وادیوں میں کھو سا جاتا ہوں۔ایک طرف تو ایک نام نہاد رہنما وطن عزیز کو ریاست مدینہ بنانے کے خواہاں ہیں دوسری جانب ان کی کابینہ کے وزراءغیر دانشمندانہ بیانات اور فیصلے کچھ اور ہی ظاہر اور ثابت کرتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے اسے نفسیات و دماغی امراض پر تحقیق کے مقصد کے لیے یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے اور اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا جائے۔میڈیکل اور خصوصاً نفسیات سے وابستہ تمام تنظیمیں حکومت کے اس عمل پر سراپا احتجاج ہیں ۔تحریک انصاف حکومت اپنے اس فیصلے کو فی الفور واپس لے
پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہورپاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے جو نہ صرف پنجاب اور پاکستان کے دیگر صوبوں کو ذہنی صحت کے حوالے علاج معالجہ کی سہولیات مہیا کرتا ہے بلکہ آزاد جموں و
کشمیرکے لوگ علاج کی غرض سے یہاں رخ کرتے ہیں۔یہ پچاس ایکڑ اراضی پر پھیلا وسیع و عریض ہسپتال ہے جہاں 1400بیڈز کا انتظام ہے جبکہ آﺅٹ ڈور میں روزانہ 500 تا600مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ وارڈ ز کے گرد و نواح کو سرسبز درختوں اور پھولوں نے اپنی آغوش میں لے رکھا ہے۔ذہنی امراض کے لیے جدید سہولیات سے آراستہ” پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہور“کا شمار جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے ہسپتال میں ہوتا ہے ۔
جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو
لوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لو
یہ نیا شہر تو ہے خوب بسایا تم نے
کیوں پرانا ہوا ویران ذرا دیکھ تو لو
پھر مقرر کوئی سرگرم سر منبر ہے
کس ہے قتل کا سامان ذرا دیکھ تو لو
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2کروڑ افراد کسی نہ کسی مرض کا شکار ہیں یوں کم و بیش ہر پانچواں فرد ذہنی طور پر بیمار ہے ۔ان کے لیے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہورکسی نعمت سے کم نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں فروغ اور توسیع کا کام ہونا چاہئے تاکہ عوام کے سہولتوں میں مزید اضافہ ہو سکے۔اتنے بڑے ادارے کو ایک عام ہسپتال سے جوڑنا اور چھوٹے سے وارڈ کی شکل دینا سوائے خسارے،نقصان اور بے حسی اور کچھ نہیں۔
برصغیر میں دماغی امراض کے علاج سہرا ڈاکٹر ہانگبرگر(Dr.Honigberger) کے سر ہے۔ وہ اپنی کتاب©Thirty Five Years in The Eastمیں بتاتے ہیں کہ انہوں نے ابتدائی طور پر 1812 ءمیں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے اصرارپر ریاست کے فزیشن کے طور خدمات انجام دیں ۔شروع میں ان کی خدمات شہر کے مشاہیر کے لیے مخصوص تھیں ۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد وہ جنرل ہسپتال میں مریضوں کے معائنے کے لیے تعینات کیے گئے۔جہاں ڈاکٹرہانگبرگر نے نفسیات و دماغی امراض کا ایک وارڈ قائم کیا۔لاہور کو شرف اور اعزاز حاصل ہے کہ برصغیر میں ذہنی امراض کی پہلی علاج گاہ کی داغ بیل یہاں ڈالی گئی۔
انگریزوں کی برصغیر میں حکومت کے ساتھ ہی ڈاکٹر ہانگبرگرنے اپنے مریضوں کو لاہور کے ایک سرجن ڈاکٹر سمتھ(Dr Smith)کی طرف روانہ کر دیا۔دریں اثنا ءلاہور کے جوڈیشنل کمشنر لاہور مسٹر رابرٹ نے دماغی امراض کے ہسپتال کی تجویز پیش کی ۔ جسے عملی جامہ پہنایا گیا اور اس مقصد کے لیے وہی جگہ مختص کی گئی جہاں آج پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہورواقع ہے۔مذکورہ ادارے کا قیام 1900ءمیں لایا گیا جس کے پہلے ایم. ایس ماہر نفسیات کرنل ڈاکٹر ایون(Col Dr.Ewen)مقرر ہوئے ۔وہ 1914ءتا دم حیات اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ادارے کو 1922ءتک ایم۔ایس کے بغیرگزارا کرنا پڑا۔ بعد میں مختلف ذمہ دار اور فرض شناس ڈاکٹرز ایم۔ایس تعینات ہوئے اور جاں فشانی سے ادارے کی کامیابی اور مریضوں کی شفایابی میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔1900 ء میں قائم ہونے والے مذکورہ ہسپتال کو ”گورنمنٹ مینٹل ہاسپیٹل“لاہورکا نام دیا گیا تھا جس کا نام 1996 ء میں بدل کر ”گورنمنٹ ہسپتال فار سائیکاٹرک ڈیزیزز“ رکھا گیا۔2002ء میںگورنمنٹ ہسپتال فار سائیکاٹرک ڈیزیززکا نام ایک بار پھر بدل کر“ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ“ لاہور مقرر کیا گیاجو تاحال قائم ہے۔
جیسا کہ میں کالم کے آغاز میں بتایا تھا کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہورپاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے جو نہ صرف پنجاب اور پاکستان کے دیگر صوبوں کو ذہنی صحت کے حوالے علاج معالجہ کی سہولیات مہیا کرتا ہے۔خدارا! حکومتی ذمہ داران اور حکام بالا اس ادارے کو تباہ کرنے سے باز رہیں! پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہورمیں باقاعدہ ایمرجنسی کا شعبہ ایک الگ عمارت میں قائم ہے جہاں ایک ایڈیشنل میڈیکل سپریٹنڈنٹ اور تین ایمرجنسی میڈیکل آفیسرز تعینات ہیں جبکہ دیگر اسٹاف علاوہ ہے ۔ایمرجنسی بلاک میں 24گھنٹے بلا تعطل خدمات سر انجام دی جارہی ہیں ۔ میری وزیر اعظم پاکستان عمران خان،وفاقی وزیر صحت اور صوبائی وزیر صحت سے گزارش ہے کہ اس معیار کے اداروں میں اضافہ نہیں کر سکتے تو براہ کرم انہیں نیست و نابود نہ کریں! کالم کا اختتام ہمیشہ کی طرح اشعار پر ۔اس دفعہ اعجاز توکل کے دو شعر قارئیں اور بالخصوص وزیر صحت پنجاب کی نذر!
کھل کے انکار وہ نہیں کرتا
جانے اب کیا ہے اس کی نیت میں
فرق ہوتا ہے مختصر اعجاز
آدمی اور آدمیت میں


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »